مقصد اور خواہش میں فرق کرنا سیکھئے

مقصد اور خواہش میں فرق کرنا سیکھئے

زندگی ہمارے سامنے اپنی تمام تر حشرسامانیوں کے ساتھ موجود ہوتی ہے ہم نے آگے بڑھ کر اپنا حصہ سمیٹنا ہوتا ہے لیکن ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو اپنا حصہ وصول کرنے پر قادر ہوتے ہیں کتنے ایسے ہیں جو اپنے اندر موجود حیران کن صلاحیتوں سے باخبر ہوتے ہیں یا ان سے کام لینا جانتے ہیں؟انسانی رویے زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ہر انسان اپنی سوچوں کے حوالے سے زندگی گزارتا ہے زندگی سے روٹھا ہوا ایک ناامید انسان کامیابی سے بہت دور ہوتا ہے جبکہ پر امید انسان زندگی سے ملنے والی ٹھوکروں اور ناکامیوں کو اپنے لیے سیڑھی بنا کر اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور یوں کامیابی اس کا مقدر ٹھہرتی ہے ۔اس وقت ہمارے سامنے چند کردار ہیںجو کامیاب زندگی کے حوالے سے اپنے نظریات ہیں رکھتے ہیںجو اپنے لیے کامیاب زندگی کا انتخاب کرنے میں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ آگے بڑھ کر زندگی کے جام کو اٹھا کر پی جاتے ہیں۔ ان کے پاس زندگی گزارنے کے کچھ اصول ہیں کامیابی حاصل کرنے کے چند گر ہیںکچھ رویے ہیں جو بالآخر کامیابی کی ضمانت بن جاتے ہیں۔ ان سب کا ایک ہی موٹو ہے کہ'' زندگی سے جو کچھ بھی حاصل کر سکتے ہو کرلو ''ابھی Lou Holtzامریکہ کی ایک مشہور و معروف یونیورسٹی کی فٹ بال ٹیم کا کوچ نہیں بنا تھا لیکن وہ اپنے لیے ایک سو سات اہداف مقرر کرچکا تھا ۔یہ فہرست ہر وقت اس کی جیب میں پڑی رہتی وہ کہتا کہ میں مرنے سے پہلے یہ 107مقاصد ضرور حاصل کروں گا حیران کن بات یہ ہے کہ وہ اب تک 91کا ہندسہ عبور کرچکا ہے اس کے بچے یونیورسٹی سے اپنی گریجویشن مکمل کرچکے ہیں اور اسی طرح کے دوسرے بہت سے اہداف تک وہ رسائی حاصل کرچکا ہے۔ اس کی کامیابی کاراز ایک جملے میں پوشیدہ ہے ''اپنے لیے اہداف مقرر کرو اور پھر انہیں حاصل کرنے کے لیے تن من دھن دائو پر لگادو''ہم میں سے بہت سے لوگ زندگی کو ایک تماشائی کے طور پر دیکھتے اور گزارتے ہیں جب انسان اپنے مقرر کیے ہوئے اہداف کی تکمیل میں لگ جاتا ہے تو پھر وہ تماشائی نہیں رہتا بلکہ زندگی کے وسیع سمندر میں چھلانگ لگا کر اس میں شامل ہوجاتا ہے ۔ہم سب لوگوں کے خواب ہوتے ہیں خواہشات ہوتی ہیں مگر ہم میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جن کے مقاصد ہوتے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے مقصد کو واضح طور پر اپنے سامنے رکھو Dave Thomas جب آٹھ برس کا تھا تو اس نے ایک ریسٹورنٹ کا مالک ہونے کا خواب دیکھا یہ اس کی زندگی کا مقصد تھا وہ یتیم تھا اس نے غربت دیکھی تھی بھوک سے آشنا تھا ریسٹورنٹ کا مالک ہونے کا مقصد اس لیے سامنے رکھا گیا تھا کہ وہ بھوکا نہیں رہنا چاہتا تھا۔ اس نے ایک پرسکون اور محبت بھرے ماحول میں پرورش نہیں پائی تھی وہ تعلیم میں بھی کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کرسکا تھا لیکن وہ اپنے مقصد کے ساتھ چپک گیا جب وہ بارہ برس کا تھا کہ ایک ریسٹورنٹ میں بطور کائونٹر مین ملازم ہوگیا پھر آہستہ آہستہ ترقی کرتے کرتے ایک ریسٹورنٹ کا منیجر بن گیا اس کا مقصد اس کے سامنے تھا اس کے سامنے سے رکاوٹیں دورہوتی چلی گئیں اور پھر وہ ایک بہت بڑے فائیو سٹار ہوٹل کا چیف ایگزیکٹیوبن گیا اور پھر بالآخر اس نے اتنا سرمایہ بنا لیا کہ اپنا ذاتی ریسٹورنٹ خرید سکے آج وہ تین ہزار آٹھ سوریسٹورنٹس کا مالک ہے یہ بات ذہن میں رہے کہ ریسٹورنٹ کا مالک بننا اس کی خواہش نہیں بلکہ مقصد تھا بسا اوقات لوگ اپنے لیے مشکل ہدف مقرر کرتے ہیں اور پھر مایوس ہوکر اسے چھوڑ دیتے ہیں ہدف مقرر کرتے ہوئے اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے کہ وہ آپ کی صلاحیتوں ،آپ کے ذہنی رجحان سے مطابقت رکھتا ہو اور اس کا حصول ممکن ہو !پچاس برس کی عمر میں ڈبل سنچری سکور کرنا ایک کرکٹر کی خواہش تو ہوسکتی ہے مگر مقصد نہیں !اگر اپنے مقصد کو کسی کاغذ پر لکھ لیا جائے تو ارادوں میں پختگی آجاتی ہے منزل سامنے نظر آنے لگتی ہے پھر اس کے حصول کے لیے ایک منصوبے کا ہونا بہت ضروری ہے اس کے بعد مستقل مزاجی کے ساتھ ایک ایک قدم آگے بڑھا جاتا ہے ۔یاد رکھیے ہتھیلی پر سرسوں کبھی بھی نہیں جما کرتی حقیقی زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب ابراہم لنکن سے اس کے ٹیچر نے اس کی زندگی کا مقصد پوچھاتھا تو اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہا تھا میں امریکہ کا صدر بننا چاہتا ہوں کلاس کے دوسرے بچے اس کی بات سن کر ہنس پڑے تھے دراصل امریکی صدر بننا اس کی خواہش نہیں تھی بلکہ اس کی زندگی کا مقصد تھا اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پھر وہ ساری زندگی انہی خطوط پر کام کرتا رہا جو اسے امریکہ کی کرسی صدارت کے قریب لے جاسکتے تھے۔ وہ پے درپے بہت سے انتخابات ہارتا چلا گیا لیکن وہ دھن کا پکا تھا وہ مایوس نہیں ہوا بلکہ ہر ناکامی اس کے ارادوں کو مزید مضبوط کرتی چلی گئی اور پھر ایک دن وہ صدارتی انتخابات میں اپنے حریف کو شکست دے کر امریکہ کا صدر بن گیا۔وطن عزیز کے کروڑوں جوانوں سے صرف یہ پوچھنا ہے کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ انہوں نے اپنے لیے کون سا ہدف مقرر کررکھا ہے ؟ اپنے مقصد کے حصول کے لیے کتنی سنجیدگی سے کام کررہے ہیں؟مقصد اور منصوبہ بندی لازم و ملزوم ہیں۔توجہ ، محنت ،مستقل مزاجی اوردیا نت داری اس دریا سے نکلنے والی چھوٹی چھوٹی ندیاں ہیںجو مسافر کو اپنی منزل تک پہنچانے میں معاون و مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں