پولیو کے قطرے پلانے کی تر غیبی مہم

پولیو کے قطرے پلانے کی تر غیبی مہم

صوبائی دارالحکومت پشاور میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرنے والے والدین سے ڈپٹی کمشنر پشاور کی ماتحت اسسٹنٹ کمشنروں اور دیگر عملہ کے ساتھ گھر گھر جا کر انکاری والدین سے ملاقات اور ان کو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے کی تر غیب احسن قدم ہے جس کے مثبت نتائج مسلمہ ہوں گے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ والدین کے اپنے بچوں کی صحت کے حوالے سے مشوش ہونا فطری امر ہوتا ہے اس کے باوجود بعض والدین کا اپنے بچوں کو گھر کے دروازے پر آکر خدمات پیش کرنے والے رضا کاروں کے ذریعے پولیو قطرے پلوانے سے انکار کی وجہ لاعلمی ، جہالت او ر منفی پر پیگنڈے کے باعث ہی ہوگا۔ اس طرح کے والدین کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے گرفتاری جیسے اقدام کا بھی تجربہ کیا گیا لیکن یہ کا ر گر ثابت نہ ہوا ۔ ویسے بھی یہ امر سختی سے کام لینے کی بجائے ترغیب اور توہمات و تحفظات کو دور کر کے رضا مندی کے حصول کا متقا ضی تھا۔ ضلع حاکم کا عملہ سمیت کسی کے دروازے پرجانا ویسے بھی خاصا مئوثر اقدام ہوتا ہے مستزاد اگر ضلع حاکم کے پاس غلط فہمی دور کرنے کے معقول دلائل ہوں اور معترض وانکاری والدین کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو غلط فہمی کا ازالہ کسی مشکل کا باعث امر نہیں ۔اس طرح کے ترغیبی اقدام کا نتیجہ نہ صرف فوری مثبت نکلنا تھا بلکہ انکاری والدین کا آئندہ بھی اس عزت افزائی پر ضد سے باز آنا فطری امر ہوگا ۔خوش آئندامر یہ ہے کہ صوبے کے عوام کی غالب اکثریت پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے کے حق میں ہے اور انہوں نے ہمیشہ تعاون کیا ہے ایک پسماندہ ضلع کے عوام خاص طور پر قابل ذکر ہیں جہاں پولیو ٹیمیں مقررہ مدت کے اندر نہ جائیں تو لوگ از خود محکمہ صحت کے حکام سے رابطہ کرنے لگتے ہیں ۔ صوبائی دارالحکومت میں پولیو پر قابو پایا جا چکا ہے اور پورے صوبے سے بھی حالیہ دنوں پولیو کے کسی مریض کی اطلاع نہیں آئی لیکن بہر حال پولیو کے انسداد ی قطرے پلانے کی ضرور ت ابھی باقی ہے جس کے لئے حکام کو پو لیو ٹیمو ں کی حفاظت کے بندوبست کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ترغیب اور آگاہی کے ذریعے اپنے بچوں کو رضا کارانہ طور پر پولیو کے قطرے پلانے کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ ڈپٹی کمشنر پشاور نے کہا محکمہ صحت کے ضلعی حکام کو بھی اس عمل کی تقلید کرنے کی ضرورت ہے ان کے اس طرح کے رابطو ں کا دوہرا فائدہ ہوگا کہ ڈاکٹروں کی ٹیمیں گائوں گائوں جائیں تو مختلف تکالیف کا شکار مریضوں کا علاج معالجہ بھی کر سکیں گے اور ان کو طبی مشورے بھی رہیں گے ایسے میں پولیو کے قطرے پلوانے کی طرف لوگ خود بخود راغب ہوں گے ۔
عورتوں پر تشدد میں اضافے کا معاملہ
ایک غیر سرکاری تنظیم کے دعوے کے مطابق خیبر پختونخوا میں خواتین پر تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے اس ضمن میں مئوثر قانون سازی پر زور دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ خواتین پر تشدد کے واقعات کے اعداد و شمار کو سامنے لانے سے متعدد قوتیں ان کو روک رہی ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضا فہ شاید نہ ہو اور اعداد و شمار میں اضا فے کی وجہ تشد د کے واقعات کا پہلے کی طرح پوشیدہ ہونے کی بجائے ان کے سامنے آنے کی شرح میں اضافہ ہو ۔ اگر دیکھا جائے تو یہ صرف خیبر پختونخوا کا مسئلہ نہیں بلکہ کم وبیش اس طرح کے معاشروں میں اس قسم کی صورتحال ہر جگہ ہے ۔ جہاں تک اعداد وشمار کا تعلق ہے ہم سمجھتے ہیں کہ کار کر دگی دکھانے کی خاطر غیر سرکاری تنظیموں کا غیر حقیقی اعداد و شمار اکٹھی کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ ان کو دبائو کا سامنا ہونے کے الزام کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ۔اس سے قطع نظر ہمیں اس امر کا جائزہ لینا چا ہیے کہ اس کی روک تھام اور تدارک کیلئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ جس معاشرے میں قانون کی حاکمیت مسلمہ اور مئوثر ہو وہاں پر قانون سازی اور سخت قوانین کے ذریعے اس رجحان پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر جہاں قانون کا نفاذ از خود توجہ کا متقا ضی ہو وہاں پر اس پر زور حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا ۔مر د وزن میں کدورت اور دوریوں میں اضافہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ یورپ اور غیر مسلم معاشروں میں اگر مجرد زندگی کو ترجیح دی جانے لگی ہے تو سعودی عرب جیسے قدامت پسند معاشرے کا حال یہ ہے کہ وہاں پر پینتا لیس دنوں کے اندر طلاق اور خلع کے 27ہزار مقدمات کا اندراج ہو چکا ہے۔ مشرقی معاشرے میں بچوں کے مسائل او رکسی حدتک معاشی مسائل کا سامنا نہ ہو تو یہان پر بھی طلاق اور خلع کی شرح میں اضافہ ہونے کا امکا ن قوی ترہے۔ ایسے میں صرف اعداد وشمار جمع کرنے کے بجائے اگر غیر سرکاری تنظیمیں اس امرپر کام کریں تا کہ مرد وزن کے درمیان دوری اور کدورت پیدا کرنے والے اسباب کی تحقیق کریں اور وجوہات کا کھوج لگا کر ان کو دور کرنے جیسے معاملات پر سنجید گی سے توجہ دیں تو یہ معاشرے کی بڑی خدمت ہوگی ۔

متعلقہ خبریں