بھارت کی جانب سے بار بار سرحدی خلاف ورزیاں

بھارت کی جانب سے بار بار سرحدی خلاف ورزیاں

بھارت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ضلع پونچھ کے جنوبی علاقے عباس پور میںبھارتی فوج کی جانب سے گولہ باری عصر اور مغرب کے درمیان کی گئی، جس سے تاروتی گائوں کے3شہری زخمی ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے نئے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کے مطابق بھارتی اشتعال انگیزی کا پاک فوج نے بھرپور جواب دیا۔لائن آف کنٹرول پر آخری بار16دسمبر کو جانی نقصان ہوا تھا، جب ضلع کوٹلی اور نکیال سیکٹر میں ایک شخص جاں بحق اور اسکول جانے والے 8بچے زخمی ہوئے تھے۔قبل ازیں بھارتی فوج کی جانب سے 23 نومبر کو وادی نیلم میں بس کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 11 مسافر جاں بحق ہوگئے تھے۔ اگرچہ بھارت کی ہر گولہ باری کا پاکستانی افواج جو مسکت جواب دیتی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ امرنہیں تاہم پاکستان اور بھارت دونوں ہی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی جنگ کوئی آسان کام ہے۔دونوں ممالک کے لیے جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔ اگر جنگ ہوتی ہے تو انڈیا کے مقابلے پاکستان کو کم نقصان ہوگا۔خطے میں کشیدگی کی صورتحال کی ایک اور وجہ مبصرین یہ بتاتے ہیں کہ انڈیا سلامتی کونسل کی نشست حاصل کرنا چاہتاہے۔ وہ نیوکلیئر سپلائر گروپ کا حصہ بننا چاہتاہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر سامنے نہیں لانا چاہتا۔ آج اگر جنگ ہوتی ہے تو سب کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کشمیر پر قابض ہے۔بھارت کی بظاہر جنگ اور بباطن جنگ سے احترازظاہر کرنا اس کی مجبوری ضرور ہوگی لیکن یہ کوئی دیر پا پالیسی نہیں ہو سکتی جسے جاری رکھ کر بھارت اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوجائے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں حریت تحریک روزبروز بڑھتی جارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آئے روز مظاہرے اوراحتجاج اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے جہاں کشمیری انتفادہ دنیا کے سامنے پوری طرح سے آرہا ہے وہاں دوسری جانب بھارت کا چہرہ بھی بے نقاب ہورہا ہے۔ یہی انتفادہ کی کامیابی اور بھارت کی ناکامی ہے۔ بھارت کو چاہئے کہ وہ خطے میں کشیدگی اور تنائو کی فضا قائم کرنے سے گریز کرے اور اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا سیکھے۔پاکستان کی جانب سے عالمی اداروں کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرنے اور ان کی توجہ مبذول کروانے کے باوجود اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں بھارت سے اس ضمن میں تعرض نہیں رکھتیں جس سے بھارت کو شہ ملتی ہے اور وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے ساتھ کنٹرول لائن کی خلاف وزی سے باز نہیں آتا۔ اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میںبھارتی مظالم کا نوٹس لینا چاہئے اور کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار اداکرنا چاہئے۔
سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ کا سنگین مسئلہ
اگرچہ وزیر اعظم کے مشیر امیر مقام نے سوئی ناردرن گیس کے دفتر میںکھلی کچہری کا انعقاد کر کے گیس صارفین کی شکایات کا ازالہ کرنے کی سعی کی ہے مگر امر واقع یہ ہے کہ سر دیوں میں صوبے کے گیس صارفین کو خاص طور پر گھر یلوصارفین کو گیس کی لوڈ شیڈنگ اور پریشر میں شدید کمی کے مسائل کا سامنا رہتا ہے جس پر قابو پانے میں کسی طور بھی کامیابی نہیں ہوتی ۔ اس کے باوجود کہ سوئی ناردرن گیس کمپنی کے ایم ڈی نے حال ہی میں دعویٰ کیاتھا کہ لائن لاسز کم ہو کر 18اعشاریہ 3فیصد تک آنے کی وجہ سے سردیوں میں کسی سیکٹر میں گیس کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی ۔ حقیقت یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت کا یہ حال ہے کہ اخبارات میں شہر کے مختلف علاقوں سے گیس کی بے دریغ کمی کی شکایات عام ہے اور صبح کے وقت گیس کی کمی کی وجہ سے ملازم پیشہ لوگ دفاتر جبکہ سکو ل و کالج کے طلبہ و طالبات تعلیمی اداروں کو بغیر ناشتہ کے جانے پر مجبور ہوتے ہیں یہاں تک کہ فجر کے اوقات میں بھی گیس نہیں ہوتی اور نمازیوں کو فجر کی تیاری میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ گیس کی تقسیم کے نظام پر صوبے کو رسائی نہ ملنے کی وجہ سے سوئی گیس کمپنی صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اپنی گیس سے محروم رکھنے کی سازش کرتی ہے جو آئین کی صریح خلاف ورزی ہے ۔بعض عاقبت نا اندیش عناصر نے گیس پریشر کو بڑھانے کے لئے لائن پرپمپ لگا کر پریشر حاصل کرنے کا خطرناک طریقہ اپنا رکھا ہے جو نہ صرف دیگر صارفین کی حق تلفی کاباعث ہے بلکہ کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا موجب بھی بن سکتا ہے۔ سوئی ناردرن گیس کے حکام کو جہاں گیس پریشر کو موزوں حد تک لانے کی سعی کرنی چاہئے وہاں غیر قانونی پریشرپمپ فروخت کرنے والوں اور استعمال کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں