تنخواہوں اور مراعات میں تین گنا اضافہ

تنخواہوں اور مراعات میں تین گنا اضافہ

ایک طرف وطن عزیز میں عام لوگ انتہائی غُربت، افلاس، بے روزگاری اور مہنگائی کا شکار ہیں تو دوسری طرف پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے قانون سازوں نے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں تین گنا اضافہ کیا۔بد قسمتی سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران وہ فرائض منصبی ادا ہی نہیں کرتے جسکے لئے وہ تنخوااور دیگر مراعات لیتے ہیں ۔پنجاب ، سندھ، خیبر پختون خوا اور بلو چستان سے قومی اسمبلی میں342ممبران ہیں۔اگران میں حالیہ 3 سیشن کا تجزیہ کیا جائے تو 18 نومبر 2016 ء کے قومی اسمبلی کے سیشن میں 342ایم این ایز میںصرف 169 شریک ہوئے۔ اسی طرح 24 نومبر 2016 کو قومی اسمبلی کے سیشن میں342 ایم این ایز میں 173ممبران نے شرکت کی اور 25 نومبر 2016 کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں صرف 150ممبران اسی طرح قومی اسمبلی ممبران کی اوسط حا ضری 43 فی صد اور غیر حا ضری 57 فی صدرہی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ہونا چاہئے کیونکہ ان میں جماعت اسلامی ، جمعیت العلمائے اسلام (ف) اور(س) اور چند دیگر سیاسی پارٹیوں کے ایم این ایز اور سینیٹر حضرات کی مالی حیثیت اس قابل نہیںکہ وہ تنخوااور مراعات کے بغیر گزارہ کر سکیں۔عام طو ر پر وطن عزیز میں مختلف سیاسی پا رٹیوں سے جو لوگ صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات لڑتے ہیں اُنکی مالی حیثیت بہتر ہو تی ہے اور وہ تنخواہ اور مراعات کے بغیر بھی گزارہ کر سکتے ہیں۔اور ان میں زیادہ تر انگریز دورسے نوابزادے اور خان زادے چلے آرہے ہیں۔اگر کسی نے صوبائی الیکشن کے انتخابات لڑنے ہو تو انکے لئے کم ازکم 5 سے 10کروڑ روپے اور اگر کسی نے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنا ہو تو اسکے لئے 15 سے 20 کروڑ روپے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ پیسے انکے پاس ہوتے ہیں تب الیکشن لڑتے ہیں۔ اوراگر انتخابی حلقہ جہانگیر ترین اور آیاز صادق جیسا ہو تو پھر انکے لئے کم از کم ایک ارب روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ پھر اس قسم کے انتخابی حلقوں میں ووٹرز کی ڈیمانڈ بھی زیادہ ہوتی ہے۔الیکشن تو پاکستان میں امیرلوگوں کا ایک گیم ہے اور اس گیم میںکبھی بھی غریب نہیں آسکتا اور اگر بفرض محال آبھی جاتا ہے تو اگلے الیکشن میں سالم خان خلیل کی طرح نکل جاتا ہے۔ یہاں یہ بات دلائوں کہ سالم خان خلیل نے پشاور سے ارباب نیاز کو شکست تو دی مگر اگلے الیکشن میں وہ بالکل آئوٹ ہوگئے۔ کیونکہ ارباب فیملی کی اتنی طاقت ور لابنگ تھی کہ سالم خان خلیل کا کوئی ترقیاتی کام نہ ہوتا اور اسطرح وہ ووٹروں کی تو قعات پر پورا نہیںاترے اور ناکام ہوئے۔ بھٹو صا حب کے دور میں کچھ متوسط طبقے کے لوگ سیاست میں آئے تھے اور پاکستان پیپلز پا رٹی کے اُس وقت کے صوبائی ا اور قومی اسمبلی کے کئی اُمیدوار وںکا تعلق غریب اور متوسط گھرانوں سے تھا مگر اب پاکستان پیپلز پا رٹی میں بھی وہ رُجحان ختم ہوا۔ اب تو کوئی بھی سیاسی پارٹی کسی کو انتخابی ٹکٹ دینے سے پہلے اُنکی مالی پو زیشن دیکھتی ہے۔اور جو اُمیدوار بے شک کتنا لائق فائق نہ ہو اگر اُنکی مالی پو زیشن ٹھیک نہیں تو اسکو ٹکٹ نہیں دیا جاتا۔ایم کیو ایم میں بھی متوسط طبقے سے لوگ ہوتے تھے مگر ایم کیو ایم ڈنڈے کے زور پر الیکشن میں کامیابی حاصل کرتی۔اس وقت پاکستانی عوام کی اقتصادی حالت انتہائی ابتر ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی اور یو این ڈی پی پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اس وقت فاٹامیں غُر بت کی شرح 73 فی صد بلو چستان میں 71 فی صد اور خیبر پختون خوا میں 50 فی صد ہے جبکہ پاکستان میں غربت کی لیکر سے نیچے رہنے والے لوگوں کی تعداد تقریباً 12 کروڑ ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ ممبران کو اللہ کا خوف کرنا چاہئے اور انکو اپنی تنخواہ میں اضافے کی بجائے غریب عوام کا احساس کرنا چاہئے۔ اگر ہم غور کر لیںتو چاروں صوبائی اسمبلیاں ، قومی اسمبلی اور سینیٹ تو ان ممبران اور لینڈ لارڈ کے ملکی اور صوبائی سطح پر حجرے ہیں جہاں پر آکر یہ قانون ساز گپ شپ لگانے آتے ہیں۔ مُجھے وہ قانون بتایا جائے جو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہو کر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جا رہا ہو۔طلال چو دھری اور دوسرے ایم این اے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا ذکر تو شدت سے کرتے ہیں مگر وہ اپنے فرائض منصبی کیوں نہیں سمجھتے۔طلال چو دھری نے کہا کہ قانون سازوں کی تنخواہ اور مراعات میں اضافہ تو اونٹ کے مُنہ میں ریزے کے برابر ہے۔مُجھے وہ قانون بتایا جائے جو صوبائی اور قومی اسمبلیوں نے بنایا ہو اور اُس قوانین سے پاکستان کے غریب کو فائدہ ہو۔بلکہ ہمیشہ یہی قانون ان غریبوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔پاکستان میں غریب کے لئے ایک قانون اور امراء کے لئے دوسرا قانون ہوتا ہے۔لہٰذا اس کالم کے تو سط سے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے معزز ممبران سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ غریبوں کا بھی سوچے۔ کیونکہ اس ملک کے غریب اور متوسط طبقہ پسا جا رہا ہے۔پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ۔

متعلقہ خبریں