آرمی چیف کا دورہ پاڑہ چنار

آرمی چیف کا دورہ پاڑہ چنار

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا موسم کی خرابی کے باعث ملتوی ہونے والا دورہ پاڑہ چنار کا موقع ملتے ہی دورہ کرکے علاقے کے متاثرہ عوام سے اظہار ہمدردی اور ملاقات کے بعد احتجاجی دھرنا دینے والوں کا بنیادی مطالبہ پورا ہوگیا۔ خیال رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ عید الفطر کے دوسرے روز پاڑہ چنار کے دورے پر روانہ ہوئے تھے لیکن خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر زمین پر نہیں اتر سکا تھا جس کی وجہ سے ان کا دورہ ملتوی کر دیا گیا تھا۔گزشتہ ہفتے جمعہ الوداع کے موقع پر وفاق کے زیر انتظام فاٹا کی کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں یکے بعد دیگرے2دھماکوں کے نتیجے میں 41افراد جاں بحق اور100سے زائد زخمی ہوگئے تھے جبکہ بعد میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 75تک پہنچ گئی تھی۔جس کے بعد پاڑہ چنار کے عوام نے دھماکے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا۔واضح رہے کہ دھرنے کے شرکا پاڑہ چنار میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس سے قبل دھرنے کے شرکا نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ان کا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ان سے آ کر مذاکرات نہیں کرتے۔روانگی سے قبل آرمی چیف کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند دہشت گردی کے ذریعے پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینے میں ناکام رہیں گے۔ بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ہم سب متحد ہیں۔جہاں تک متاثرہ خاندانوں کو معاوضوں کی ادائیگی ملک کے دیگر حصوں کے متاثرین کے برابر دینے کا مطالبہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز کے مساوی درجے کے شہری ہونے کی بناء پر ان کا مطالبہ حقیقی' معقول اور فوری قابل عمل ہے بلکہ اگر پاڑہ چنار کے مسلسل دہشت گردی کا شکار عوام کی مشکلات کے پیش نظر اس امر کا مطالبہ کیا جائے کہ ان کو ملک کے کسی بھی حصے کے عوام سے زیادہ معاوضہ ادا کیا جائے اور مراعات دی جائیں تو بھی نا مناسب نہ ہوگا۔ بلا شبہ کسی قسم کی مالی امداد قیمتی انسانی جانوں کا نعم البدل نہیں اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں کے افراد کو سرکاری ملازمتیں دینے سے بچھڑے ہوئوں کا غم غلط ہوگا لیکن بہر حال کہا جاتا ہے کہ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاسکتا اور جینے کے لئے سو جتن کرنے پڑتے ہیں۔ بنا بریں جو لوگ دہشت گردی کا شکار ہوں یا حادثات کی نذر ہوں ان کے اہل خاندان' لواحقین اور خاص طور پر ان کے زیر کفالت بچوں کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے سے بچانے کی ذمہ داری حکومت پر براہ راست عائد ہوتی ہے۔ اصولی طور پر تو اس طرح کے متاثرین کو حکومت قومی خزانے سے اس وقت تک کفالت کرے جب تک وہ اپنے پائوں پر پوری طرح کھڑے نہیں ہو جاتے ۔ اگر ایسا ممکن نہیں یا پیچیدگیوں اور مشکلات کا باعث ہے تو ان کو یکمشت مناسب رقوم کی ادائیگی اور کفیلوں کو ملازمتیں دینے کا طریقہ ہی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں حالات کے باعث جس قدر لوگ متاثر ہوئے اس کے پیش نظر تو ایک ایسا باقاعدہ ٹرسٹ قائم کرکے دیانتدار افراد کے ذریعے اس کا انتظام چلانے کی ضرورت ہے جو شہداء اور معذور ہونے والوں کے خاندانوں کی مکمل طور پر خبر گیری کرے۔ اسے بد قسمتی اور سازش ہی قرار دیا جائے گا کہ پاڑہ چنار کے عوام طویل عرصے سے ابتلا کے دور کاشکار ہیں اور ان کی ابتلا کے دن کم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اگر یہ محض دہشت گردی ہی ہوتی تو بھی ہمت و استقلال کی گنجائش تھی مگر بد قسمتی سے اس میں فرقہ واریت کا دخل ہے جس پر ہر درد مند پاکستانی کا مشوش ہونا فطری امر ہے۔ ہر دشمن کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے مگر جب ایک ہی علاقے کے مکینوں کا ہی ایک دوسرے پر اعتماد نہ رہے تو صورتحال حکومت اور فوج دونوں کے لئے نہایت مشکل ہو جاتی ہے۔ اگر فرقہ وارانہ حالات سے انکار بھی کیا جائے اور ممکن ہے یہ انکار درست بھی ہو مگر اس عام تاثر کو کسی طور مسترد نہیں کیاجاسکتا کہ ہو نہ ہو جانے انجانے اس صورتحال کے ڈانڈے کہیں نہ کہیں فرقہ پرستی کی نفرت سے جا ملتے ہیں خواہ یہ صورتحال دشمن کی پیدا کردہ ہے یا ہم وطنوں کی نادانیوں اور جذباتیت کا عمل دخل ہے اس صورتحال کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے اس صورتحال کی بہتر ی کی کنجی بھی خود عمائدین علاقہ اور علمائے کرام کے پاس ہے۔ پاڑہ چنار کے عوام کے مطالبے کے احترام میں آرمی چیف نے وہاں کا دورہ کیا ان کی معروضات سنیں اور اقدامات کا بھی ہونا یقینی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ کافی نہیں بلکہ ایک عارضی اقدام متصور ہوگا۔ کیونکہ حالات کی بہتری کی کنجی خود علاقے کے عوام کے پاس ہے۔ صدیوں سے بھائیوں کی طرح رہنے والے جب تک ماضی میں نہیں لوٹتے اورایک دوسرے کو گلے لگا کر اغیار اور سازشی عناصر کے دانت کھٹے کرنے کا عزم نہیں کرتے فوج اور حکومت سے حالات میں بہتری لانے کی توقع عبث امر ہوگا۔ فوج اور حکومت کے اقدامات کی کامیابی خواہ وہ آپریشن ضرب عضب ہو یا بعد از آپریشن مستقل قیام امن کا عمل عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ مقام اطمینان امر یہ ہے کہ اس ضمن میں ساتوں ایجنسیوں میں پاک فوج کو عوام کا تعاون حاصل ہے اور حالات قابو میں ہیں جس کے نتیجے میں قبائلی علاقوں میں معاشی و معاشرتی اور تعلیمی ترقی کا آغاز ہوچکا ہے۔ اسے بد قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ پاڑہ چنار میں صورتحال اس لئے مختلف ہے کہ خود یہاں کے عوام میں اعتماد کی فضا کافقدان ہے جس کا دشمن قوتوں کی جانب سے فائدہ اٹھانا فطری امر ہے۔ جس دن پاڑہ چنار کے عوام یہ فیصلہ کرلیں کہ وہ کسی بھی قسم کے بیرونی اثرات سے بالا تر ہو کر داخلی امن و استحکام اخوت اور بھائی چارے کی فضا قائم کریں گے اسی دن امن اور استحکام امن کا آغاز ہوگا ۔ تبھی حکومتی اور عسکری مساعی بھی کامیابی سے ہمکنار ہوں گی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے پاڑہ چنار کے دورے سے عوام کو یقینا تسلی ہوئی ہوگی ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا بھی پاڑہ چنار کا دورہ کرکے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور عوام کی ڈھارس بندھائیں۔ اس کے لئے ان کو عوام کے مطالبے اور احتجاج کا انتظار نہیں کرنا چاہئے تھا بلکہ جس طرح وزیر اعظم نے احمد پور شرقیہ کے حادثے پر اپنا دورہ لندن اور طبی معائنہ موخر کرکے موقع پر آکر عوام کی ڈھارس بندھائی پاڑہ چنار کا واقعہ اس سے بڑھ کر سنگین اور پاڑہ چنار کا علاقہ کہیں زیادہ حساس اور اہم ہے۔ وزیر اعظم ' وزیر داخلہ اور گورنر کو اس کا احساس ہونا چاہئے۔ یہ علاقے کے عوام اور عمائدین کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس قسم کے حالات پیدا کریں کہ حکمران علاقے کا دورہ کرکے ان کی معروضات براہ راست سن سکیں۔

متعلقہ خبریں