یہودی ریاست یا جمہوری ریاست؟

یہودی ریاست یا جمہوری ریاست؟

اسرائیل کے تناظر میں یہ مصرعہ کس قدر برمحل ہے ''لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی'' آج امریکی وزیر خارجہ سوال پوچھتے ہیں کہ اسرائیل نے جمہوری ریاست بننا ہے یا یہودی ریاست؟ کل جب استعماری قوتیںفلسطین میں یہودی آبادکاری کی مرتکب ہو رہی تھیں تو اس وقت کون سی ریاست وجود میں لائی جا رہی تھی؟ اصل سوال تو یہ ہے اور اس کا جواب برطانیہ اور اس کی اتحادی طاقتوں سے مانگنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے فلسطین میں یہودی ریاست کا قیام عمل میں لا کر دنیا کے امن کو ہمیشہ کے لیے کیوں خطرے میں ڈال دیا؟ یہ غالباً انیسویں صدی کی آخری دہائی تھی جب یہودیوں کی عالمی تنظیم نے سلطنت عثمانیہ سے درخواست کی کہ فلسطین میں یہودیوں کو آباد ہونے کی اجازت دی جائے۔ 1896ء میں عالمی صیہونی تنظیم کے پہلے صدر تھیوڈر ہرزل نے سلطنت عثمانیہ کا دورہ کیا اور گرینڈ وزیر کو پیش کش کی کہ اگر فلسطین کو یہودیوں کا وطن بنا دیا جائے تو بدلے میں ترکی کے ذمہ واجب الادا قرضے نہ صرف ادا کر دیے جائیں گے بلکہ ترکی کی معیشت کی بہتری کے لیے مزید امداد بھی دی جائے گی۔ ہرزل بعد ازاں سلطان عبدالحمید سے بھی ملا لیکن مسلم دنیا کا سربراہ ہونے کے ناطے سلطان نے یہ کہہ کر یہودیوں کی پیش کش کو ٹھکرا دیا کہ میں اپنے جسم کا کوئی حصہ کٹوا سکتا ہوں لیکن میرے جیتے جی یہ ممکن نہیں کہ فلسطین کو مسلمان دنیا سے کاٹ کر یہودیوں کے حوالے کر دوں۔ دریں اثناء جرمنی کے شہر بیس (Basel)میں 29اگست 1897ء کو صیہونی کانگریس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں طے کیا گیا کہ انکار کی صورت میں خلافت عثمانیہ کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ تاریخ کے صفحات میں یہودیوں کی وہ سازشیں محفوظ ہیں جو انہوں نے وقتاً فوقتاً سلطنت عثمانیہ کو توڑنے کے لیے کیں۔ انجمن نوجوانانِ ترکی کیسے بنی اور اس کے بانی کون تھے، اس حوالے سے تفصیل درکار ہو تو جوزف بِروڈا کی اُس رپورٹ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جو اُس نے 1994ء میں کانفرنس آف دی شلر انسٹی ٹیوٹ واشنگٹن میں پیش کی۔ یہودیوں کی سب سے پرانی عالمی تنظیم بنائے بیرتھ کے عہدیداران ہی دراصل ینگ ترکی موومنٹ کے بانی اور روح رواں تھے جنہوں نے سلطنت عثمانیہ کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ عالمی طاقتوں میں برطانیہ نے یہودیوں کی عالمی پیش کش کو خوش آمدید کہا اور فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کا وعدہ بالفورڈیکلیئریشن کی صورت میں سامنے آیا۔ ابتداء میں برطانیہ نے مشرقی افریقہ کے ملک یوگنڈا میںخودمختار یہودی علاقہ مہیا کرنے کی پیش کش کی تھی لیکن یہودیوں نے اس کو ٹھکرا دیا۔الغرض 1917ء کے بالفور ڈکلیئریشن نے فلسطین میں یہودی وطن اسرائیل کی جو بنیاد رکھی اُس کی عملی شکل 1948ء میں بعد ازاں اسرائیل کے باضابطہ قیام کی صورت میں دنیا کے سامنے آئی۔ عالم عرب کے مرکز اسرائیل کا ناسور پیدا کرنے والوں نے مظلوم فلسطینیو کے حقوق پر ہی ڈاکہ نہیں ڈالا بلکہ تمام خطۂ عرب کے امن و سکون کو بھی غارت کر دیا۔ اسرائیل کی پیدائش کا ذمہ دار اگر برطانیہ ہے تو اس کی پرورش اور حفاظت کا گنہگار امریکا ہے جس نے فلسطینیوں کے حقوق غصب کرنے میں ہمیشہ اسرائیل کی مدد کی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکہ نے سیکورٹی کونسل کی قرارداد منظور ہونے دی ہے ورنہ امریکہ آج تک ہر اُس قرارداد کو ویٹو کرتا آ رہا ہے جو اسرائیل مخالف سمجھی جا سکتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ نے 1972ء سے لے کر 2006ء تک سلامتی کونسل کی 42قراردادوں کو ویٹو کیا ہے۔ یہ اسرائیل پر امریکہ کا کرم ہے کہ غزہ کے پندرہ لاکھ فلسطینی عوام کھلی جیل میں قید ہیں۔ 31مئی 2010ء کو اسرائیل نے ترکی سے جانے والے فریڈم فوٹیلا پر فائرنگ کر کے بربریت کی نئی تاریخ رقم کی لیکن امریکہ کا ضمیر پھر بھی نہ جاگا۔ غزہ کے شہریوں کے لیے خوراک لے کر جانے والے چھ جہازوں کے اس قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں بیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے لیکن انسانی حقوق کے چیمپئن کہلانے والے ممالک کی قیادت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ مغربی ممالک نے عرب خطۂ زمین میںیہودی ریاست کا بیج بویا اور اس کی بھرپور آبیاری کی ہے۔ آج انہیں احساس ہو رہا ہے کہ انہوں نے کتنی بڑی غلطی کر دی ہے۔ آج وہ اسرائیل کے جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ سینہ تان کر اُن کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ تازہ ترین رد عمل میں اسرائیل کے وزیر دفاع نے فرانس کے یہودیوں کو فرانس چھوڑنے اور اسرائیل میں آکر آباد ہونے کی جہاں ہدایت کی وہیں اسرائیل نے کئی ممالک سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے اور بعض ممالک میں اپنے امدادی پروگرام روک دیے ہیں۔ سینی گال اور نیوزی لینڈ سے سفیروں کو واپس بلانے کے علاوہ اسرائیل نے یوکرائن کے وزیر اعظم کے اسرائیلی دورے کو منسوخ کر دیا ہے۔ یعنی ایک جانب ساری دنیا ہے اور دوسری طرف اسرائیل تن تنہا کھڑا للکار رہا ہے ۔اسرائیلی اور فلسطینی قیادت کی منظوری کے باوجود آج تک دو ریاستوں کا خواب عملی تعبیر نہیں پا سکا تو اس کی وجہ امریکہ اور صرف امریکہ ہی ہے چونکہ یہ وہی ہے جس نے اسرائیل کی خواہشات کو ہر صورت اکاموڈیٹ کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ صدر اوباما اگلے ماہ فرانس میں ہونے والی اسرائیل فلسطین امن شیڈول کانفرنس میں ممکن ہے کچھ ایسا کرنے کی کوشش کریں جو فلسطینی عوام کے زخموں پر مرہم رکھے لیکن بالآخر وہی ہو گا جو ٹرمپ چاہیں گے۔ 

متعلقہ خبریں