ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ پر ردِ عمل

ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ پر ردِ عمل

وزیراعظم نواز شریف نے ڈان لیکس انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی منظوری دیتے ہوئے جو حکم نامہ جاری کیا ہے پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے اس پر مختصر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نامکمل ہے۔ اس حکم نامے اور اس پر ردِ عمل نے ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جس نے صرف عوام بلکہ سیاسی مبصرین کو بھی حیران و ششدر کر دیا ہے۔ یہ رپورٹ ابھی عام مطالعہ کے لیے جاری نہیں کی گئی۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا تھا کہ رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کیے جانے کے بعد عوام کے لیے جاری کر دی جائے گی۔ امید کی جانی چاہیے کہ آئندہ چند روز میں یہ رپورٹ منظرِ عام پر آ جائے گی ۔ اس رپورٹ کے مندرجات کا کچھ اندازہ وزیر اعظم کے حکم نامے سے کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے معاونِ خصوصی برائے امورِ خارجہ طارق فاطمی کو ان کے عہدے سے سبکدوش کر دیا ہے۔ اور ٹی وی والے یہ اطلاع بھی نشر کر چکے ہیں کہ طارق فاطمی کو تاحکم ثانی اس پر تبصرہ کرنے سے روک دیا گیا ہے اور ہفتہ کے روز کہا جا رہا تھا کہ ان کا موبائل فون مسلسل بند ہے۔ پہلی نظر میں یہ سوال اُبھرتا ہے کہ معاون خصوصی برائے اُمور خارجہ کا ڈان لیکس کے ساتھ کیا تعلق؟ لیکن چند روز پہلے ہی یہ خبر عام ہو چکی تھی ان پر الزام تھا کہ انہوں نے روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ''خبر'' لکھی تھی یا لکھوائی تھی ۔ یہ خبر بھی آئی تھی کہ طارق فاطمی نے اس فیصلہ کے افشاء ہونے کے بعد وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے اور اپنا فیصلہ ان کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے یعنی وہ وزیر اعظم کے فیصلے کو چیلنج نہیں کریں گے۔ طارق فاطمی کے بارے میں فیصلہ اور ان کے ردِ عمل کی خبریں اس وقت آئی تھیں جب ابھی ٹی وی پر یہ خبر نشر نہیں ہوئی تھی کہ وزارت داخلہ کی طرف سے شام پونے سات بجے وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کر دی گئی ۔ رپورٹ آنے کے بعد بھی وزیر اعظم کا وہی فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے بارے میں خبریں پہلے ہی شائع ہو چکی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رپورٹ یا اس کے اقتباسات پہلے ہی وزیر اعظم کے علم میں تھے۔ وزیر اعظم کا دوسرا فیصلہ وزارت اطلاعات کے پرنسپل انفارمیشن افسر راؤ تحسین کے بارے میں ہے جن کے خلاف 1973ء کے ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن رولز کے تحت کارروائی ہو گی۔ وزیر اعظم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ رپورٹ کے پیرا گراف 18کی منظوری دی گئی ہے۔ لیکن اس پر آئی ایس پی آر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ رپورٹ نامکمل ہے۔ یہ رپورٹ ابھی صرف وزیر اعظم تک پہنچائی گئی ہے۔ اس پر آئی ایس پی آر کے ردِ عمل سے ظاہر ہے کہ فوج کو بھی اس رپورٹ کے مندرجات کا علم تھا۔ جس کی بنا پر یہ کہا گیا کہ یہ رپورٹ نامکمل ہے۔ جب ڈان لیکس کی خبر پہلے پہل آئی تھی تو وزیر اطلاعات پرویز رشید کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھاجو اب تک بحال نہیں ہوئے تاہم وزیر اعظم کے دفتر سے اب جو نوٹی فکیشن جاری ہوا ہے اس میں سینیٹر پرویز رشید کا ذکر نہیں ہے۔ وزیر اعظم کے فیصلے پر حیرت کا سبب یہ ہے کہ ڈان لیکس کی خبر جسے پاکستان کی سلامتی کے منافی قرار دیا جا رہا تھا اس پر ایک صاحب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور دوسرے صاحب کے خلاف ضابطے کی کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ حالانکہ توقع یہ تھی کہ قومی سلامتی کے منافی اس اقدام کے حوالے سے کچھ اہم نام سامنے آئیں گے اور ان کے محرکات پر روشنی پڑے گی۔ روزنامہ ڈان کی 6اکتوبر کی اشاعت میں وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اہم اجلاس کی روداد کے طور پر جو کچھ شائع ہوا تھا اس کے بارے میں سویلین حکومت کی طرف سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ کچھ ہوا ہی نہیں اور پاک فوج کی طرف سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ کچھ نہیں ہوا جسے خبر کے طور پر شائع کیا گیا ۔ اس پر اتفاقِ رائے سامنے آیا تھا کہ یہ خبر پلانٹڈ تھی یعنی لکھی لکھائی خبر روزنامہ ڈان کے سرل المیڈا کو فراہم کی گئی تھی اور ایسے ذرائع کی طرف سے اس کی تصدیق کی گئی ہو گی جن کا اعتبار کرنے پر سرل المیڈا رضامند ہوا۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا یہ بیان بھی قابلِ غور ہے کہ پرویز رشید سے وزارت اطلاعات کا قلمدان اس لیے واپس لیا گیا کہ وہ اس ''خبر'' کی اشاعت رکوانے میں ناکام ہوئے۔ یہ وزیر داخلہ کی سابق وزیر اطلاعات کے بارے میں گواہی ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ یہ خبر سرل المیڈا کو فراہم کی جا رہی ہے۔ اس سے یہ بھی گمان ہو سکتا ہے کہ پرویز رشید کو بھی شاید علم تھا کہ یہ ''خبر'' کہاں سے آئی ہے اور کون سرل المیڈا سے اس کی تصدیق کر رہا ہے۔ تو کیا محض طارق فاطمی اس ''خبر'' کے مصنف تھے۔ اگر ایسا ہے تو پرویز رشید وزیر اعظم کو شکایت بھی کر سکتے تھے کہ آپ کے معاونِ خصوصی برائے اُمور خارجہ قومی سلامتی کے منافی ایک خبر جاری کر رہے ہیں۔ جنہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس ''خبر'' کے شائع ہونے سے پاکستان کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے۔ اور پاکستان کے لیے عالمی سطح پر سنگین مسائل کھڑے ہو سکتے ہیںبھارت اس کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف کیا ہرزہ سرائی کر سکتا ہے جو اس نے کی۔ اگر طارق فاطمی نے یہ ''خبر'' تصنیف کی تو اس کی نیت کیا تھی اگر کسی کے ایماء پر تصنیف کی گئی تو کس کے ایماء پر۔ انکوائری رپورٹ میں یہ سب کچھ سامنے آنا چاہیے تھا جس کے حوالے سے وزیراعظم نے فیصلے تو کردیئے لیکن رپورٹ ابھی عام نہیں ہوئی۔ ہفتہ ہی کو سرشام وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کرنا صرف وزارت داخلہ کا اختیار ہے۔ (جو ابھی جاری نہیں ہوا) تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر سے جو فیصلے جاری ہوئے وہ کیا تھے۔ کیا وزارت داخلہ کا نوٹی فکیشن وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے فیصلے سے مختلف اور اس پر حاوی ہوگا؟ اس صورت حال میں یہ ضروری ہے کہ ڈان لیکس انکوائری کمیشن کی رپورٹ فوری طور پر عام مطالعہ کے لیے جاری کی جائے۔ تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ قومی سلامتی کے منافی اس ''خبر'' کا مصنف کون؟ معاون کون ہے؟ کس نے ڈان کے سرل المیڈا اور اس کے ایڈیٹوریل بورڈ کو یہ یقین دلایا کہ یہ ''پلانٹڈ سٹوری'' حقیقی واقعہ کی روداد کی خبر تھی؟ ، انکوائری کمیشن کی رپورٹ عام ہونے کے بعد ہی عوام الناس پر واضح ہو گا کہ آیا 6اکتوبر کی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے مواد کو لیک یعنی انکشاف قرار دیا گیا ہے یا اسے پلانٹڈ سٹوری یعنی من گھڑت مواد سمجھا گیا ہے۔ جیسا کہ عام تاثر ہے کہ یہ پلانٹڈ سٹوری تھی تو قومی سلامتی کے منافی اس من گھڑت کہانی کے مضمرات ' قومی سلامتی کے حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل ہو ں گے۔ یہ بھی معلوم ہوگا کہ آیا کمیشن نے سفارشات صرف پیراگراف 18میں کی ہیں یا دیگر پیراگراف بھی ایسے ہیں جن میں کچھ اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہو گا کہ قومی سلامتی کے منافی اس کارروائی پر محض دو افراد کو عہدوں سے ہٹانے کو کیوں کافی سمجھا گیا ہے۔اور اس طرح سے عوام کے ذہنوں میں پایا جانے والا کنفیوژن بھی دور ہو جائے گا ۔ اس مواد کی اشاعت کے حوالے سے سینیٹر پرویز رشید کو وزارت اطلاعات کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا گیا تھا اور وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ وہ خبر کی اشاعت کو رکوانے میں ناکام رہے ہیں ۔ انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی خبر میں سینیٹر پرویز رشید کا کوئی ذکر نہیں آیا اس کا مطلب انہیں وزارت اطلاعات سے ہٹانے کی توثیق ہے؟ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کی اس ٹویٹ سے بھی کہ کارروائی نامکمل ہے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مکمل رپورٹ میں کچھ اور بھی قابلِ توجہ ہے۔ اس لیے بھی ضروری ہونا چاہیے کہ مکمل رپورٹ فوری طور پر شائع کر دی جائے۔

متعلقہ خبریں