بندہ ،مزدور ۔۔۔

بندہ ،مزدور ۔۔۔

یکم مئی ،یوم مزدور۔۔کہ جس دن بڑے بڑے ہوٹلوں میں بہت سے تقریبات منعقد ہوتی ہیں ۔مزدور کے حق میںقراردادیں بھی پاس کی جاتی ہیں۔مگر مزدور بیچارہ مزدور ہی رہتا ہے۔کیونکہ ان کانفرنسوں ،سیمیناروں میں شریک کوئی بھی مزدورشامل نہیں ہوتا۔یہ بھی مقام غنیمت ہے کہ ہم لیبر ڈے منالیتے ہیںبھلے سے ہی مغرب کے تتبع میں مناتے ہوں جیسے ہم ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں یا اپریل فول کے موقع پر خود کو اور دوسروں کو فول بناتے ہیں۔اسی طرح یہ دن بھی ان بہت سارے دنوں کی طرح ہم مناہی لیتے ہیں۔یہ بات ہے بھی بڑی معقول ،کیوں کہ ہم ''جوش''اور ''جذبے''کے معاملے میں تو خود کفیل ہیں ہی۔اور ''منانے'' میں تو ہمارا کوئی ثانی ہی نہیں جیسے ہم مختلف قسم کی چھٹیاں مناتے ہیں اسی طر ح ہم یہ دن بھی منالیتے ہیں۔اللہ کے فضل و کرم ،حکومت کی مہربانی سے ایک اور چھٹی کا دن ہمیں میسر جو آجاتاہے۔یہ الگ بات کہ جن کا دن منایاجاتا ہے وہ خود اس دن کو منا نہیں پاتے ۔میں نے بہت سی یکم مئیوںکو لیبر ڈے کے موقع پرمزدوروں کو گھنٹہ گھر کے نیچے سڑک پر،سپین جماعت کے فٹ پاتھ پر بیٹھادیکھا ہے اور ان مقامات پر کہ جہاں لوگ مزدور کی تلاش میں آتے ہیں اور مزدور مزدوری کی تلاش میں ۔کسی کے ہاتھ میں رنگ کی برشیں تو کسی کے ہاتھ کدال اور بیلچے۔مگر سب کے ماتھے پر ایک ہی سوال کہ جس سوال کا جواب ہم 69برسوں میں تو تلاش نہیں کرپائے ،نئے پاکستان کا نعرہ تو بہت لگا مگر وہ نیا پاکستان ابھی دکھائی نہیں دیا ۔شایدنیا پاکستان بنانے والوں کے پاس سوال کا کوئی جواب ہو کیونکہ ''پرانے پاکستان'' کے پاس تو اس سوال کا جواب نہیں ہے۔وہ سوال یہ ہے کہ

تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
مسئلہ تو یہ ہے کہ مزدور بیچارہ ہمارے سماج میں کسی شمار قطار میں نہیں ہے۔500روپے دیہاڑی کمانے والے مزدور کو اگر پورا مہینہ مزدوری مل بھی جائے تو اور وہ اپنی ہڈیوں کا کچومر نکال کراور اپنے پسینے کو بیچ کر بھی پورے مہینے کی اجرت حاصل کربھی لے تو ایک اچھی زندگی نہیں گزارسکتا۔اتنے پیسوں کا تو سرکاری افسر پٹرول خرچ کردیتے ہیں ۔ اتنے پیسوں کے تو خوانین ،وڈیرے، چوہدری،لغاری ،ملک،ٹوانے وغیرہ وغیرہ اپنے کتوں کو راتب کھلادیتے ہیں۔مزدور ہونا کوئی گالی نہیںہے مگر ہمارے سماج میں اس سے بڑی گالی کوئی نہیںہے۔ہمارے ایک دوست کے عزیزراج (گلکار )کاکام کرتے تھے ۔مشکل سے زندگی کی گزربسر ہوتی تھی۔تھوڑے پڑھے لکھے تھے۔انگلینڈ چلے گئے وہاں اسی کام میں اتنا کمایا کہ اب شہر کے رئیسوں میں شمار ہوتے ہیں۔مہذب معاشرے کی محنت کی عظمت ملاحظہ کیجئے کہ ایک بندہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ ہمارے ہاں تو محنت کی عظمت صرف دوسری تیسری کلاس کے قائدوں میں ہی نظر آتی ہے ۔کاش کہ کوئی مشین ایسی ایجاد ہوجائے جو کتابی باتوں کوسماج میں نافذالعمل کرواسکے۔اگر ہوسکے تو کتنا اچھا ہو،جب ایک ہی صف میں محمود اور ایاز کو کھڑادیکھا جاسکے ۔جب ہرن اور شیر ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے نظر آسکیں ،جب سچ کا''سچ مچ ''بول بالا ہو۔مگر کیا کیا جائے ہمارا سماج تو بس تھیوری تک محدود ہے پریکٹیکل کرنے کی کسی نے کبھی کوشش ہی نہیں کی۔کمال کی بات یہ ہے کہ ہم سب تھیوری کی ان باتوں پر بہل بھی جاتے ہیں ۔ہماری خوش فہمیاں بھی دراصل ہماری تساہل پسندی سے جنم لیتی ہیں ۔ہم امیدکو حاصل کرنے کے لیے کوشش تو کرنہیں سکتے لیکن مفاد پرستوں کی باتوں میں آجاتے کہ چلو یہ شخص جو کہہ رہا ہے کرہی دے گا۔مزدور بے چارہ کی تو سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کا روزگار لگا رہے ،کیونکہ روزگار لگنے کا مطلب ہے کہ اس کے گھر کا چولہا جلتا رہے ،اس کے بچوں کو رزق ملتا رہے۔اس کی زندگی اسی تک محدود ہے۔وہ تورات اس امید پر گزارتا ہے کہ کل کادن اسے مزدوری دے گا اور دن کی مشقت اس لیے برداشت کرتا ہے کہ رات اسے سکون دے گی۔
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے
اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
ہم استحصال کی بات بہت کرتے ہیںاور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے جیسے بے انصاف معاشرے میں مختلف طبقوں کا استحصال ہوتا ہے لیکن ہمیشہ استحصال اسی کا ہوتاہے جو کمزور ہوتا ہے۔چاہے وہ عورت ہویابچہ ہویا کوئی ایسا طبقہ کہ اپنا حق حاصل نہ کرسکتا ہو۔میرے خیال میںمزدور ہمارے ہاں سب سے کمزور طبقہ ہے اسی لیے سب زیادہ استحصال اسی کاہوتا ہے۔بڑے بڑے شہروں کی بڑی بڑی دکانوں کے شوروموں میںسجے مہنگے مہنگے سوٹ بنانے والے ان ہاتھوں کو کوئی نہیں جانتاکہ جن ہاتھوں نے ہفتوں کی محنت سے اس سوٹ کو بنایا ہوتا ہے اور اجرت میں فاقے اور مایوسیاں کمائی ہوتی ہیں۔
آج بھی اس کی ساری خوشبومِل مالک لے جاتا ہے
میں لوہے کی ناف سے پیدا جوکستوری کرتاہوں
خدا نے مزدور کو زبردست حوصلہ بھی دیا ہے اور یہی حوصلہ ہے کہ وہ ہمیشہ زندگی کی جنگ جیت جاتا۔یہی حوصلہ اسے سکون بھی بخشتا ہے اسی لیے اس کے دن مشقت اور راتیں نیند میں کٹتی ہیں۔
پس نوشت:گزشتہ ایک کالم میں پشاور یونیورسٹی کے موجودہ رجسٹرار کا نام غلط لکھ دیا گیا گیا تھا۔ موصوف کا نام پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار پڑھا جائے ۔شکریہ

متعلقہ خبریں