لیکس سے ٹویٹس تک

لیکس سے ٹویٹس تک

وزیر اعظم میا ں نو از شریف نے اوکا ڑہ میں جلسہ عام میںجس اند از میں تقریر کی اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ وہ کسی کے دباؤ میں نہیںآئیں گے ۔ دبنگ انداز میں کہا کہ وہ کسی کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دیں گے ، تم کو سیاست نہیں آتی ، جا ؤکر کٹ کھیلو ، لیکن اس کے ساتھ ہی آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے ڈان لیکس کے بارے میںایک نوٹیفکیشن کے اجر اء پر جو ٹیویٹ آیا تو ایسا لگا کہ ایک زبردست بھونچال آگیا ہے کیو ں کہ سرشام بعض الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے ٹاک شو زکے حوالے سے شام غریبا ں سجا ئی جا تی ہے اس نے اس ٹیویٹ پر اپنا رنگ جما نے کی کو شش بے اصول کر دی۔ لا ل حویلی کے لا لو بھی تڑخ سے گویا ہو ئے کہ ان کو بو ٹو ںکی چاپ گزشتہ ساڑھے چار سال سے سنا ئی دے رہی ہے اور ابھر گئی ہے ۔ اخبارات نے آئی ایس پی آر کی جا نب سے ٹیویٹ کے بارے میں شہ سر خیا ں لگا ئی ہیں کہ ڈان لیکس کی تحقیقات کمیٹی کے فیصلے کے مطا بق نو ٹیفکیشن جا ری نہیں کیا گیا ہے اور فو ج نے مستر د کر دیا ہے ، حالانکہ وزیر اعظم کے نوٹیفکیشن کے بارے میں حکومتی حلقوںکی جا نب سے جو وضاحت آئی ہے اس کے مطابق وزیر اعظم ہا ؤس سے جا ری ہو نے والا نوٹیفکیشن دراصل کمیٹی کے فیصلے پر عملدر آمد کر انے کا نوٹس ہے ، اور عمل درآمد کے لیے احکاما ت وزارت داخلہ کی جانب سے جا ری ہو نا ہیں۔ ان میں سب سے سوجھ بو جھ والی بات وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہی ہے کہ وزیر اعظم نے رپورٹ کے پیرا 18کی سفارشات کی منظوری دی ہے اور اس پر مزید کا رروائی کی لیے وزیر اعظم نے نو ٹیفکیشن جاری کیا ہے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس کو سمجھنے کے لیے رپو رٹ اور نو ٹیفکیشن دونو ں کو پڑھنا ہو گا ،اس کے باوجود جمہوریت کا دھڑن تختہ کرنے کی خواہش رکھنے والے اپنے طو رپر تالیا ں پیٹ رہے ہیں ۔

