اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

حجاج بن یوسف نے اپنے دور کے مشہور طبیب سے فرمائش کی کہ مجھے طب کی کچھ اچھی باتیں بتائو تاکہ میں ان پر عمل کرکے اپنی صحت کی حفاظت کرسکوں۔طبیب نے کہا کہ گوشت صرف جوان جانور کا کھائو۔جب دوپہر کا کھانا کھالو تو تھوڑی دیر کے لیے سو جائو۔ اور شام کا کھانا کھانے کے بعد تھوڑی دیر چہل قدمی ضرور کرو چاہے تمہیں کانٹوں پر ہی کیوں نہ چلنا پڑے۔جب تک پیٹ کی پہلی غذا ہضم نہ کر لو دوسرا کھانا ہر گز مت کھائوبھلے تمہیں تین دن ہی کیوں نہ لگ جائیں۔جب تک بیت الخلا نہ جائو سونے کے لیے بستر پر مت جائو۔پھلوں کے نئے موسم میں نیا پھل کھائو جب اس پھل کا موسم جانے لگے تو وہ پھل کھانا چھوڑ دو۔کھانا کھا کر پانی پینے سے بہتر ہے کہ زہر پی لو یا پھر کھانا ہی نہ کھائو۔ سیل فون ہمارے دور کی ایک مفید ایجاد ہے جہاں اس سے اور بہت سے کام لیے جارہے ہیں وہاں اس پر اچھے اچھے ایس ایم ایس بھی موصول ہوتے رہتے ہیں ۔ طبیب کے مفید مشورے جو ابھی آپ نے پڑھے ہمیں سیل فون پر ہی موصول ہوئے تھے سوچا اتنی اچھی اچھی باتوں کو اپنے قارئین کے ساتھ ہی شیئر کر لیں۔مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ، بد امنی، رشوت، اقربا پروری کا رونا روتے روتے تو اب آنسو بھی خشک ہو چلے اسی لیے بہتر ہوگا کہ آج آپ کو اپنے سیل فون کے خزانے کی سیر کروائیں۔ زندگی بڑے مزے کی چیز ہے اللہ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ زندگی کے ہر لمحے سے کام لینا اور اسے مفید کاموں میں خرچ کرنا اچھی بات ہے اسی حوالے سے ایک ایس ایم ایس ملاحظہ کیجیے۔ زندگی آئس کریم کی طرح ہے اگر اس کا ذائقہ چکھو تو تب بھی پگھلتی ہے اور اگر اسے ضائع کرو تو تب بھی پگھلتی ہے۔ اسی لیے زندگی کا ذائقہ چکھنا سیکھوضائع تو ویسے بھی ہو رہی ہے۔زندگی ہی کے حوالے سے ایک چھوٹی سی انگریزی کی نظم موصول ہوئی جس کا بر ا بھلا ترجمہ آپ کے سامنے پیش کیے دیتے ہیں۔کبھی کبھار آپ زندگی میں بہت اداس اور غمگین ہو جاتے ہیں لیکن بہت سے دوسرے لوگ اتنے خوش نہیں ہوتے ۔ زندگی سے اتنے مطمئن نہیں ہوتے جتنے کہ آپ ہوتے ہیں۔بہت دور سرحدوں پر جب سپاہی سو رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے پیاروں کے خواب دیکھتا ہے ان کی یاد میں آہیں بھرتا ہے اور خاموشی سے آنسو بہاتا رہتا ہے۔ کسی جگہ ایک ماں بڑے دردناک انداز سے ٹھنڈی آہیں بھرتی ہے کیونکہ اس کا نو زائیدہ بچہ آنکھیں نہیں کھول رہا ہوتا۔کسی جگہ ایک غریب باپ اس وقت خاموشی سے روتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کا بیٹا چاولوں کا ایک پیالہ بطور خیرات مانگ رہا ہوتا ہے۔کسی جگہ اپنے ماں باپ سے محروم بچی اپنے والدین کو یاد کرکے اداس ہوجاتی ہے۔جب آپ کے پاس مسکرانے کے لیے کوئی معقول وجہ نہ بھی ہو تو یہ سوچ کر مسکرا لیا کرو کہ تم اب بھی بہت سے لوگوں سے زیادہ خوش ہو۔