ترمیم در ترمیم' احتساب آخر کب ہوگا؟

ترمیم در ترمیم' احتساب آخر کب ہوگا؟

صوبائی حکومت کی جانب سے بڑے چائو کے ساتھ صوبائی احتساب کمیشن کا قیام عمل میں لایاگیا تھا اور اسے بجا طور پر دوسرے صوبوں سے سبقت لے جانے سے تعبیر کیاگیا۔ اگر حقیقتاً صوبائی احتساب کمیشن کا کردار موثر ہوتا تو آج بجا طور پر کہا جاسکتا تھا کہ خیبر پختونخوا احتساب کے عمل میں دوسرے صوبوں سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ احتساب کمیشن کے قیام کے بعد اگر کمیشن کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیاجاتا اور اس کے اختیارات میں کمی کرنے اور محتسبین کے پر کاٹنے کا عمل نہ کیا جاتا اور صوبائی احتساب کمیشن کے عہدیدار استعفوں پر مجبور نہ ہوتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ اگرچہ احتساب ایکٹ میں ترمیم کی صوبائی حکومت مختلف انداز سے تشریح کرتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ صوبائی احتساب کمیشن کو غیر موثر اور عضو معطل بنانے میں خود صوبائی حکومت کے فیصلوں اور پالیسیوں کا بڑا حصہ ہے۔ احتساب کمیشن کی کارکردگی پر جب سوالات اٹھے اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں اس کا کچا چھٹا کھول دیاگیا تو صوبائی حکومت کی جانب سے عذر لنگ تراشا گیا اور بجائے اس کے کہ احتساب کے عمل میں ناقصیت کی وجوہات کا جائزہ لے کر اسے موثر و مستحکم اور حقیقی معنوں میں با اختیار اور غیر جانبدار ادارہ بنانے پر توجہ دی جاتی اور اس کے مستعفی ہونے والے ذمہ داروں کے اعتراضات کی روشنی میں اقدامات کئے جاتے حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین پر مشتمل کمیٹی بنا کر متفقہ لائحہ عمل اختیار کرکے صوبے میں شفاف احتساب کے عمل کو آگے بڑھایا جاتا ۔ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی اسمبلی میں احتساب کمیشن کے کردار پر اٹھنے والے اعتراضات اور بھرتیوں کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوںکے بعد ایک بار پھر احتساب ایکٹ میں ترامیم لانے کیلئے سات رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے کمیٹی کو پانچ دن کے اندر اندر مجوزہ ترامیم اور رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔کمیٹی کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ احتساب ایکٹ میں مزید ترامیم تجویز کرے اور ایکٹ کے مطابق قواعد تیار کرے۔ کمیٹی احتساب کمیشن کیلئے طریقہ کار وضع کرنے کیلئے تجاویز مرتب کرے گی جبکہ کمیشن میں احتساب ایکٹ اور رولز سے ماورا ہونے والی بھرتیوں میں وسیع پیمانے پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرکے بھرتیوں کا عمل شفاف بنانے سے متعلق سفارشات مرتب کرے گی۔ اعلامیہ کے مطابق کمیٹی کو اختیار دیاگیا ہے کہ وہ احتساب کمیشن کے کام کو شفاف بنانے کیلئے احتساب ایکٹ میں کسی بھی شق، ترامیم یا رولز کو شامل کرنے کیلئے تجاویز دے۔ کمیٹی کو پانچ دنوں کے اندر اندر رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کرے گی۔تازہ اقدام کا مقصد احتساب کے نظام و عمل پر گزشتہ دنوں صوبائی اسمبلی میں ابھرنے والی آوازوں اور اٹھنے والی انگلیوں کو نیچے کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے بھرتیوں کا شوشاہی چھوڑا گیا ہے وگرنہ کیا صوبائی حکومت کے علم میں اس سے قبل یہ امور نہیں تھے جن کا نوٹس لیا جاتا ۔ بالفرض محال اب اگر کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں چوں چوں کا مرتبہ بنے احتساب ایکٹ میں خامیوں کا ازالہ کرکے احتساب کمیشن کو مضبوط بنایا جاتاہے تو وقت ہی کتنا باقی بچاہے کم از کم ایک دور اقتدار تو کمیشن کی تشکیل میں گزر گیا او رصوبے میں حقیقی احتساب کا عمل ہنوز نکتہ آغاز کا منتظر ہے۔ ہمارے تئیں خیبر پختونخوا میں دیگر صوبوں کے برعکس احتساب کے لئے قائم کردہ صوبائی کمیشن نہ صرف ناکام اور لا حاصل ثابت ہوا بلکہ خود احتساب کمیشن کی تشکیل کرنے والے اور یہ ادارہ لاحاصل ٹھہرتا ہے۔ اس کی ناکامی خود صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ آخر صوبائی احتساب کمیشن غیر مئوثر اور متنازعہ کیوں ثابت ہوا ۔ اس کمیشن کی کارکردگی کیا رہی اس کی کامیابی نا کامی کا تجزیہ کر کے اس کو مئوثر بنانے کے لئے کیا اقدامات تجویز کئے گئے ۔اس کے عہدیداروں کو عہدوں سے استعفیٰ کیوں دینا پڑا اور انہوں نے عہدے چھوڑتے ہوئے جن معاملات اور امور کی نشاندہی کی تھی ان کی روشنی میں اصلاح احوال کے کیا اقدامات کئے گئے ۔ بلا شبہ احتساب ایک نہایت مشکل اور پیچیدہ عمل ہے ۔بد عنوانی کا سراغ لگانا آسان کام نہیں اور اگر ثبوتوں کے ساتھ بھی معاملات سامنے آئیں تب بھی عدالتوں میں کسی بد عنوان کو سزا دلوا نا اور بھاری فیس لینے والے ماہر وکلاء صفائی کا مقابلہ آسان نہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو کوئی بھی کسی بھی حکمران سیاسی جماعت اور سیاسی حکومت کے بس کی بات نہیں کہ وہ شفاف احتساب کر سکے کیو نکہ ایسا کرتے ہوئے ماضی وحال میں کسی نہ کسی طرح احتساب کی انگلی خود ان کی طرف اٹھنے کے بہتر مقامات آئیں گے اور آئے ہیں۔ اس لئے یہ بھاری پتھر ہر دور میں چوم کر رکھ دیا جاتا رہا ہے اور جاتے رہنے کا امکان ہے۔ الایہ کہ ایسی حکومت نہ آئے کہ خود ان کواپنی صف میں کسی پر شک بھی نہ گزرے ۔ شفاف احتساب میں حکومت کی شدید خواہش کے باوجود پورا نہ اترنے کی دیگر وجوہات کے علاوہ بڑی وجہ سیاسی اتحادی بھی گردانے جاسکتے ہیں جن پر الزامات لگا کر حکومت سے علیحدہ کر دینے کے بعد پھر نا خوب کو خوب کرنا مصلحت ٹھہری یا مجبوری ؟ بنک آف خیبر سکینڈل بھی حکومت اور کرپشن کے خلاف علم اٹھانے کی دعویدار اتحادی جماعت کے پیروں کی زنجیر ٹھہر ی ۔ نجانے کتنی مصلحتیں اور مجبوریاں دورن خانہ جکڑ ن ہوں گی ۔ جب تک کوئی حکومت اور سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو مصلحتوں سے بالاتر نہیں کریں گی احتساب کے عمل کا آغاز خواب ہی رہے گا۔

متعلقہ خبریں