مسائل اور چیلنجز کی چھڑی

مسائل اور چیلنجز کی چھڑی

جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہونے والی پروقار تقریب میںیہ محض ڈھائی فٹ کی ایک چھڑی کی منتقلی نہیں تھی بلکہ یہ اس چھڑی سے لپٹی بے شمار توقعات اور اس سے وابستہ بے شمار چیلنجز کی منتقلی بھی تھی ۔سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوجی طاقت کی علامت ڈھائی فٹ کی چھڑی ''کمانڈ سٹک اپنے جانشین جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے کر دی اور یوں پاکستان کی تاریخ کا ایک چھوٹا لیکن یادگار باب تمام ہوا۔چھڑی کی منتقلی سے فوج میں نہایت پیشہ ورانہ انداز میں کمانڈ کی تبدیلی عمل میں آنے کے ساتھ ہی جنرل راحیل شریف کا عہد اور عہدہ دونوں تاریخ کا حصہ بن گئے اور جنرل قمر جاوید باجوہ دنیا کی ایک منظم ،مضبوط مگر داخلی اور خارجی لحاظ سے کئی بڑے چیلنجز اور مشکلات میں گھری ہوئی فوج کے سولہویں سربراہ بن گئے ۔ثبات اک تغیر کو ہے زمانے کے انداز میں یہی دنیا کا اصول ہے کہ یہاں لوگ آتے اور اپنا مقرر کر دہ کردار نبھاتے اور منظر سے چلے جاتے ہیں ۔کسی ملک کی حکمرانی ہو یا اداروں کی سربراہی عموماََ لوگ آتے ایک ہی انداز سے ہیںوہ انداز جو قواعد اور اصولوں کے مطابق طے کیا گیا ہوتا ہے مگر اصل بات وہ ہوتی ہے کہ وہ رخصت کس ادا اور کس نامہ ٔ عمل کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ان کی آمد سے تاریخ بننا شروع ہوتی ہے اور ان کے جانے کے بعد تاریخ اپنا نوٹ رقم کرکے فیصلہ سناتی ہے ۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں جمہوریت پر ریاست کو مقدم سمجھا اور گردانا جاتا ہے ۔اس کی وجہ پاکستان کی نظریاتی شناخت ہے ۔ فوج کو جہاںپاکستان کی اس نظریاتی شناخت کو کچھ اس انداز سے بحال رکھنا پڑتا ہے کہ ایک لکیر کے دوری اور جدائی پر موجود بھارت سے وہ تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے الگ دکھائی دے بلکہ پاکستان کے قیام کی بنیاد بننے والا دوقومی نظریہ وقت اور حالات کی گرد کے باوجود متعلق اور روشن رہے۔یہی وجہ ہے کہ جب چند سال قبل بھی عالمی دبائو پر پاکستان کا مجموعی امیج تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کردی گئی تھیں جس کا ایک ثبوت امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کی ایک تقریب کے دعوت نامے میں پاکستان کے سرکاری نام ''اسلامی جمہوریہ پاکستان'' کی بجائے ڈومین آف پاکستان لکھاجاناتھا تو اس کے کچھ ہی عرصہ بعدجنرل اشفاق پرویز کیانی نے بطور آرمی چیف ایک جملہ کہا تھا اسلام پاکستان کی شناخت ہے اور کو ئی بھی پاکستان کواس شناخت سے الگ نہیں کر سکتا۔اس کے بعد ملک کی شناخت کو تبدیل کرنے کی مہم دم توڑ دی گئی تھی۔پاکستانی فوج کا یہ کردارایک زمینی حقیقت ہے کہ اسے کبھی اپنی متعین اورمعین حدودسے نکل کرکچھ معاملات پر رائے دینا پڑتی ہے ۔جیسا کہ حال ہی میں سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کا بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کو نام لے کر للکارناتھا۔پاکستانی فوج کا یہ رول اس وقت تک موجود رہے گا جب تک پاکستان کا سیاسی نظام ترکی کی طرح اپنی کارکردگی اور صلاحیت سے اپنا دائرہ وسیع اور اپنی ساکھ مضبوط نہیں بناتا ۔جنرل راحیل شریف نے پاکستان کو مشکلات کی دلدل سے نکالنے اور کئی شہری اور دیہی علاقوں میں ریاست کی رٹ بحال کرنے اور ملک کے بے شمار مسائل کو اوونر شپ دینے کا جو کام کیا وہ ان کی مقبولیت کا باعث بنا ۔ بطور آرمی چیف جنرل راحیل کا قائم کردہ اس میعار کو نہ صرف برقرار رکھنا اور بڑھاناہی جنرل قمر جاوید باجوہ کو درپیش چیلنج ہے ۔ عوام کی خواہش ہے کہ جنرل راحیل شریف نے ملک کو دہشت گردی اور کرپشن سے پاک کرنے کا مشن جہاں سے چھوڑا ہے اس کام کو وہیں سے آگے بڑھانا نئے آرمی چیف کی ذمہ داری ہے ۔جمہور ہر گز نہیں چاہیں گے کراچی میں کسی کی جان محفوظ ہو نہ مال ،موبائل جیسی حقیر شے اور چند روپوں کی خاطر انسانوں کو قتل کرنے کا رواج دوبارہ قائم ہو۔بلوچستان میں مزدوروں اور محنت کشوں کو جرم بے گناہی میں مار دیا جائے اور قبائلی علاقوں میں ریاست کے اندر درجنوں ریاستیں قائم ہوں۔لوگ بازاروں اورپارکوں میں دفتروں اورعبادت گاہوں میں جانے سے گھبرانے لگیں۔قومی دن اور تقریبات چار دیواری میں بند اور ٹی وی سٹوڈیوز میں مقید رہ کر گزر جائیں۔زندگی کے رنگ بکھر کر رہ جائیں ۔کچھ لوگ اب کہنے لگے ہیں کہ راحیل شریف کی کامیابیوںکا ایک ٹویٹر اکائونٹ او ر اسے چلانے کے لئے ایک عاصم باجوہ ہونا چاہئے ۔ایسے لوگ اگر راحیل شریف کی آمد سے پہلے اور بعد کی بیلنس شیٹ مرتب کریں تو انہیں اندازہ ہوگا کہ یہ سب ٹویٹر کی کرشمہ سازی نہیں ۔ایسے لوگ چار سال پہلے کے کراچی،کوئٹہ اور وزیر ستان کو یاد کریں تو انہیں اندازہ ہوگا کہ یہ سب منظر ٹویٹر کی بدولت نہیں بلکہ عملی کارکردگی سے تبدیل ہوا ہے۔ٹویٹر اپنی بات عوام تک پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے اور اس کا استعمال اگر بہت ضروری بھی نہیں تو اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں۔تیزی سے روبہ زوال پاک امریکہ تعلقات ،بھارت سے بگڑتے ہوئے معاملات ،افغانستان سے کشیدہ حالات،سی پیک کے نتیجے میں چین سے روس اور وسط ایشیا اور ایران تک وسعت پذیر ہوتی ہوئی پاکستان کی اہمیت اور اس کی حساسیت ملک کے اندر نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گردی کے ٹوٹنے اور بکھرنے والے نیٹ ورکس کی بحالی کا خطرہ جنرل قمر باجوہ کو درپیش اہم چیلنجز ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ وہ جنرل راحیل شریف کی چھوڑی ہوئی روایتوں کا آگے بڑھاتے اور نبھاتے ہیں یا انفرادیت کی خواہش میں کوئی اور راستہ تلاش کرتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں