امریکہ کی مبہم افغان پالیسی

امریکہ کی مبہم افغان پالیسی

افغان حکومت کی جانب سے ماسکو میں ہونے والے حالیہ چین ' پاکستان اور روس کے ایک اجلاس پر شدید تنقید کے بعد افغانستان میں کئی تجزیہ نگاروں نے سہ فریقی مذاکرات کو ایک نئی ''گریٹ گیم'' یعنی بڑے کھیل کا نام دیا ہے۔ افغان صدر کے دفتر کے نائب ترجمان دوا خان نیہاپال اور وزارت خارجہ کے ترجمان شکیب مستغنی نے اپنے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ افغانستان کی شرکت کے بغیر ان کے ملک کے لیے کوئی بھی فیصلہ منظور نہیں۔ افغانستان میں سہ فریقی اجلاس کی تفصیل آنے سے پہلے بیانات اور میڈیا میں بحث شروع ہو گئی ۔ حالانکہ اجلاس کے اختتام پر جاری بیان کا اگر مطالعہ کیا جائے، شاید یہ افغانستان کے مفاد میں ہے کہ روس ، چین اور پاکستان کے مذاکرات کے عمل کی حمایت کی جائے۔ مشترکہ بیان میں افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار ' افغان امن عمل کی حمایت ' افغان مسلح گروہوں کی قومی دھارے میں شمولیت کی حمایت اور روس کی طالبان یا دیگر مسلح گروپس کے اراکین سے عالمی پابندیاں اٹھانے میں مدد کا وعدہ کیا گیا۔

افغان حکومت کی یہ شکایت درست ہے کہ اگر افغانستان سے متعلق کوئی بھی بین الاقوامی مذاکرات ہوں تو افغانستان اس کا حصہ ہونا چاہیے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سہ فریقی مذاکرات میں کابل کی شرکت کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ چین ' روس اور پاکستان کے سفارت کاروں کا یہ فیصلہ درست ہے کہ افغانستان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ لیکن افغانستان کو سہ فریقی عمل کے نتائج سامنے آنے سے پہلے منفی رد عمل کا اظہار معاملات کو پیچیدہ کر سکتا ہے۔ روس اور چین کا خیال ہے کہ افغانستان میں جنگ کا جاری رہنا ان کے مفادات کونقصان پہنچا رہا ہے۔ داعش کی موجودگی اور بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ان دونوں ممالک کے لیے تشویش کا باعث اس لیے ہیں کہ چین افغانستان کا پڑوسی ملک ہے اور روس کا موقف ہے کہ داعش مرکزی ایشیائی ممالک کے راستے ان کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر پاکستان ان دونوں ممالک سے مل کر بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف تعاون کرتا ہے تو افغانستان کو اعتراض کیوں ہے؟
اگر افغانستان میں حکومتی ترجمان اور ان کے حمایتی تجزیہ کاروں کو روس ،چین اور پاکستان کے مشوروں پر اعتراض ہے تو کچھ لوگ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ امریکا اور ناٹو کی فوجی مداخلت اور 16سال سے جاری لڑائی درست ہے اور چین ، روس اور پاکستان کی افغانستان میں خطرات پر تشویش اور امن عمل کی حمایت غلط؟ افغانستان میں نہ ختم ہونے والی جنگ کا امریکا اور ان کے مغربی اتحادیوں کو زمینی حقائق کو سمجھنا پڑے گا۔ اگر امریکا 16سال کے بعد بھی افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے کوئی کردارادا نہیں کر رہا تو دیگر عالمی طاقتوں اور خطے کے اہم ممالک کو یہ کردار ادا کرنے دیجئے۔ یہاں ایک اور اہم نقطے کی طرف بھی متوجہ ہونے کی ضرورت ہے کہ سہ فریقی مذاکراتی عمل کا مقصد افغانستان میں امن و استحکام کے لیے کام کرنا پڑے گا نہ کہ امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کے لیے کوئی پیغام دینا مقصد ہو۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا اور ان کے مغربی اتحادی ا س خطے میں جنگ لانے کے ذمہ دار ہیں اور اس کے خاتمے میں بھی ان کا کردار بنیادی ہے۔ امریکا کو یہ تاثر بھی ختم کرناہوگا کہ افغانستان میں ان کی جنگ کا مقصد القاعدہ کو ختم کرنا تھا یا مقاصد کوئی اور بھی ہیں؟ اسامہ بن لادن اب موجود نہیں۔ القاعدہ اس خطے سے منتقل ہو چکی ہے تو امریکا کی پالیسیاں بھی تبدیل ہونی چاہئیں۔ طالبان نے کئی مرتبہ اعلان کیا ہے کہ وہ سیاسی عمل کے سلسلے میں امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاکہ موجودہ تقریباً 15000غیر ملکی فوجیوں کے انخلا پر بات چیت کی جائے۔ طالبان کے اس موقف کے ساتھ کسی حد تک اتفاق کیا جا سکتا ہے ۔ کیوں کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کا اختیار امریکا کے پاس ہے۔ یہاں طالبان کو بھی صرف امریکا سے براہ راست مذاکرات کی شرط پر نظر ثانی کرنا پڑے گی کیونکہ مسئلے کا حل بین الافغانی مذاکرات ہیں۔ طالبان کو حزب اسلامی اور صدر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ مذاکرات اور ستمبر میں ہونے والا امن معاہدہ ایک تازہ مثال ہے۔ اگرچہ حزب اسلامی اور حکومت کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد انتہائی سست ہے لیکن باوجود اس کے یہ اس لیے اہم ہے کہ بین الافغانی مذاکرات کے نتیجے میں ہوا ہے۔ 12دسمبر کو افغان حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے باضابطہ طور پر گلبدین حکمت یار سے پابندیاں ختم کرنے کے لیے کہا تھا لیکن اس وقت تک اقوام متحدہ نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ 

اگرچہ روس اور چین نے اعلان کیاہے کہ طالبان اور دیگر افغان گروپس کے ممبران سے پابندیاں ہٹانے سے متعلق نرم پالیسی اختیار کریں گے تو پھر حکمت یار سے پابندیاں ختم ہونے میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ بظاہر تو ذمہ دار سلامتی کونسل کے تین اور مستقل ممالک امریکا، برطانیہ اور فرانس ہیں۔ امریکا کو اپنی پالیسی واضح کرنا ہو گی کہ واقعی وہ افغانستان میں امن کا حامی ہے یا 16برس سے جاری جنگ کو مزید طول دینے کی پالیسی اختیار کرتا رہے گا؟

متعلقہ خبریں