توکلّی کاکا

توکلّی کاکا

ہر سال یکم مئی کو لیبر ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے بڑے بڑے سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں۔ مزدوروں کے حق میں لمبی چوڑی تقریریں کی جاتی ہیںمگر ستم ظریفی کی انتہایہ ہے کہ جس دن مزدور وں کا عالمی دن منایا جارہا ہوتا ہے اس دن بھی مزدور کام کر رہا ہوتا ہے مزدوروں کے عالمی دن کے حوالے سے دفاتر بند ہوتے ہیں وائٹ کالر جاب والے اپنے گھروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں لیکن مزدور کا پسینہ اس دن بھی بہہ رہا ہوتا ہے وہ رزق حلال کمانے میں مصروف ہوتا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم مزدور کی ضرورتوںسے بے خبر ہیں۔ اسے اتنی مزدوری دی جاتی ہے جو اس کے کنبے کی بنیادی ضروریات کے لیے ناکافی ہوتی ہے اس لیے اگر مزدور کام نہیں کرے گا تو کھائے گا کہاں سے؟ ہم نے لیبر ڈے کی مناسبت سے توکلی کاکاکوایک نمائندہ کردار کے طور پر چنا ہے ایسے کردار ہمارے معاشرے میں ہر جگہ پائے جاتے ہیںتوکلی کاکا ایک مزدور ہے جس کی ساری زندگی محنت مشقت کرتے گزری ہے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا جینا مرنا اپنے لوگوں کے لیے ہوتا ہے ان کی زندگی کا مقصد انسانوں کے کام آنا ہوتا ہے ان کے دکھ درد دور کرنے ہوتے ہیں اس کردار سے ہمارا تعارف پروفیسر ہدایت اللہ صاحب نے کروایا۔ پروفیسر صاحب تو ملازمت سے سبکدوش ہوچکے ہیں لیکن اب بھی علم کی شمع اٹھائے تاریک معاشرے میں روشنی پھیلانے کا اہم فریضہ سرانجام دینے میں مصروف ہیں۔ پشتو کے پروفیسر تھے تعلیم و تعلم سے عقیدت کی حد تک لگائوہے طلبہ ان سے بہت پیار کرتے تھے خوش اخلاقی کی مجسم تصویر ہیں۔اب تک یہ پشتو ز بان کو دو کتابیں عنایت کرچکے ہیں ان کی پہلی کتاب زما مورے تھی او ر اب دوسری کتا ب '' فیصلے'' ہے کہتے ہیں تخلیق کار کو اس کی تخلیق سے جدا نہیں کیا جاسکتا مصنف کسی نہ کسی حوالے سے اپنی تخلیق میں ضرور موجود ہوتا ہے۔ ان کی کتاب فیصلے میں ہمارے معاشرے کے ایک اہم کردار توکلی کاکا کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے کی بے حسی اور لوگوں کے کٹھور رویے اپنے محسن کو بہت جلد فراموش کردیتے ہیں ۔توکلی کاکا گائوں کی سادہ فضا میں زندگی بسر کرنے والا ایک مزدور ہے بے اولاد ہے اللہ پاک نے اسے بڑی اچھی صحت عطا کررکھی ہے اپنا کام دیانت داری سے کرتا ہے گائوں میں اس کے لیے مزدوری بہت ہے اور اس کی وجہ اس کی ایمانداری اور اپنے کام سے لگن ہے۔ محنت مزدوری کے ساتھ ساتھ یہ مخلوق خدا کی خدمت کے لیے بھی ہر وقت تیار رہتا ہے گائوں کا کوئی مسئلہ ہو توکلی کاکا اس کے حل کرنے میں پیش پیش ہوتا ہے ۔گائوں میں ایک مرتبہ سیلاب کی تباہ کاریاں پھیلیں تو پانی کا رخ موڑنے میں توکلی کاکا نے سب سے پہلے آگے بڑھ کر پانی کا مردانہ وار مقابلہ کیا بعد میں گائوں کے لوگوں نے اس کی تقلید کی اور ان کا گائوں بہت بڑی تباہی سے بچ گیا!لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں مزدور کی خدمات کو بہت جلد بھلا دیا جاتا ہے۔ مزدور نے ساری عمر جب تک جسمانی طاقت اجازت دے کام کرنا ہوتا ہے اسکی قلیل اجرت ہمارے نام نہاد نیک معاشرے کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے توکلی کاکا کی کہانی ہر مزدور کی کہانی ہے جب توکلی کاکا ایک دن خان کی حویلی میں تعمیراتی کام کے دوران گر پڑتا ہے تو پھر ہسپتال میں اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا وہ مزدور جو ساری زندگی لوگوں کی خدمت کرتا رہا محنت مزدوری کرکے رزق حلال کماتا رہا اب ہسپتال کے ایک وارڈ میں بے یار و مددگار پڑا ہوتا ہے کوئی بھی گائوں سے اس کی خبرگیری کے لیے نہیں آتا اس کا نام ان مریضوں کی فہرست میں لکھا جاچکاتھا جنہیں لاوارث قرار دے دیا جاتا ہے! ارباب اقتداراور دوسرے لیبر ڈے منانے والے اداروں کی خدمت میں گزارش ہے کہ خدارا مزدور کا حق پہچانئیے یکم مئی کو بھی پشاور کے گھنٹہ گھر تلے مزدور مزدوری کی تلاش میں بیٹھے ہوتے ہیں وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ آج پوری دنیا میں ان کے نام پر عالمی دن منایا جارہا ہے وہ ہر آنے جانے والے کو امید بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ انہیں شاید کسی مزدور کی ضرورت ہو تو وہ اپنے بچوں کے لیے روٹی کے چند ٹکڑے کماسکیں مزدور کے بچے ہر شام اس آس پر دروازے کی طرف نظریں لگائے بیٹھے ہوتے ہیں کہ شام کو بابا ان کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور لائے گا ذرا سوچئیے! جب بابا خالی ہاتھ لوٹتا ہے تو مزدور کے بیوی بچوں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی ؟