سندھ طاس معاہدے کا مستقبل؟

سندھ طاس معاہدے کا مستقبل؟

اب توسینیٹ کے چیئر مین میاں رضاربانی نے بھی کہہ دیاہے کہ پانی کا تنازعہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی وجہ بن سکتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک بھارت کو پسندیدہ بچہ قرار دینا چھوڑ دے ۔ایک طرف چیئرمین سینیٹ کا یہ کہنا تو دوسری طرف بھارت کا دانشور طبقہ پاکستان کی سینیٹ کی مجلس قائمہ کی ایک رپورٹ ہاتھوں میں لہرا رہا ہے جس میں کہا گیا کہ بھارت پاکستان کا پانی نہیں روک رہا بلکہ پانی کی کمی کا سبب پاکستانی اداروں کی ناقص حکمت عملی اور پانی کے ضیاع کو روکنے میں ناکامی ہے ۔انڈین ایکسپریس میں ایک سابق بیوروکریٹ تلک دیواشر کا مضمون ''بے آب قوم ''کے نام سے ایک مختصر مگر چونکا دینے والا مضمون اسی سوچ کے گرد گھوم رہا ہے ۔جس میں پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کم ہوتے ہوئے آبی ذخائر،پانی کو سمندر میں گرنے سے بچانے ،نہروں میں ضائع ہونے سے بچانے کے ناقص انتظامات،گلوبل وارمنگ ،گلیشئروں کے پگھلائو کو پانی کی کمی کی وجوہات ثابت کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ایسی قوم جس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے اس جھٹکے کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔بھارت کے عزائم اپنی جگہ مگرحقیقت یہی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازعہ ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان آبی تنازعات کے حل کی بہترین مثال قرار پانے والا سندھ طاس معاہدہ بھارت کے رویے کے باعث غیر موثر ہوتا جا رہا ہے ۔ ورلڈ بینک کی صورت میںاس معاہدہ کے عالمی ضامن بہت صفائی کے ساتھ دنیا کے پیچیدہ سیاسی اور عسکری تنازعے میں گھرے دوملکوں کے درمیان سے غائب ہونے لگے ہیں ۔ماضی میں اقوام متحدہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر تنازعے میں اسی رویے کا مظاہرہ کیا تھا ۔مسئلہ کشمیر دہائیوں تک اقوام متحدہ کے ایجنڈے کا حصہ رہا اور پورے شد ومد کے ساتھ عالمی ایوان میں زیر بحث آتا تھا ۔ان میں کچھ قومیں پاکستان او رکچھ بھارت کے موقف کی حمایت کرتی تھیں مگر تنازعہ اصل سیاق سباق کے ساتھ موجود تھا ۔پھر 1965کی پاک بھارت جنگ کے بعد سوویت یونین کے شہر تاشقند میں دونوں ملکوں کے سربراہوں کو ایک میزکے گرد بٹھا کر اقوام متحدہ غائب ہو گئی تھی۔ یوں اقوام عالم نے یہ کہہ کر اس مسئلے سے جان چھرا لی تھی کہ اب پاکستان اور بھارت باہمی طور پرمذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔اس کے بعد سے مدت گزر گئی مگر پاکستان اور بھارت مسئلہ حل کر سکے اور نہ وقت کی طوالت اور بھائو مسئلے کی شدت اور حدت کو کم کر سکا۔اس کے بعد بھی دونوں ملک کشمیر کی سرزمین پر اُلجھتے اور جھگڑتے چلے آرہے ہیں ۔اب یوں لگتا ہے کہ عالمی طاقتیں کچھ یہی رویہ پاکستان اور بھارت کے درمیان برسوں سے چلے آنے والے آبی تنازعے کے بار ے میں اپنا رہی ہیں۔اس تاثر کو سندھ طاس معاہدے کے عالمی ضامن ورلڈ بینک کے حالیہ رویے سے مل رہی ہے۔جس کے بعد بظاہر تو سندھ طاس معاہدے کے مستقبل کے آگے سوالیہ نشان کھڑا ہو رہا ہے مگر درحقیقت یہ خطے کے مستقبل کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔تمام ماہرین اور محققین اس بات پر متفق چلے آئے ہیں کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعہ لاینحل ہوتا چلا گیا تو اس کا نتیجہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک تباہ کن جنگ کی صورت میں برآمد ہو گا۔یوں تو بھارت دریائے نیلم پرکشن گنگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے نام سے 330میگا واٹ اور دریائے چناب پر رتلے پاور پروجیکٹ کے نام سے 850میگاواٹ کے بجلی گھر تعمیر کر رہا ہے مگرنریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعدتو پاکستان کا پانی روکنے کی کوششوں میں دیدہ دلیری آگئی اور بات یہاں تک جا پہنچی کی مودی نے عالمی طاقتوں کی گارنٹی کے نتیجے میں 1960میں سندھ طاس معاہدے کے نام سے طے پانے والے پانی کی تقسیم کے معاہدے کو ختم کرنے کی باتیں برسرعام کہنا شروع کیں ۔مودی نے کہا جس پانی پر بھارت کے کسان کا حق ہے وہ پانی کسی کو نہیں دیا جائے گا۔نریندر مودی کے اس دھمکی آمیز طرزبیاں سے پاکستانی قیادت کا ماتھا ٹھنکا اور بھارت کی آبی جارحیت کا خوف حقیقت میں ڈھلتا نظر آنے لگا۔پاکستان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بھارت یک طرفہ طور پر پاکستان کے حصے کا پانی نہیں روک سکتا ۔اس کے باوجود بھارت بہت سے چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرنے میں مصروف ہے اور اس معاملے میں پاکستان کے اعتراضات کو پرکاہ برابر اہمیت دینے کو تیار نہیں۔پانی کی کشمکش کا ایک نیا موڑ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کے تمام پہلوئوں کا جائزہ اور فیصلہ سازی کے لئے ایک ٹاسک فورس کا قیام ہے ۔اس ٹاسک فورس کا کام چھ دریائوں پر قائم کئے جانے والے ڈیموں اور دیگر کاموں کا جائزہ لینا ہے۔یہ ٹاسک فورس تما م سٹریٹجک اور پالیسی فیصلے کرنے کے علاوہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھی فیصلے کے اختیار کی حامل ہوگی۔ اب بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان نے آبی تنازعے کو حل کرنے کے لئے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے ۔پانی کا موجودہ تنازعہ اگر وقتی طور پر حل بھی ہوجائے تو اب دونوں ملکوں میں بداعتمادی کا جو عنصر پیدا ہوگیا ہے اس میں حقیقی کمی کا کوئی امکان نہیں ۔پاکستان کو بھارت اس رویے کو مدنظر رکھ کر طویل المیعاد حکمت عملی تشکیل دینا چاہئے۔ایسا لگتا ہے کہ پانی دونوں ملکوں کے درمیان ایک خوفناک تصادم کی بنیاد بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں