وزیر اعظم کا مستعفی نہ ہونے کا اعلان

وزیر اعظم کا مستعفی نہ ہونے کا اعلان

ہفتہ کے روز جب سارا میڈیا ڈان لیکس کی رپورٹ کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف کے فیصلے پر متوجہ تھا ' سبھی مبصر وزیر اعظم سے منسوب اس فیصلے پربحث کر رہے تھے جس کے مطابق ڈان لیکس کی ذمہ داری کی بنا پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اُمور خارجہ طارق فاطمی کو ان کے عہدے سے الگ کر دیا گیا اور وزارت اطلاعات کے ایک سینئر افسر کے خلاف ضابطہ کی کارروائی کا حکم دیا گیا ہے اور اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے وزیر اعظم نواز شریف ان تمام تبصروں سے بے نیاز اوکاڑہ میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر رہے تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ انہوں نے لاہور سے ملتان' ملتان سے سکھر اور لاہور سے اسلام آباد اور سکھر سے کراچی تک چھ رویہ موٹر وے تعمیر کرنے کی نوید سنائی اور بجلی پیدا کرنے کے متعدد منصوبوں کا ذکر کیا جن سے اس سال کے دوران ہی ہزاروں میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے چپے چپے میں جائیں گے اور ترقیاتی کاموں کے اعلان کریں گے۔ انہوں نے اپنے مخالف سیاسی قائدین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور عوام سے کہا کہ ان سے پوچھیں کہ ان کے دور میں کتنی بجلی پیدا کی گئی۔ انہوں نے اشارةً عمران خان سے بھی کہا کہ جا کر کرکٹ کھیلیں۔ اور ان کے اجتماعات کو جلسیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج اوکاڑہ کا جلسہ دیکھیں۔ اس طرح وزیر اعظم نواز شریف نے بھرپور انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیاں بھی انتخابات کی تیاری کے میدان میں اُتر آئی ہیں۔ اور جلسوں کا انعقاد کررہی ہیں ۔ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انتخابی جلسے تو زور و شور سے ہوں گے لیکن انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات سے توجہ ہٹ جائے گی۔ مردم شماری بھی آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے ۔ اس کے نتائج بھی تین ماہ کے بعد سامنے آئیں گے۔ اس کے بعد نئی انتخابی حلقہ بندیوں کے تنازعات ابھریں گے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ دعوؤں ' وعدوں اور تنقید کے ساتھ ساتھ انتخابات کے حوالے سے بنیادی تقاضوں کو نظر انداز نہ ہونے دیں۔

متعلقہ خبریں