مشرقیات

مشرقیات

حضرت نظام الدین اولیاء روحانی منازل طے کرنے کے بعد مخلوق خدا کی خدمت میں مصروف تھے ہر طرف آپ کی شہرت اور دربار نظامی کا چرچہ تھا۔جہاں لاکھوں دلوں پر آپ کی حکومت تھی وہیں پر چند سرکش ایسے بھی تھے جو آپ کی شہرت اور اعلیٰ مقام سے جلتے تھے اور آپ کے خلاف باتیں کرتے تھے۔انہی میں سے ایک چھجو نامی آدمی بھی تھا، غرور اور تکبر اْس کی ہر ادا سے جھلکتا تھا، بہت زیادہ زبان دراز تھا 'گالی دئیے بغیر بات نہیں کرتا تھا، وہ حضرت نظام الدین اولیاء کے بہت زیادہ خلاف اور حاسد تھا 'بدتمیزی اور خودسری اْس کے مزاج کا حصہ بن چکی تھی جب بھی اْس کے سامنے حضرت نظام الدین اولیا ء کا نام آتا تو وہ بْرا بھلا کہنا شروع کر دیتا اور سرِعام گالیاں بھی دیتا۔
لوگ اْس سے اکثر پوچھتے کہ تم گالیاں کیوں دیتے ہو تمہاری اْن سے کیا دشمنی ہے اْنہوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے تو وہ اور بھی بے ہودہ گفتگو شروع کردیتا، اْس کا رویہ آپ کے چاہنے والوں کے لیے بہت زیادہ اذیت ناک تھا ۔
یہ لوگ حضرت نظام الدین اولیاء کی خدمت میں حاضر ہو کرچھجوکی بدتمیزی اور گالیوں کا ذکر کرتے اور اجازت مانگتے کہ اگر آپ کہیں تو اسکی زبان بندی کردی جائے۔لیکن نظام الدین اولیا نے اعلیٰ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور شفقت بھرے لہجے میں کہتے خدا اْس کا بھلا کرے، جب چھجو کی بدتمیزیاں اور گستاخیاں بہت بڑھ گئیں تو مریدین کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ کہیں وہ آپ کو جسمانی نقصان نہ پہنچائے تو مریدوں نے اجازت چاہی کہ اْس کو سختی سے روکا جائے تو حضرت نظام الدین اولیاء ناگواری سے بولے یہ میرا اور اْس کا معاملہ ہے تم درمیان میں بالکل نہ آؤ اور پھر اپنے مریدوں کو احساس دلایا کہ اگر وہ بدتمیز جھگڑالو ہے تو تم بھی اْس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہتے ہو تو اْس میں اور تم میں کیا فرق رہ گیا، چھجو اْسی طرح آپ کی شان میں گستاخیاں کرتا رہا اور آپ آرام سے برداشت کرتے رہے اور پھر ایک دن یہ نافرمان شخص چھجو دنیا سے چلا گیا تو عقیدت مند نے آکر کہا یا حضرت آج وہ برائی کا سرچشمہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
حضرت نظام الدین یہ سن کر اداس ہو گئے اور پوچھا بتاؤ اْس کو کہاں دفن کیا گیا ہے ۔بتانے والے نے جگہ بتادی تو حضرت نظام الدین خود چل کراْس کی قبر پر گئے اور اْس کے لیے بارگاہ الٰہی میں ہاتھ پھیلا دئیے اور اِس طرح دعا کی اے مالک ارض و سما یہ شخص مجھے برْا کہتا تھا اور میرے لیے بْرے خیالات بھی رکھتا تھا لیکن اِس کے باوجود میں نے اِس کو معاف کیا اللہ تو بھی اِس کی گستاخیوں کو معاف کرنا اِس نے میرے ساتھ جو بھی بْرا کیا تو اْس کے لیے اِس کو سزا نہ دینا میری وجہ سے تیرے کسی بندے کو تکلیف نہیں ہو نی چاہیے 'اللہ تو اس کے تمام گناہ معاف کردے۔

متعلقہ خبریں