جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو؟

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو؟

جب محکمہ تعلیم سے 35سال کی طویل وابستگی کے بعد ہماری فراغت کا وقت آیا تو ہمارے بڑے بیٹے کالج میں معلم بن چکے تھے۔ اتفاق دیکھئے کہ ہم نے اپنے شعبے کا چارج بھی انہیں کے سپرد کیا۔ چارج کیا تھا' تھانے نہ گاڑیاں' نہ قطاروں میں کھڑے دست بستہ خادموں کا ہجوم' نہ پر آسائش سرکاری رہائش گاہ۔ آفس سپرنٹنڈنٹ سردار حسین مرحوم نے ہم دونوں سے ایک کاغذ پر دستخط لئے۔ ہم نے ایک بوسیدہ حاضری کا رجسٹر لائبریری کی دو ایک کتابیں برخوردار کے حوالے کیں اور دوستوں کو خدا حافظ کہتے ہوئے حضرت فیض کا یہ قطعہ گنگناتے گھر چلے آئے۔

ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال و منال کا پوچھتے ہو
جو عمر سے ہم نے بھر پایا' سب سامنے لائے دیتے ہیں
دامن میں ہے مشت خاک و جگر ساغر میں ہے خون حسرت مے
لو ہم نے دامن جھاڑ دیا 'لو جام الٹائے دیتے ہیں
ہم نے یہی کوئی تیس سال پہلے ایک منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا تھا۔ برخوردار آج کل از سر نو اسی منصوبے پر بڑی محنت سے کام کررہے ہیں۔ یہ منصوبہ کالج کے پرانے ریکارڈ اور اس کے سالانہ مجلے سے پرنسپلوں کے کوائف اور ان کی تصویروں کو جمع کرنا تھا۔ یاد رہے کہ گورنمنٹ کالج مردان جو اب ایک (Mini) یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔ سال 1952ء میں اکبر میموریل کالج کے نام سے قائم ہوا۔ اس کے قیام کا سہرا خان عبدالقیوم خان کے سر جاتا ہے۔ تو ہم بتا رہے تھے کہ ہم نے کالج کے پرنسپل شیخ احمد حسن سے لے کر اس وقت کے پرنسپل فیضان احمد ( ایم اے' علیگ) تک کے تمام پرنسپلوں کی تصویریں الگ الگ فریم میں سجا کر پرنسپل کے دفتر میں سجا دیں اور کالج کے تمام گزشتہ سربراہوں کے نام اور ان کے قیام کا عرصہ بھی ایک بورڈ پر لکھوایا۔ بعد میں بورڈ پر پرنسپلز کی آمد و رفت کے کوائف کا اندراج اور تصویروں میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ شہر میں کسی مسئلے پر ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ احتجاجی ہجوم نعرہ بازی کرتا اور ڈنڈے لہراتا ہوا کالج میں بھی در آیا۔ اس مسئلے کا بظاہر کالج کے امور سے کوئی تعلق نہیں بنتا تھا۔ لیکن بپھرے ہجوم کو شہر میں گھیرائو جلائو کے بعد کالج میں داخلے سے کون روک سکتا تھا۔ اس نے پرنسپل کے دفتر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی اور ملحقہ دفتر کے قیمتی ریکارڈ کو بھی نذر آتش کردیا۔ اس ہنگامے میں پرنسپل کے آفس میں لگے ان کے ناموں کے بورڈز اور تصویریں بھی نیست و نابود کردی گئیں۔ اب ہمارے برخوردار ایک بار پھر اس پرانے ریکارڈ میں تلاش کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ کالج کے قیام کو 65 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے اس ریکارڈ کی بازیافت اب ایک مشکل مرحلہ ہے۔ اب دیکھتے ہیں ہمارے برخوردار اس نہایت ہی مشکل کام کو کیسے مکمل کرتے ہیں۔ ہماری تو یہی دعا ہے کہ بر خوردار عظمت ہما کی محنت نتیجہ خیز ثابت ہو۔ لیکن یہ سب کچھ کالج کے موجودہ سربراہ پروفیسر غلام فاروق جو ایک علم دوست شخصیت ہیں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ پرانی تصویروں کی صفائی اور از سر نو ترتیب میں کچھ رقم بھی خرچ کرنا پڑے گی۔ ماضی کے آثار مٹانے میں کچھ پرانے تجربوں کا ذکر بھی ضروری ہے جس میں ہم اپنے ماضی سے متنفر قوم کی حیثیت سے کافی تجربہ رکھتے ہیں۔ مردان کالج کا ریکارڈ تو خیر ہنگامے میں ضائع ہوگیا پشاور ریڈیو جیسے اہم ادارے کے ایک سربراہ یوسف بنگش نے تو پاکستان کے اس قدیم ترین براڈ کاسٹنگ کے 50 سال کے پرانے ریکارڈ کو نذر آتش کرنے کا بنفس نفیس حکم صادر فرمایا تھا ۔ ابھی گزشتہ ماہ ہم پشاور ریڈیوکے ایک سابقہ پروڈیوسر صوفی محمد اسحاق کی گفتگو سن رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ریڈیو کا پرانا ریکارڈ اس کی نئی عمارت کو منتقل کرنے کا کام مجھے سونپا گیا تھا۔ جب میں نے پرانے ڈراموں' دستاویزی پروگراموں اور بہت بڑے بڑے دانشوروں کی تقاریر کے مسودے گدھا گاڑی میں لاد کر نئی عمارت تک پہنچائے تو اس وقت کے سٹیشن ڈائریکٹر یوسف بنگش نے یہ چنگیز خانی حکم دیا کہ اس ریکارڈ کو اندر لانے کی ضرورت نہیں۔ یہاں سٹیشن کے لان میں ہی اسے آگ لگادو اور اس طرح 1935ء سے 1985ء کا تمام تاریخی ریکارڈ جلا دیا گیا۔ ظاہر ہے اس میں سمندر خان سمندر' امیر حمزہ خان شنواری' سید رسول رسا کے ڈراموں کے مسودے' اردو اور ہندکو پروگراموں کا قیمتی ریکارڈ اور فضل حق شہید' بیرسٹر نصر اللہ خان مشوانی' پیر معصوم شاہ ایڈووکیٹ' حافظ محمد ادریس اور مولانا نور الحق ندوی کی تقاریر کے سکرپٹس بھی شامل تھے۔ اب ایک دوسرے قومی سطح کے سانحے کا ذکر سن لیجئے۔ پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد ذوالفقار علی بھٹو کا بہت بڑا کارنامہ تھا۔ کانفرنس میں اسلامی ممالک کے باہمی تعاون کی ایک تاریخی قرار داد بھی منظور ہوئی تھی۔ قرار داد کا مسودہ اور کانفرنس میں شریک اسلامی ممالک کے سربراہوں کے نام قیمتی پتھر پر کندہ کروا کر مینار پاکستان میں لگا دیا گیا تھا۔ ضیاء الحق جب بر سر اقتدار آئے تو انہوں نے بھٹو دشمنی کی وجہ سے یہ یاد گار قرارداد مٹا دی اور اس طرح اپنی دانست میں تاریخ سے بھٹو صاحب کا نام ختم کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور بھٹو صاحب کا نام بھی اس کے ساتھ تادیر زندہ رہے گا۔ جنرل محمد ایوب کے زمانے میں نئی روشنی کے نام سے قدرت اللہ شہاب نے ایوب خان کی حکومتی اصلاحات کے موضوع پر ایک دستاویزی فلم تیار کی جو اردو کے علاوہ سندھی' بلوچی' پنجابی اور پشتو میں بھی بنائی گئی۔ پشتو سکرپٹ امیر حمزہ خان شنواری نے لکھا تھا اور اس میں مردان کے کامران خان ہمارے بزرگ دوست ایاز دائودزے اور گل محمد خان گل نے کام کیا تھا۔ کچھ سال پہلے ہمیں اس فلم کی کاپی تلاش کرنے کا خیال آیا۔ پشاور کے محکمہ اطلاعات ' وفاقی فلم اور مطبوعات کے شعبے میں ناکامی کے بعد کراچی کی آرکائیوز سے پوچھا تو ان کا جواب آیا کہ وہ فلم سلولائیڈز کے فیتے پر تھی' ضائع ہوچکی ہے۔ سوچتا ہوں کہ ہمیں اپنے ماضی کے آثار مٹانے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ غالباً ہم فرمودہ اقبال جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو پر پوری طرح عمل پیرا ہیں لیکن یہ انہوں نے ماضی کی فرسودہ روایت کے بارے میں کہا تھا۔

متعلقہ خبریں