مشرقیات

مشرقیات

قشیری نے اپنے رسالے میں لکھا ہے کہ کسی نے حضرت ذوالنون مصری سے پوچھا کہ آپ کی توبہ کا کیا سبب ہوا تھا تو آپ نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ میں مصر سے کسی دوسرے شہر کو جارہا تھا کہ راستے میں ایک جنگل پڑا ۔ میں وہاں کچھ دیر کے لئے آرام کی غرض سے ٹھہر ا اور سوگیا ۔ کچھ دیر بعد جب میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک اندھا چنڈول اپنے گھونسلے سے گرا اور اس کے گرتے ہی زمین شق ہوئی اور زمین سے دو پیالیاں ایک سونے کی اور ایک چاندی کی نکلیں ۔ ایک پیالی میں سمسم (تل ) تھے اور دوسری میں پانی تھا ۔ چنانچہ اندھے چنڈول نے ایک پیالی سے تل کھائے اور پھر دوسری پیالی سے پانی پیا ۔ یہ واقعہ دیکھ کر مجھ کو بڑی حیرت ہوئی ۔ چنانچہ میں نے اسی وقت سچی توبہ کی اور مسلسل اس پر قائم رہا اور میری سمجھ میں آگیا کہ جو ذات پاک چنڈول کو نہیں بھولی وہ مجھ کو کیسے بھول سکتی ہے ۔ (رسالہ القشیریتہ)
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ابو یوسف یعقوب بن السکیت ایک دن خلیفہ متوکل کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور یہ خلیفہ متوکل کے لڑکو ں کے استاد بھی تھے ۔ کچھ دیر کے بعد خلیفہ متوکل کے پاس اس کے دونوں لڑکے معتز اور موید آکر با ادب بیٹھ گئے ۔ خلیفہ نے ایک نظر اپنے لڑکو ں پر ڈالی اور ابن السکیت سے پو چھا کہ میرے دونوں لڑکو ں میں سے کون سا لڑکا آپ کا زیادہ محبوب ہے ۔ ابن السکیت چونکہ متوکل کو نہیں پہچانتے تھے ، اس لئے انہوں نے خلیفہ کے اس سوال کا جواب یہ دیا کہ خدا کی قسم '' قنبر '' (حضرت علی کے خادم ) آ پ اور آپ کے ان دونوں لڑکو ں سے زیادہ اچھے تھے ۔ یہ جواب سن کر متوکل نہایت برہم ہوا اور اپنے ترکی غلام کو حکم دیا کہ اس کی گدی سے زبان کھینچ لو ۔ چنانچہ اس کی تعمیل کی گئی اور 2رجب 244ھ بروز دو شنبہ کی رات میں ابن السکیت کا انتقال ہوگیا ۔ اس کے بعد خلیفہ نے ابن السکیت کے لڑکے کے پاس دس ہزار درہم اس اطلاع کے ساتھ روانہ کر دیئے کہ یہ تمہارے باپ کا خون بہا ہے ۔ ابن خلکان نے ابن السکیت کے حالات قلمبند کرتے ہوئے ایسا ہی لکھا ہے ۔ (حیا ت الحیوان ، جلد دوم)
ایک شخص حضرت رابعہ بصری علیہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور دنیا کی سخت مذمت کرنے لگا ۔ حضرت رابعہ بصری نے فرمایا : برائے مہربانی آپ اس کے بعد یہاں نہ آیئے گا ، آپ کو دنیا سے سخت محبت معلوم ہوتی ہے ، اس لئے کہ آپ اس کا تذکرہ بہت کرتے ہیں ۔ یہ انسانی نفسیات ہے کہ جو چیز انسان کو بہت پسند ہوتی ہے تو دل بھی چاہتا ہے کہ اس کا تذکرہ کیا جائے ، خواہ وہ کسی انداز میں ہو ۔ چنانچہ ا س موقع پر بھی جب دنیا کی مذمت کی جارہی تھی تو رابعہ بصری نے جان لیا تھا کہ اس کی تہہ میں دنیا کی محبت کار فرما ہے ۔ اس لئے آپ نے فرمایا : آپ کو دنیا سے بہت محبت معلوم ہوتی ہے اس لئے کہ آپ اس کا بار بار تذکرہ کر رہے ہیں ۔ درحقیقت یہ بہت بڑی حب دنیا تھی ، جس کو حضرت رابعہ بصری نے اس حکمت سے دور فرمانا چا ہا تھا ۔
(کچھ دیر اہل حق کے ساتھ صفحہ 202)

متعلقہ خبریں