عاشقان علم و ادب رخصت ہوئے

عاشقان علم و ادب رخصت ہوئے

اس بار عیدالفطر کیا تھی غموں سے چور لہو سے بھری' جدائیوں کے دکھ لئے جمعتہ الوداع کے دن کوئٹہ ' پاڑہ چنار اور کراچی میں اوپر نیچے سانحات رونما ہوئے۔ مجموعی طور پر 130افراد جانوں سے گئے۔ 150سے زیادہ زخمی ہوئے۔ آدمی بھی کیا چیز ہے بھائی کا گوشت کھانے کو ہر دم تیار' کسی نے کہا تھا اللہ ہی جانے آدمی انسان بننے کی بجائے پھاڑ کھانے والے جنگلی جانور کی طرح کیوں بنتا جا رہا ہے؟ افغان پالیسی اور جہاد سازی کے نتائج اب تک ہمارے تعاقب میں ہیں۔ ہم ہیں کہ ہر وار دات کے بعد لوگوں کو بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کی خبر دے کر شاداں ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی ''را'' کا چورن بکتا تھا آج کل آسان نسخہ یہ ہے کہ '' سی پیک کے دشمن چین نہیں لینے دے رہے'' یہ سی پیک کتنے انسانوں کی جان لے کر مکمل ہوگا؟ معاف کیجئے یہاں سوال کرنا منع ہے۔ بس عادتاً سوال لکھ دیا۔ آپ نے برا تو نہیں منایا؟ موسم کے اتار چڑھائو کے ساتھ رمضان المبارک گزرا تھا۔ جمعتہ الوداع لہو رنگ ہوا۔ عیدیں دو ہوئیں' زندگی پھر معمولات کی طرف لوٹ رہی ہے۔ چاند رات کی مبارک سلامت جاری تھی کہ شجاعت حیدر میاں نے اطلاع دی انکل بابا جان کوچ کرگئے۔ یادوں کا دروا ہوا۔ سردار نعیم حیدر میاں کی یادوں نے دستک دی۔ حسن اتفاق یہ ہے کہ ہم دونوں نصرت اسلام ہائی سکول کراچی ک طالب علم اور کلاس فیلو رہے۔ کبھی کبھی حیرانی ہوتی تھی کہ پی ای سی ایچ ایس کے سیال ہائوس والوں کا فرزند اس عام سے سکول میں کیوں پڑھتا ہے۔ پھر ایک دن پرٹیل اور میں ان کی والدہ سے ملنے گئے یہی سوال ان سے کیا۔ انہوں نے محبت بھرے انداز میں کہا۔ زندگی جن لوگوں کے درمیان گزارنی ہے تعلیم بھی ان کے ساتھ حاصل کرنی چاہئے۔ نعیم حیدر میاں کے پڑدادا ڈاکٹر حیدر سیال مرحوم نے 1920ء کے لگ بھگ تاریخ ملتان کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی۔ بڑے خاندان درپے آزار ہوئے تو خاندان سمیت ملک چھوڑ گئے۔ پاکستان بنا تو کراچی میں ڈیرے ڈال لئے۔ جھنگ اور سندھ کے خیر پور میں زرعی اراضی تھی۔ راشد کے خاندان نے کراچی کے حالات سے تنگ آکر آبائی شہر جھنگ کارخ کیا۔ مگر یہاں بھی چند برس قیام کرنا نصیب ہوا۔ جھنگ میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹے تو ایک دن سب بیچ بٹا کر خاندان سمیت آسٹریلیا جا بسا اور پھر وہاں سے ہالینڈ۔ کچھ عرصہ قوم پرست سیاست میں شریک رہا۔ ہم چند دوستوں نے 1980ء کی دہائی میں نیشنل سرائیکی پارٹی بنائی تو راشد اس کا کنوینیئر بنا۔ یہ سرائیکی قوم پرستوں کی پہلی سیاسی جماعت تھی۔ یار لوگ کہتے تھے چند دوست ہیں انقلاب برپا کرانے چلے۔ اس کے پڑ دادا ڈاکٹر حیدر سیال کی تاریخ ملتان کا قلمی نسخہ اس کے پاس محفوظ تھا وعدہ وفا نہ ہوا۔ اب وہ ہمارے درمیان نہیں اللہ اس پر رحمتیں نازل فرمائے درجات بلند کرے۔ وضع کا شاندار دوست تھا۔ وطن سے دور جا کر بھی دوستوں کو نہیں بھولا۔ عید شب برات اور سالگرہ پر اس کا فون ضرور آتا۔ ترقی پسند سوچ کا اجلا انسان تھا۔ مطالعے کا شوق ورثے میں پایا سال دو سال بعد جب بھی پاکستان کا چکر لگاتا ڈھیروں کتابیں ساتھ لے جاتا۔ اپنے خاندان کی ہجرتوں پر ایک کتاب بھی لکھ رہا تھا۔ اس کے صاحبزادے سے معلوم کروں گا مسودہ کہاں ہے۔ شائع ہو جائے تو خاصے کی چیز ہوگی۔ وہ کہتا تھا کہ کتاب کا نام ''داستان صدی بھر کی'' رکھوں گا۔ خود داستان ہوا۔ ایک وہی کیا ہم سب ایک نہ ایک دن داستان ہونے کو ہیں۔ عید الفطر کے دنوں میں ہی سرائیکی وسیب کے بزرگ ادیب' دانشور' خاکہ نگار اور صاحب علم سیدی انیس شاہ جیلانی بھی دنیائے سرائے سے کوچ کر گئے۔ شاہ جی سے تین عشرے قبل تعارف ہوا تھا ان کے والد سید مبارک علی شاہ جیلانی نے 1920 میں ریاست بہاولپور کے قصبے محمد آباد میں ( محمد آباد تحصیل صادق آباد ضلع رحیم یار خان میں واقع ہے) مبارک لائبریری قائم کی۔ اپنے والد گرامی کی رحلت کے بعد شاہ جی اس لائبریری کے نگران بھی تھے منتظم بھی۔ طالب علم بھی اور گائیڈ بھی۔ بیسویں صدی کی آخری پانچ دہائیوں کے نامور ادیبوں' شاعروں' سیاسی کارکنوں اور رہنمائوں سے ان کے ذاتی مراسم تھے۔ جناب فیض' سید محمد تقی' رئیس امروہوی' جون ایلیا' شوکت صدیقی' سید قسور گردیزی' اشفاق احمد خان' مولانا نور احمد خان فریدی' شیخ ایاز' حسام الدین راشدی' عرش صدیقی' میرالحسان الحیدری اور دوسرے سینکڑوں صاحبان علم ان کے حلقہ احباب کا حصہ تھے۔ ہم سے طالب علم بھی شاہ جی کے محبوب میں شامل اور ان کی محبت کے حقدار ہوئے۔ '' سفر نامہ مقبوضہ ہندوستان'' نے ان کی شہرت کو چار چاند لگائے اس کے علاوہ بھی درجن بھر کتابیں لکھیں اور تدوین فرمائیں۔ سادہ لباس' سادہ خوراک' علم دوست اور مہمان نواز سیدی انیس شاہ جیلانی کی اوطاق (ڈیرہ' حجرہ) کے دروازے مہمانوں کے لئے ہمیشہ کھلے رہے۔ گئے وقتوں کی روشن اور بھرپور نشانی تھے۔ راشد سیال کے سانحہ ارتحال کی خبر سے سنبھلے نہ تھے کہ شاہ جی کی جدائی کا پیغام آگیا۔ سرائیکی وسیب اپنے دو علم دوست اور سچے فرزندوں سے محروم ہوا۔ لاریب ہر دو صاحبان عاشقان علم و ادب اور اجلے زمین زادے تھے۔ ان کی جدائی کا غم بے پناہ ہے۔ دونوں اس ملک میں سماجی انصاف' جمہور کی حکمرانی اور علم دوستی کو پروان چڑھتا دیکھنے کے خواب آنکھوں میں سجائے رخصت ہوگئے۔ بد نصیبی ہے ہماری نسل کی کہ اس نسل نے اپنے عہد کے ان چندے مہتاب لوگوں کی قدر نہ کی۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کے درجات بلند فرمائے۔ کاش سماجی انصاف' جمہور کی حکمرانی اور علم دوستی کے خوابوں کی تعبیر ہم پا سکیں۔ لیکن کیا جس ملک کے رہنما زندگی کے سارے معاملات کو پیٹ کی آنکھ سے دیکھنے کی روش پر گامزن ہوں وہاں پاکیزہ خوابوں کو تعبیر ملتی ہے؟ مجھے معاف کیجئے گا ہم نصف صدی سے خوابوں کی تعبیر چوری ہوتے اور پیارے کو بچھڑتے دیکھ رہے ہیں۔ عید بھی کیا تھی غموں' لہو اور جدائیوں سے بھری ایسے میں مسرت کس کے چہرے پر آسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں