کنٹرول لائن کی صورتحال

کنٹرول لائن کی صورتحال

نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ کنٹرول لائن پر حالات جلد بہتر ہوںگے ۔ اگر چہ کمان کی تبدیلی سے کام کرنے کا انداز اور طریقہ کار میں تبدیلی آئے گی من حیث المجموع سپہ سالار کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ جہاں تک کنٹرول لائن پر صورتحال کی بہتری کا تعلق ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ تین چار روز سے کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ ترک کر دیا گیاتھا مگر گزشتہ روز یہ سلسلہ پھر شروع ہوگیا ۔بھارت میں گزشتہ روز خالصتان تحریک کے سربراہ جیل سے فرار ہوئے تو بھی اس کا الزام پاکستان پر لگتا ہے اور الزام تراشی معمول بن چکا ہے ۔ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں دو ماہ کے دوران ایک اور بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملے میں میجر سمیت سات افراد کی ہلاکت پر پھر پاکستان کو موردالزام ٹہرادیا گیا ۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقہ رنگروٹہ میں بھارتی فوج کی سب سے زیادہ سرگرم شمالی کمان کا ہیڈ کوارٹر قائم ہے جس سے تین کلو میٹر فاصلے پر واقع فوجی اڈے کو نشانہ بنا یا گیا۔ اس یونٹ اور ہیڈ کوارٹر دونوں میں ورکنگ بائونڈری پر سرحدی خلاف ورزی کی منصوبہ بندی ہوتی ہے ۔ بھارت کی جانب سے اس واقع پر بھی پاکستان کو مطعون کرنے کی روایت کے اعادے کے بعد ایسا نظر آتا ہے کہ بھارت کنٹرول لائن پر کشید گی جاری رکھ کر خفت مٹانے کی کوشش جاری رکھے گا ۔ اس تناظر میں کہ پاک فوج کے سپہ سالار جو خود کنٹرول لائن کے معاملات پر عبور رکھتے ہیں اور انہوں نے اس امر کا عندیہ بھی دیا ہے کہ اب کنٹرول لائن کے حالات میں بہتر ی آئے گی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کنٹرول لائن پر حالات کی بہتری کیا فوجی طریقہ کار کے تحت لائی جائے گی۔ فوجی لائحہ عمل کی ضرورت و اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن ہمارے تئیں کنٹرول لائن پر حالات میں بہتری لانے کے لئے صرف یہ کافی نہیں ہوگا بلکہ اس مقصد کے لئے دونوں حکومتوں کے درمیان سفارتی ذرائع اور بات چیت بھی کرنے کی ضرورت ہوگی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان اسلام آباد میں سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کے بعد سے حکومتی اور سفارتی سطح پر کشیدگی کی صورتحال ہے مگر مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی بھارت میں کانفرنس میں شرکت سے صورتحال میں تبدیلی کی توقع ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدے کے احترام سے اس امر کی ابتداء کی جانی چاہئیے مگر صورتحال یہ ہے کہ 2016ء میں بھارت لائن آف کنٹرول پر تقریباً ایک سو بیاسی جبکہ ورکنگ بائونڈری پر اڑتیس مرتبہ سے زائد سیز فائرنگ معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے ۔گزشتہ دنوں بھارت اور پاکستان کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ کے بعد صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی حالات بہتر ہوتے ہیں دونوں ملکوں میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جس کے باعث غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور فضا مکدر ہو جاتی ہے ۔ جب تک اس طرح کی صورتحال ہو تب تک سرحد کے دونوں پار فو جی قیادت تبدیل ہو یا کوئی سیاسی حکومت بر سر اقتدار آجائے حالات میں بہتری ممکن نہیں ۔حقیقت پسندانہ امر بہر حال یہی ہے کہ اس طرح کی صورتحال دہائیوں سے چلی آرہی ہے او ر دہائیاں گزرنے کے بعد بھی حالات میں بہتری نظر نہیں آتی چنانچہ بالآ خر نظر پلٹ کر ایک مرتبہ پھر کنٹرول لائن پر ملکی دفاع پر مامور مسلح افواج اور فوجی قیادت کی طرف پلٹ آتی ہے ۔ جنرل باجوہ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ دسویں کور کے کمانڈر کی حیثیت سے انہوں نے سرحد ی صورتحال میں برداشت اور تحمل سے ہی کام لیاہے۔ تحمل وبردباری کی پالیسی سے اختلاف دونوں ممالک کے درمیان حالات میں کشید گی بڑھانے کے اقدامات کی حمایت ہوگی اور اگر بھارت کو ترکی بہ ترکی جواب نہ دیا جائے تو آئے روز وہ سرحدی خلاف ورزیوں میں اضافہ سے گریز کرنے والا نظر نہیں آتا او ر اگر تحمل سے کام نہ لیا جائے تو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے حالات میں جنرل باجوہ ایسی کیا حکمت عملی اختیار کریں گے جس کے نتیجے میں سرحدی صورتحال میں بہتری آئے گی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔البتہ اگر دونوں حکومتوں کے درمیان سفارتی روابط اور بیک ڈور ڈپلومیسی سے کام لیا جائے اور دونوں حکومتیں کشیدگی میں کمی لانے پر اتفاق کرلیں تو یہ ایک بہتر صورت ضروری ہوگی ۔دنیا کے ممالک کے درمیان سنگین سے سنگین اختلافات کا حل جنگ اور طاقت کا استعمال کبھی ثابت نہیں ہوا ہے بلکہ سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ کا نتیجہ بھی مذاکرات کی میز پر نکل آتا ہے ۔بھارت کے حق میں بہتر یہ ہوگا کہ وہ جتنی جلدی ہوسکے ہتھیاروں کی زبان استعمال کرنے کی بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے ۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کو کنٹرول لائن کی صورتحال پر ایک مرتبہ پھر مشاورت کے ساتھ ایسا لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے خطے میں امن سے درپیش خطرات میں کمی آئے ۔

متعلقہ خبریں