تیل میں ہمار ا قومی کردار بھی بہہ جاتا ہے

تیل میں ہمار ا قومی کردار بھی بہہ جاتا ہے

جنوبی پنجاب میں احمد پور شرقیہ کے مقام پر آئل ٹینکر اُلٹ جانے کے بعد جو کچھ ہوا ہمارے قومی اخلاقی انحطاط اور گرتے ہوئے کردار کی ایک تاریک مثال ہے۔ایک ٹریفک حادثے نے جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا عوام کی غفلت ،انتظامیہ کی نااہلی ،حرص وہوس نے لاتعداد حادثات کو جنم دیا اور یوں قوم کی عید سوگوار اور بے رنگ سی گزر گئی۔آئل ٹینکر اُلٹ جانے کو مقامی لوگوں نے اپنے لئے غیبی امداد جان کر تیل جمع کرنا شروع کیا ۔حد تو یہ پانی کے کولر اور کھانے کے برتنوں میں لوگ تیل جمع کرتے رہے اور پھر اچانک وہ ہوا جس نے اب تک دوسو کے قریب افراد کو کوئلہ بنا دیا اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ادھ جلے جسموں کے ساتھ ہسپتالوں میں پڑے ہیں۔آج بھی سڑک کے کنارے لاشوں کی سرانڈ ،جما ہوا خون بے شمار گاڑیاں ،موٹر سائیکل ،سائیکل رکشہ سوختہ حالت میں ہماری اجتماعی حالت زارکی کہانی سنارہے ہیں۔آئل ٹینکر کا ڈرائیور اپنی آخری ہچکیوں میں دم توڑتے لمحوں اور لفظوں میں یہ بیان دے کر دنیا سے رخصت ہوا کہ میں لوگوں کو تیل جمع کرنے سے منع کرتا رہا اور کہتا رہا کہ یہ پھٹ سکتا ہے مگر وہ میری بات نہ مانے۔انتظامیہ کہاں غافل تھی ؟جو ایک مرکزی شاہراہ کے گرد ہونے والے حادثے کے موقع پر مستعدی کا مظاہرہ نہ کر سکی ؟یہ سوال ہمارے اداروں کی انتظامی کارکردگی کی قلعی کھول رہا ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انتظامیہ سرعت کے ساتھ جائے حادثہ کے گرد حصار قائم کر لیتی اور لوگوں کو بزور طاقت دور دھکیل دیتی اور وہ تمام احتیاطی تدابیر اپنائی جاتیں جو آئل ٹینکر اُلٹنے اور تیل بہنے کی صورت میں اپنانا لازمی ہیں۔یہ حادثہ مدتوں ہمارے قومی کردار کے آگے سوالیہ نشان بن کر موجود رہے گا۔افسوسناک امر یہ ہے کہ سانحہ بہاولپور کے بعد کراچی حیدر آباد شاہراہ پر اندرون سندھ کے کسی مقام پرایک اور آئل ٹینکر اُلٹنے کا واقعہ ہوا تو لوگ پھر جانوں کی پرواہ کئے بغیر تیل لوٹنے میں مصروف ہوگئے ۔ بہاولپور حادثے کے دوسرے ہی روزسوشل میڈیا پر راولپنڈی کی ایک وڈیو کلپ وائرل ہوئی جس میںسانحہ بہالپور کے دوسرے روز رمضان المبارک میںمشروبات سے بھری ایک گاڑی اُلٹ گئی اور لوگ بوتلیں اُٹھا کر فاتحانہ انداز سے بھاگتے دکھائی دئیے ۔قومی کردار اور اخلاقیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ لوگ ایک ایک بوتل جمع کرکے وہیں ڈھیر لگاتے کیونکہ یہ کسی فرد یا کمپنی کی ملکیت ہوتی اور یہ ضائع بھی نہیں ہو رہی تھیں۔جو ہوا اس روئیے کے قطعی اُلٹ تھا لوگوں نے امانت ودیانت اور ماہ صیام کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک حادثے کومال غنیمت ہتھیانے کا نادر موقع جانا ۔سانحہ بہالپور کے بعد ان واقعات پر پروفیسر عنایت علی خان کا یہ شعر صادق آتا ہے ۔

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
حادثات انسانی زندگی کا حصہ ہیں ۔ہر معاشرے میں رونما ہوتے ہیں مگر حادثات سے سبق حاصل کرنا قوموں کی تعمیر وتشکیل میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔حادثات سے سبق نہ سیکھنے والے حادثات کے گھن چکر میں پھنس کر اپنی قسمت کی نوحہ خوانی کرتے رہتے ہیں۔سانحہ بہاولپور میں انحطاط اور احساس ِ زیاں کے دو پہلو ہیں ۔ایک ہے اخلاقی انحطاط اور زوال جس کا تعلق عوامی رویوں سے ہے ۔ہر شے کو لوٹنے سے ہے۔ معمولی سی آسائش اور آسودگی کے عوض جان لڑ ا دینے سے ہے ۔حرام وحلال کی تمیز سے ماورا ہو کر امانت اور دیانت کے تصورات سے بے نیاز ہو کر کام کرنے سے متعلق ہے اور دوسرا پہلو انتظامی انحطاط سے متعلق ہے ۔جس میںایک قومی اور مصروف شاہراہ پر ہونے والے حادثے کو سانحہ بننے سے روکنے میں ناکامی نمایاں ہے۔انتظامی انحطاط کا کوئی حل ہے مگر اخلاقی انحطاط کا تعلق قوموں کے کردار سے ہے ۔کردا ر سازی سیمنٹ سریے سے نہیں سڑکوں اور پلوں سے نہیں بلکہ ذہن سازی سے ہوتی ہے اور اس میں قیادت کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔پاکستان کو انحطاط کی موجودہ حالت سے نکالنے کے لئے مدبرین کی ضرورت ہے ۔ایک اصلاحی تحریک کی ضرورت ہے جو اس قوم کے حرام وحلال ،درست اور غلط ،جائز وناجائز کے تصورات کی ترتیب درست کرکے اور ہر اصلاح کو اپنے اصل مقام پر واپس لائے۔
ہمار امعاشرہ علم ،آگہی جائز و ناجائز کے شعور سے عاری ہے ۔اسی طرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کو عوامی شعور بیدار کرکے روکاجا سکتا ہے ۔اسی سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی کیا ہے ۔قومیں کسی سکول کی کلاس کی طرح نہیں ہوتیں کہ اس کی تعمیر اور اصلاح پر فرداََ فرداََ توجہ دی جائے ۔قوموں کی تعمیر ان کے کردار کی تعمیر سے ہوتی ہے اور اس معاملے میں سیاسی قیادت کا رول بہت اہم ہوتا ہے ۔قیادت کا عکس قوم کے کردار اور اخلاق میں جھلکنے لگتا ہے ۔قیادت کمزور اور بصیرت سے عاری ہو تو پھر وہ ہجوم میں گم ہو جاتی ہے ۔المیہ یہ کہ ہماری سیاسی قیادت نے حادثہ احمد پور شرقیہ کو بھی سیاسی نمبر سکور کرنے کے لئے استعمال کیا اور سوختہ جسموں کی آہ وبکاہ میں بھی ان کی الزام تراشی کا سلسلہ جاری رہا ۔

متعلقہ خبریں