پارہ چنار پھر لہو لہو

پارہ چنار پھر لہو لہو

پارہ چنار میں بار بار سنگین ترین قسم کی دہشت گردی کے پے در پے واقعات پر دل مسوس کر رہ جاتا ہے مگر دہشت گردوں کی دہشت گردی کی پیاس سینکڑوں جانیں لے کر اور اتنے ہی کو زخمی و معذور، بچوں کو یتیم' خواتین کو بیوہ' بہنوں بیٹیوں اور مائوں کو ماتم کناں سانحات سے دو چار کرنے کے بعد بھی نہیںبجھتی۔ اگرچہ اس امر کی جانب اشارہ مناسب نہیں لیکن واقعات کے تسلسل میں نشانہ بننے والے عناصر اور ان کے مخصوص مقامات کو ہدف بنا کر نشانہ بنانے سے اس امر کا بھی عندیہ ملتا ہے کہ یہ واقعات معمول کی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ شاید فرقہ وارانہ دہشت گردی بھی ہو جس کا مقصد کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ تصادم کرانا ہو۔ فسادیوں اور دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن غم و غصے کی حالت میں ہمیں یہ یاد نہیں رہتا اور جذبات میں ہم مزید اپنا یہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ پارہ چنار کے نور بازار میں خواتین کی مرکزی امام بارگاہ کے باہر کھڑی کی گئی کار میں مبینہ طور پر دھماکہ ہونے کی اطلاع ہے۔ میڈیا میں یہی رپورٹ ہوا ہے جس سے ایک مرتبہ پھر سیکورٹی حکام کی غفلت اور اپنی حفاظت آپ کرنے کے لئے چوکنا رہنے کی ذمہ داری کی بھول واضح ہے۔ عوام کو تحفظ دینا بلا شبہ حکومت کی ذمہ داری ہے مگر جس تسلسل کے ساتھ پارہ چنار میں مخصوص عناصر کے علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے پیش نظر محتاط ہونے کی ان سے بھی توقع غلط نہ ہوگی۔ اس وقت جبکہ ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کے تحت فسادیوں کو پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالنے کی مہم جاری ہے ساتھ ہی دہشت گردوں کے ساتھیوں کو تختہ دار پر چڑھایا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز ہی ایسا کیا گیا تو رد عمل کے امکانات کے باعث محتاط رہنا اور حفاظتی اقدامات کو حتی المقدور یقینی بنانے سے غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ بچے کھچے مشترکہ دہشت گردوں کی تلاش اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سارے ملک میں آپریشن رد الفسادپر بھرپور توجہ دی جارہی ہے۔ آپریشن ضرب عضب سے تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی کمان تو منتشر ہوچکی ہے لیکن ان کے بچے کھچے عناصر کو ان کے خفیہ ٹھکانوں سے نکال کر ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچانے کا کام ابھی باقی ہے۔ یہ صرف سیکورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے عام شہریوں' مقامی قیادت ' امن وامان کے ذمہ دار مقامی اداروں میں ارتباط ضروری ہے ۔ انٹیلی جنس اداروں کے درمیان سریع الرفتار رابطے اور انتہا پسندوں کے بارے میں معلومات کا فوری تبادلہ بہت ضروری ہے۔ بسوں کے اڈوں پر اس مفہوم کی عبارتوں والے بورڈ لٹکا دینا کافی نہیں ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کوئی لاوارث سامان دیکھیں تو فلاںنمبر پر ٹیلی فون کر دیں۔ ایسی اطلاعات موصول کرنے والوں کا ہمہ وقت ٹیلی فون سننے کے لیے موجود ہونا اور بروقت کارروائی کرنا بھی ضروری ہے خواہ وہ اطلاعات غلط ہی ثابت کیوں نہ ہوں۔ ایسی اطلاعات فراہم کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ مقامی افراد تقریباً ہر گھر سے واقف ہوتے ہیں کہ وہاں کون رہتا ہے۔ اس کا ذریعہ معاش کیا ہے اور اس کے تعلقات کیسے لوگوں سے ہیں ۔اس ضمن میں اگر ہم اپنے ہی مفاد میں حساس اداروں کو معلومات فراہم کریں تو بہت سی اہم معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حاصل ہو سکتی ہیں جس کی بنا پر وہ کارروائی کرکے دہشت گردوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل سکتے ہیں۔ یہ کام محض انٹیلی جنس اداروں کی ذمہ داری سمجھ کر چھوڑا نہیں جا سکتا۔ ایک واردات کے بعد دوسری کے درمیان کافی وقفہ دینے لگے ہیں جس کا ایک مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ لوگ ایک واردات سے پیدا ہونے والے غم و غصہ پر صبر کر لیں اور زندگی کے معمولات میں پھر سے لاپروائی کو چلن بنا لیں۔ لیکن مقامی قیادت اور مقامی انتظامیہ کو انتہا پسندی کے ممکنہ واقعات کے حوالے سے مستعد رہنا چاہیے اور عام لوگوں کو مستعد رکھنا چاہیے۔ انتہا پسندی ایسا عفریت ہے جس کا اگر چھوٹا سا حصہ بھی نظر انداز ہو جائے تو یہ سرطان کی طرح پھیل سکتا ہے۔ دہشت گردوں کی جب تک مکمل سرکوبی اور صفایا نہیں ہوجاتا کہیں پر بھی اور کسی بھی وقت کوئی بھی دہشت گردی کی واردات اور واقعات غیر متوقع نہیں۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ چوکنا رہا جائے۔ جہاں تک اس قسم کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والے عناصر کا سوال ہے ہمارے تئیں یہ ان تمام گروہوں اور جتھوں کی مشترکہ کارروائی قرار پاتی ہے جو وطن عزیز میں عرصہ دراز سے امن دشمن کارروائیاں کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان عناصر کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کو بھی ان صفوں سے علیحدہ نہیں سمجھنا چاہئے ۔ آپریشن رد الفساد کے دوران ہر اس تنظیم 'گروہ اور ان سے منسلکہ ہر قسم کے مشکوک عناصر خواہ ان کا تعلق جس سیاسی جماعت اور مذہبی تنظیم سے ہو بلا امتیاز کارروائی کرکے مستقل امن کے قیام کی سعی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام میں کسی دہشت گردانہ کارروائی یا فرقہ وارانہ دہشت گردی کا خوف باقی نہ رہے۔عوام جس طرح ایک عرصے سے سنگین حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور سیکورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے قربانیاں دے رہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن بہر حال ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی اگر اس طرح کے واقعات کو رونما ہونے سے نہیں روکا جاسکتا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بطور محب وطن پاکستانی کیا ہم اپنے فرائض اور کردار کو بخوبی ادا کر پائے۔ نیز تحفظ امن عامہ کے ذمہ دار اداروں کو کامیابی کی سند دی جائے یا اب بھی غیر یقینی کی کیفیت ہی کو مقدر جان کر صبر کیا جائے۔

متعلقہ خبریں