کوئی ایسی طرز طواف تو مجھے اے چراغ حرم بتا

کوئی ایسی طرز طواف تو مجھے اے چراغ حرم بتا

سندھ اسمبلی نے تبدیلی مذہب کے حوالے سے جو رویہ اختیار کیا ہے اس سے تو یوں لگتا ہے کہ ہم ایک بار پھر راجہ داہر کے دور میں سانس لے رہے ہیں ، اس کے بعد اگر مولانا سمیع الحق نے وہاں کی اسمبلی توڑ کر گورنر راج کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تو اس پر کسی کے معترض ہونے کی کیا کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟ بقول مولانا صاحب اسمبلی نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کرنے پر پابندی لگا کر قرآن وسنت اور آئین سے غداری کی ہے ، جس کے بعد اسمبلی کے قائم رہنے کا کوئی جواز نہیں، اسلام میں کسی کو جبری مذہب تبدیل کرانے کی اجازت نہیں ، جبکہ اسلامی ریاست کا فریضہ ہے کہ اسلام کے فروغ و ترویج کے لئے کام کر ے ۔ بقول علامہ اقبال 

کوئی ایسی طرز طواف تو مجھے اے چراغ حرم بتا
کہ ترے پتنگ کو پھر عطا ہو وہی سرشت سمندری
میرا خیال ہے کہ سندھ اسمبلی کی اس حرکت کو جرات رندانہ کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا اور اس سے جہاں راجہ داہر کی روح کو قرار آیا ہوگا بلکہ آج وہ سرخوشی کی کیفیت سے سرشار ہو رہی ہوگی وہیں محمد بن قاسم کی روح تڑپ رہی ہوگی جن کی سندھ میں آمد کے بعد سندھ دھرتی کو باب الاسلام کے نام سے یا د کیا جانے لگا تھا ، مگر سند ھ اسمبلی نے صدیوں بعد باب الاسلام کی روشن جبیں پر کفر کے سیاہ دھبے لگا کر اسے ماند کرنے کی حرکت کرکے قیام پاکستان کے مقصد کو داغدار کرنے کی جرات کر ڈالی ہے ۔ اقلیتوں کے حقوق کے نام پر سندھ اسمبلی نے جو قانون پاس کیا ہے وہ نہ صرف خلاف شریعت ہے بلکہ آئین پاکستان کی روح کی بھی خلاف ورزی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام میں جبر کہیں نہیں اور اگر کسی نے اسلام قبول کیا ہے تو اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر نہ کہ زور زبردستی سے ، پیغمبر آخرالزماں ۖ کے پاکیزہ کردار اور حسن سلوک سے حوصلہ پاکر کفار جوق درجوق اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے ۔ سندھ اسمبلی نے جو قانون پا س کر کے ملک کی مسلمان آباد ی کی جو دل آزاری کی ہے ، اس کی وجہ بھی موجود ہیں اور ان وجوہات پر بھی ٹھنڈے دل سے ضرور سوچنا چاہیئے ، در اصل گزشتہ کچھ عرصے سے سندھ میں بعض ہندو لڑکیوں کو دائرہ اسلام میں لا کر بعض لوگوں نے اپنے عقد میں لیا ، جس سے اندرون سندھ کی ہند و برادری کے اندر تشویش کی لہر یں دوڑ گئی تھیں اور ایسی خبریں بھی سامنے آئیں کہ ہند و خاندان بڑی تعداد میں بھارت جا کر رہنے پر مجبور ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں مبینہ طور پر اپنی لڑکیوں کے زبردستی مسلمان بنائے جانے کی شکایات لاحق تھیں ۔ اب ان اطلاعات میں کتنی صداقت ہے ، اور آیا جو لڑکیاں دائرہ اسلام میں مسلمانوں کے عقد میں آئیں ، وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئیں یا پھر کسی جبر کے نتیجے میں ایسا ہوا ، اس حوالے سے اگر متعلقہ ادارے غیر جانبدارانہ طریقے سے تحقیقات سامنے لے آتے تو صورتحال کا تدارک ممکن تھا ، مگر ہمارے ہاں مذہبی معاملات میں جذ باتیت کا عمل دخل اس قدر زیادہ ہے کہ معمولی بات کی جانب کوئی توجہ نہیں دیتا ۔ اگر محولہ خبریں آنے کے بعد متعلقہ دینی حلقے آج جو کچھ فرما رہے ہیں یعنی بالجبر کسی کو مذہب کی تبدیلی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ، اسی وقت اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی جاتی اور جو لوگ ''زبردستی ''ہندو خواتین کو مذہب تبدیل کرنے پر واقعی تلے ہوئے تھے ۔ ان کو یہی اسلامی اصول سمجھانے کی تلقین کی جاتی تو نہ اقلیتوں کو شکایات پیدا ہوتیں نہ سندھ اسمبلی کو یہ بل منظور کرانے کی جرات ہو سکتی ، بہر حال اس بل میں ( جو اسلامی اصولوں کے صریح خلاف اور آئین سے بھی متصادم دکھائی دیتا ہے )سے تکنیکی خامیاں ضرور دور کر دی جائیں ، اس لئے کہ بل کے تحت کسی بھی غیر مسلم کو 18سال سے کم عمر ہونے کی وجہ سے اپنا مذہب تبدیل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا ہے ۔ جبکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی میاں بیوی اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرتا ہے تو ان کے بچوں کو 18سال کی عمر تک اپنے ماں باپ کے سابقہ مذہب پر کیسے کا ر بند رہنے پر مجبور کیا جا سکے گا ۔مفتی تقی عثمانی نے بھی کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس قانون کو بغیر سوچے سمجھے محض غیر مسلموں کو خوش کرنے کے لئے پاس کر دیا گیا ہے ، مفتی صاحب نے عدلیہ خصوصاً وفاقی شرعی عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلے پراز خودنوٹس لے کر اسلامی تعلیما ت کے مطابق اس قانون کا جائزہ لیکر اسے غیر مئو ثر قرار دیں ۔گویا اسلام قبول کرنے پر پابندی کا جو کام مغرب نے نہیں کیا، بھارت نہیں کرسکا وہ پاکستان کی سندھ اسمبلی اور حکومت نے کر دیا ''یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود ''۔ مولانا سمیع الحق اور مفتی عثمانی جیسے جید علمائے کرام کے خیالات سے اختلاف کی کوئی گنجائش موجود نہ ہونے کے ساتھ ساتھ میں تو گورنر سندھ سے بھی یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ اس بل پر دستخط کرنے سے نہ صرف انکار کردیں بلکہ اسے اسلامی نظر یاتی کونسل کے پاس بھجوا کر اس پر کونسل کی رائے طلب کریں ۔ اس کے ساتھ میں مفتی تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحق سے بھی یہ گزارش کروں گا کہ وہ اس بل کو اگر عدلیہ اور وفاقی شرعی عدالت اس کا نوٹس نہیں لیتیں ، تو خود اسے ان اداروں میں چیلنج کر کے اسے خلاف آئین قرار دلوانے کے لئے آگے بڑھیں ، تاکہ اسلام کے نام پر بننے والے ایک ملک کے اندر اسلامی اصولوں سے متصادم قانون کے نفاذ کی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ اگر دینی حلقے آج آگے نہیں بڑھیں گے تو آنے والے دنوں میں مزید اس قسم کے غیر اسلا می قوانین ہم پر مسلط کرنے کی کوششیں کی جاسکتی ہیں ۔ جون ایلیا ء نے غلط تو نہیں کہا تھا کہ
گزشتہ عہد گزرنے میں ہی نہیں آتا
یہ حادثہ بھی لکھو معجز وں کے خانے میں
جورد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے
وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں

متعلقہ خبریں