احتساب کا ادارہ

احتساب کا ادارہ

چیئرمین احتساب بیورو قمر زمان چوہدری آج کل بیورو کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ پلی بارگیننگ کا قانون جس کے ذریعے کرپشن کا ملزم لوٹی ہوئی رقم یا اس کا کچھ حصہ قومی خزانے کو واپس کرکے بری ہو جاتا ہے بیورو کی تفتیش کا ہتھیار ہے۔ یعنی اس کے ذریعے بیورو کرپشن کے الزام کی تفتیش کرتا ہے۔ چودھری صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ ملزم سے رقم کی وصولی کے بعد اسے صرف سزائے قید سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے باقی سزا یعنی عہدے سے معزولی اور دیگر مراعات کے خاتمے کی سزا برقرار رہتی ہے۔ اس وضاحت کے باوجود ملک کے عام اور خاص لوگ نیب کے ملزم کو سوداکاری کی اجازت دینے کے قانون اور بیورو کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ سپریم کورٹ نے پچھلے دنوں بیورو کے اس طریقہ کار پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ میڈیا پر بھی کبھی کبھار اس موضوع پر بحث دکھائی دے جاتی ہے۔ نیب کا ادارہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں قائم ہوا تھا۔ جواز یہ بنایا گیا تھا کہ اس سے پہلے بڑے بڑے وائٹ کالر والے جرائم پر مناسب گرفت نہیں ہوتی تھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ جنرل صاحب نے یہ ادارہ سیاسی مقاصد انگریزی محاورے کے مطابق بعض لوگوں کا بازو مروڑنے کے لیے قائم کیا تھا۔ اس دور میں اس کی کارکردگی کے کئی اہم واقعات بھی خبروں کا حصہ بنے۔ اور نیب نے بڑے طمطراق سے اعلانات کیے کہ اس دارے نے کرپشن کے اربوں روپے سفید پوش ملزموں سے اگلوا لیے ہیں۔ نیب اب تک قائم ہے اور حسب توفیق کام کر رہا ہے تاہم یہ بات اس وقت بھی نا قابلِ فہم تھی کہ مجرموں کو لوٹی ہوئی رقم یا اس کا کچھ حصہ وصول کرکے بری کر دینا آیا قرین انصاف ہے یا نہیںاور آج بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے ۔ اس قانون پر سپریم کورٹ کے ججوں کے ریمارکس میں برہمی کے اظہار کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت اس نظام میں تبدیلی کرتی اور پلی بارگیننگ کے قانون کو حذف کر دیا جاتا۔ لیکن پھر احتساب بیورو کیسے باقی رہ سکتا تھا جس کے چیئرمین کا تقرر قومی اسمبلی میں قائد حزب اقتدار اور قائد حزب اختلاف باہمی مشورے سے کرتے ہیں خواہ دونوں مفاہمت کی سیاست کے دعویدار ہوں۔ مفاہمت کی سیاست کے باوجود بڑے اداروں کے سربراہوں کا تقرر وزیر اعظم یعنی قائد حزب اقتدار کی ذمہ داری رہتی ہے۔ جو وہ قاعدے قانون کے مطابق نبھانے کے پابند ہیں۔ تو پھر سفید پوش کرپشن کے انسداد کے ادارے کے سربراہ کے تقرر پر کیوں وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کا اتفاق رائے ضروری ہے؟ کیا اس لیے کہ حزب اختلاف کو احتساب بیورو کی کارکردگی پر سوال اٹھانے سے روک دیا جانا مقصود ہے؟ 

ایک اور بات توجہ طلب یہ ہے کہ نیب کے قیام اور کارکردگی کی وجہ سے کرپشن میں کس قدر کمی آئی۔ احتساب بیورو کے قائم رہنے کا جواز اسی سوال کے جواب سے حاصل ہو سکتا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا کہنا ہے کہ ملک میں روزانہ 12ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔
اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ گزشتہ کتنے سال کے دوران ملک میں کتنی کرپشن ہوئی۔ اس کے جواب میں احتساب بیورو کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران پونے تین سو ارب سے زیادہ رقم پلی بارگیننگ کے قانون کی بدولت قومی خزانے میں جمع کرائی گئی ۔ تین سال میں ایک ہزار سے زیادہ دن ہوتے ہیں ۔ 12ارب روپے روزانہ کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ تین سو ارب تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ۔ پھر ان تین برسوں کے دوران احتساب بیورو اور اس کے افسروں اور اہل کاروں پر کیا خرچہ آیا وہ اپنی جگہ ہے۔ احتساب بیورو نہایت بلند و بانگ دعویٰ بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے کیس کاکرتا ہے۔ لیکن اس کیس میں تو پلی بارگیننگ کے ذریعے وہی کچھ قومی خزانے میں گیا جو پہلے سے عام معلومات کا حصہ تھا۔ یعنی وہی پینسٹھ ستر کروڑ روپے کے قریب کرنسی نوٹ اور سونے کے زیورات جن کی فلم ٹی وی پر عوام نے دیکھ لی تھی اور کچھ ان کے بنگلے جو ان کے نام پر تھے۔ نیب نے چھ سات ماہ تفتیش کے ذریعے کیا حاصل کیا؟ مشتاق رئیسانی یہ رقم دے کر بری ہو گئے لیکن کرپشن کوئی شخص اکیلا نہیں کرتا۔ ان کے ساتھ جو اہل کار شریک تھے ان کی بریت کے ساتھ وہ سارے اہل کار، پردہ نشین کے پردہ نشین رہے یعنی ان پر تفتیش کی آنچ بھی نہیں آئی۔ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آج تک جتنے لوگ نیب کے پلی بارگننگ کے قانون کے تحت بری ہوئے ان کے کتنے شریک ساتھی کس ادارے کو جواب دہ ہوئے۔ کتنے پاکستانیوں نے دوبئی کی جائیدادیں اور دیگر ملکوں میں اثاثے نیب کے ذریعے قومی خزانے کو دیے؟
سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے ایک کھلے خط میں تجویز دی ہے کہ نیب کے اوپر ایک بڑا ادارہ فیڈرل کمیشن برائے احتساب کے نام سے قائم کر دیا جائے جس کے ارکان میں ایک حاضر سروس جج سپریم کورٹ ' فوج کا ایک لیفٹینٹ جنرل' سول سروس کا 22گریڈ کا ایک افسر ، پولیس اور سول آرمڈ فورسز کا ایک ایک افسر 4بارز ایسوسی ایشنز ، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں ' صحافیوں اور پروفیشنلز کے ارکان اور چار ارکان پارلیمنٹ شامل ہوں۔ یہ کمیشن چیئرمین نیب کا انتخاب کرے۔یہ سب ماہر چارٹرڈ اکاؤٹنٹس کا کام ہے۔ جن عہدیداروں کا چیئرمین سینیٹ نے ذکر کیا ہے ضروری نہیں کہ ان میں اکاؤنٹس کی پیشہ ورانہ شدھ بدھ رکھنے والے بھی شامل ہوں۔ اس تجویز میں چیئرمین نیب کی تقرری قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف سے لے کر ایک وسیع بورڈ کو دے دی گئی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ پلی بارگیننگ کا قانون انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔ نیب کے قیام کے بعد کرپشن میں کمی آئی ہے یا نہیں؟ قوم کو احتساب چاہیے یا احتساب بیورو خواہ اس کے چیئرمین کا تقرر دو افراد کریں خواہ 22افراد۔

متعلقہ خبریں