وزیر داخلہ چودھر ی نثار علی خان نے اس ٹیو یٹ پر عمد ہ انداز میں تبصرہ کیا ہے انہو ں نے کہا کہ ٹو یٹس جمہوریت کے لیے مہلک ہیںاور با اصرار کہا کہ ادارے ٹویٹ کے ذریعے ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے فوج کسی بھی وجہ سے درست یا غلط وزیراعظم کے حکم نامے سے نا خوش ہو سکتی ہے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیںکہ ٹویٹ کر نا چاہیے ، جی ایچ کیو کے لیے بہترین لا ئحہ عمل یہ ہو تا کہ وہ وزیر اعظم کے دفتر سے رابطہ کرتے اور اپنے تحفظات پہنچاتے ۔بات وزیر داخلہ کی درست ہے کہ حکومتی کا روبار عوامی سطح کا نہیں ہو ا کر تا کیو ں کہ اس قضیے میں جو بات سامنے آئی ہے اس کے مطا بق وزیر اعظم کے حکم میں صرف یہ کہا گیا تھا کہ چیف ایگزیکٹو نے کمیٹی کی سفارشات کی منظوری کرلی ہیں اور متعلقہ وزارتو ں کو ہدایت کی ہے کہ ان کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے ضروری اقداما ت کریں۔ یہ حکم سیکرٹری داخلہ کے لیے تھا اور اس کی نقول متعلقہ وزارتو ں کو اس پر عمل درآمد کے لیے بھیجی گئی تھیں ، اور متعلقہ وزارتیںاس حکم کے مطا بق کارروائی کر یں گی ، مثلا ًکابینہ ڈویژن وزیر اعظم کے مشیر طارق فاطمی کو ڈی نوٹیفائی کرے گا ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پرنسپل انفارمیشن آفیسر کے خلا ف محکمانہ کارروائی شروع کر نا ہو گی وغیر ہ وغیر ہ ۔ دیکھنے میں آیا کہ اس ٹیو یٹ کی آڑ لے کر جمہو ریت مخالف قوتو ں نے شعلو ں کو بھڑکا نے کے لیے تیل چھڑکنا شروع کر دیا کہ اپنی خواہشات کا محل تعمیر کر سکیں ۔ یہا ں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایسے خدشات پا کستان میں کیو ں اٹھتے ہیں ، وہ اس کے ما ضی کی بنا ء پر جنم لیتے ہیں۔ ایوب خان مر حوم سے لیکرپر ویز مشرف تک ایک بھی آمر کا مو قف نہ تو قانو نی طورپر اورنہ ہی آئینی طو رپر درست تھا ، مگر انہو ںنے ایسی افراتفری کی آڑلے کر اپنی آمر یت کے قلعے تشکیل دئیے چنا نچہ جب میڈیا خاص طورپر نا تجربہ کا ر تجزیہ کا ر کی لفاظی سنتے ہیںتو دھیا ن ما ضی کی طرف پلٹ جا تا ہے اور ساتھ ہی عدلیہ کے رویے پر بھی نظریں گڑھ جا تی ہیں جس نے ہر آمر کو ما ورائے آئین وقانون اور اخلا قیا ت کے تحفظ فراہم کر کے جمہو ریت کی ریڑھ لگا نے میں سہولت فر اہم کی ۔ مشرف کی آمر یت کوہی دیکھ لیا جا ئے کہ ان کی جگہ وزیر اعظم نے جو نئے آرمی چیف کا تقرر کیا تھا کیا وہ غیر آئینی یا غیر قانو نی اقدام تھا ۔ہرگز نہیں تھا۔ آئین اور قانو ن کی رو سے وزیر اعظم نے مشرف کو ہٹا کر نیا آرمی چیف مقر ر کیا مگر مشرف کے چند ساتھیو ں نے ذاتی مفاد کے لیے جمہوریت پر شب خون ما را اور جمہوریت کی بساط کو الٹ دیا۔ کیا یہ مشرف کا آئینی اقدام تھا مگر کسی ادارے نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ اگر مشرف کے ساتھ ملازمت میںکوئی زیا دتی ہو ئی تھی تو اس کے ازالہ کے لیے معروف طریقہ کا ر موجود تھا مشرف کو ان ادارو ں سے رجو ع کر نا چاہیے تھا جو ان کو ملا زمت کے سلسلے میںانصاف فراہم کرتے۔ آج ملک جس نہج پر ہے وہ اسی بے آئینی توقیر ی کا نتیجہ ہے ۔ تما م ادارو ںکو چاہیے کہ وہ مسلمہ اصولو ں کی پا سد اری کر یں اور کسی بھی سطح کو عوامی تبصروں کی آما جگاہ نہ بنائیںکیو ں کہ اس سے جمہو ریت دشمن اپنا فائدہ اٹھا نے لگ جاتے ہیں اورملک کی فضاء مکد ر کر دیتی ہیں ۔ لا لو جیسے عنا صر بغلیںبجا نا شروع کر دیتے ہیں ۔جب ٹیویٹ کی خبر عام ہو ئی تو یہ ہی نہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کش طاقتوں نے زبان درازی شروع کر دی بلکہ پڑوسی ملک بھا رت کے الیکٹرانک میڈیا نے جو گل کھلا ئے وہ بھی قابل توجہ ہے کہ ایک ذراسی بات کو کس طر ح افسانہ بنا یا گیا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ فسادنہ بنا یا گیا ۔ لیکن یہ اس میڈیا کی بھول ہے پاکستان کے عوام کو اپنی فوج پر نا ز ہی نہیں بلکہ پو را اعتما د ہے ۔ فوج نے بھی ہر مو قع پر خود کو عوام کے بھروسے کا ثابت بھی کیا ہے۔ جہا ںتک چند آمر وں کا تعلق ہے تو اس کا فوج کے ادارے سے کوئی علا قہ نہیںہے بلکہ یہ ان شخصیا ت کا ذاتی فعل رہا ہے بلکہ قابل ستائش بات یہ ہے کہ ادارے نے ان آمروںکے باوجود اپنے مثالی نظم ضبط ، پیشہ ورانہ مہارت ، فرائض کی ادائیگی کو اوج ثریا پر فائز رکھا اور اس کو متا ثرنہیںہونے دیا ۔

متعلقہ خبریں