کیونکہ زندگی بہت خوبصورت ہے اور کسی بھی جگہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو آپ کی طرح خوش و خرم زندگی نہیں گزار رہے۔شکر ادا کرتے رہنا چاہیے اس سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اپنی زبان کو گلے شکوے سے محفوظ رکھنا بہت سی مصیبتوں سے نجات کا سبب بن جاتا ہے۔ ہماری الیکٹرانک زنبیل میں شکر پر بھی ایک چھوٹی سی حمدیہ نظم ہے۔تیرا بندہ تیری توصیف و ثنا کرتا ہے۔ میرا ہر سانس تیرا شکر ادا کرتا ہے۔تیرے آگے میری جھکتی ہوئی پیشانی سے۔میر ی ہر صبح کا آغاز ہوا کرتا ہے۔رزق پہنچاتا ہے پتھر میں چھپے کیڑے کو۔تو ہی سوکھی ہوئی شاخوں کو ہرا کرتا ہے۔ گیت گاتی ہیں بہاریں تیری تخلیق کے۔سینہ سنگ سے جب پھول کھلا کرتا ہے۔بڑا ناداں ہے تجھے دور سمجھنے والا۔تو رگ جاں سے بھی نزدیک رہا کرتا ہے۔اس حمدیہ نظم کو لکھتے ہوئے قرآن پاک کی ایک دعا بھی پڑھتے جائیے۔ سورہ مریم آیت نمبر چار۔ اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی محروم نہیں رہا۔قرآن پاک کی اس روشن آیت کے بعد اب تو شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی کہ رب کو پکارنے والا کبھی بھی محروم نہیں رہتا۔ اسے پکارتے رہنا چاہیے۔ اس سے زندگی آسان ہو جاتی ہے۔روشنی کے دریچے ہمیشہ کھلے رکھنے چاہئیں روشنی جہاں سے بھی آئے اسے قبول کرتے رہنا چاہیے۔ گوتم بدھ نے کہا تھا کہ تم ایک زرد پتے کی مانند ہو۔ موت کے کارندے تمہاری گھات میں لگے ہوئے ہیں۔ تم ایک سفر کا آغاز کررہے ہو کوئی اور تمہاری مدد نہیں کرسکتا۔کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ تم جلد ایک شمع بن جائو۔ جو تمہاری خامیوں کو جلائے اور خوبیوں کو روشن کرے تاکہ تمہیں وہ جوان زندگی میسر آئے جو بڑھاپے اور موت کی زد سے باہر ہو۔بدھ نے تو خود شمع بننے کی بات کی تھی جبکہ فراز کا کہنا ہے ۔شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا۔اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔بات خود شمع بننے کی ہو یا شمع جلانے کی۔ مقصود اس سے وہ روشنی ہے جس سے اپنے جیسے انسانوں کی زندگی میں اجالا کیا جاسکتا ہے۔روشنی کا سفر نامعلوم زمانوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔نیکیوں کے یہ سفر انسان کو امر کر دیا کرتے ہیں۔مالی اپنے باغ میں ایک چھوٹا سا پھول اگاتا ہے تاکہ یہ دنیا کی خوبصورتی اور خوشبو میں اضافے کا سبب بن سکے۔یہ جذبہ کتنا قابل تکریم ہے اس سے کتنے دماغ معطر ہوجاتے ہیں کتنے ہونٹوں پر مسکراہٹوں کے پھول سج جاتے ہیں کتنے دل خوشیوں سے بھر جاتے ہیں۔ایک لکھاری اپنی تحریروں سے دنیا کو خوبصورت اور پر امن بنانا چاہتا ہے وہ احترام آدمیت کی بات کرتا ہے ۔ اسے سچائی عزیز ہوتی ہے ۔اس کے نزدیک انسان کا سکون و اطمینان ہی سب سے بڑی دولت ہوا کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں