ہائی کمشنر عبدالباسط کا بیان

ہائی کمشنر عبدالباسط کا بیان

اس وقت جب مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی چوتھے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس سارے عرصے میں کرفیوکی پابندیاں توڑ کر کشمیری احتجاج کرتے ہیں۔ ان کے ایک سو سے زیادہ نوجوان بھارتی فوجی شہید کر چکے ہیں۔ ایک ہزار سے زیادہ کو چھرے دار بندوقوں سے بینائی سے محروم کر چکے ہیں لیکن جدوجہد جاری ہے۔ بھارتی حکومت مسلسل پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات عائد کر رہی ہے اور کشمیریوںکی جدوجہد کو پاکستان کے اکسانے کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔ کشمیریوں کی اس طویل جدوجہد سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارتی حکومت نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر محاذ گرم کیا ہوا ہے۔ روزانہ کے حساب سے لائن آف کنٹرول کے پار پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں حملے کیے جاتے ہیں۔ چند ہفتے سے ان حملوں میں بھارتی توپ خانہ بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے فوجی اور سویلین شہید کیے جا چکے ہیں۔ پاک فوج ان حملوں کا مؤثر جواب دیتی ہے لیکن عام حالات میں یہ حیرت کی بات ہونی چاہیے کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں بھارتی مورچے تباہ ہوتے ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نشر نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بھارتی فوج کا نقصان ان حملوں میں پاکستان کے نسبت چار گنا ہوتا ہے۔ سطور بالا میں جن باتوں کی نشان دہی کی گئی ہے لگتا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کی بعض خبریں دہرا دی گئی ہیں تاہم ان خبروں کے دہرانے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بھارتی حکومت کے لیے خود اپنے پاکستان دشمن عنصر کو سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے جو پاکستان کے ساتھ فتح حاصل کرنے والی جنگ چاہتا ہے۔ لیکن حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد نریندر مودی کو یہ احساس ہو گیا ہوگا کہ پاکستان دشمنی کے جس ایجنڈے پر انہوں نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے اس پر عملدرآمد کرنا ممکن نہیں ہے۔ اب ایک طرف اس جنگ باز عنصر کا پاکستان پر چڑھائی کرنے کا دباؤ ہے اور دوسری طرف زمینی حقائق کی مجبوریاں ہیں کہ پاکستان کے خلاف نہ کوئی محدود جنگ شروع کی جا سکتی ہے نہ کسی بڑی جنگ کا خطرہ مول لیا جا سکتا ہے۔ سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کا جھوٹ کھل جانے کے بعد' کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے میں ناکامی کے بعد 'پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزام کے ذریعے اسے بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے میں ناکامی کے بعد مودی حکومت جنگ باز بھارت کے دباؤ میں ہے۔ وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد نریندر مودی ان حقائق سے آگاہ ہو چکے ہیں جو ان کے کسی ایڈونچر کو خود کشی کے برابر قرار دیتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ پاکستان پر غلبہ حاصل کرنا ممکن نہیں۔ بھارت کے جنگ باز عنصر کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے انہوں نے اچانک بھارت میں بڑے کرنسی نوٹ ختم کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ وہ کرپشن کو روکنے کے لیے کر رہے ہیں۔ اس طرح انہوں نے بھارت کے جنگ باز عنصر کو کرپشن کے خاتمے کی طرف موڑنے کی کوشش کی ہے ۔ اس پر سارے بھارت میں مودی کی حکومت کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے۔ اس اقدام کی دوسری وجہ بھارت کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے اترپردیشن میں جلد ہی ہونے والے انتخابات ہیں۔ ان انتخابات میں اب اگر نریندر مودی کی بی جے پی پاکستان دشمنی کا نعرہ لگاتی ہے تو اس کو بڑی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا کیونکہ لائن آف کنٹرول پر سرجیکل سٹرائیک کو جھوٹ اور کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے میں ناکامی ان کی انتخابی مہم کوبھی ناکام بنا سکتی ہے۔ اس وقت پاکستان کی طرف سے موجودہ حکومت کو ایسی پیش کش کی گئی ہے جو اسے مشکلات سے نکال سکتی ہے اور بی جے پی اور بھارت کے جنگ باز عنصر کے دباؤ سے بچا سکتی ہے۔ نئی دلی میں مقیم پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ اگر بھارت مذاکرات چاہے تو پاکستان غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ اس سے پہلے جب بھی پاک بھارت مذاکرات کی بات ہوتی تھی تو اس بات پر اصرار کیا جاتا تھا کہ مذاکرات میں کشمیر اہم ترین موضوع ہوگا۔ پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش نہیں کی گئی بلکہ اگر بھارت چاہے تو مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ مذاکرت کے لیے اس ابتدائی بیان میں موضوعات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے بھارت سے مذاکرات ہوں گے تو کشمیر کے مسئلے سمیت تمام متنازعہ امور پر ہوں گے۔ اس بیان میں بھی کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں جنگ کی اس صورت حال کو امن کی طرف لانے کی پیش کش موجود ہے۔ ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ 2003ء کی فائر بندی کو باقاعدہ معاہدے کی شکل دینے پر بھی غور ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے یہ بیان لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر روزانہ کی فائرنگ اور جوابی کارروائی کی صورت حال کو پرامن معمول کی طرف لے جانے کی طرف معاون ہو سکتا ہے۔ اب تک نریندر مودی اور ان کی کابینہ کے ارکان ان کی پارٹی اور ان کے جنگ باز عنصر کو یہ سمجھ آ گئی ہو گی کہ پاکستان کو ترنوالہ سمجھنا حماقت ہے اور بقول جنرل راحیل شریف پاکستان کی طرف سے تحمل کے رویے کو کمزوری سمجھنا خود بھارت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ بھارت اپنے جنگ باز عنصر کو خاموش رکھنے کے لیے جس طرح لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے راستے پر چل پڑا ہے اس کے نتائج کسی بڑے تصادم کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ بھارت کو یہ معلوم ہے ہی کہ پاکستان بھی ایک ایٹمی قوت ہے۔ اس کے اسلحہ کا معیار بھارتی اسلحہ کی نسبت بہتر ہے۔ لیکن بھارت کے لیڈروں کو اب یہ احساس بھی ہو گیا ہو گا کہ پاکستان کی فوج دنیا کی مانی ہوئی فوج ہے۔ اس لیے بھارت کے محب وطن دماغوں کو ہائی کمشنر عبدالباسط کے بیان پر دلجمعی سے غور کرنا چاہیے۔ خطے کے امن و ترقی کے لیے مذاکرات کے ذریعے باہمی معاملات طے کرنا ہی دانشمندی اور سیاسی تدبر ہے۔ 

متعلقہ خبریں