قبائلی نوجوانوں کی فنی تربیت کا احسن منصوبہ 

قبائلی نوجوانوں کی فنی تربیت کا احسن منصوبہ 

خیبر پختونخوا کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا کی فنی تعلیم و تربیت کی اہمیت کو مسلمہ حقیقت قرار دینے اور گورنر ہائوس میں نیو ٹیک کے زیر اہتمام تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں میں کٹس کی تقسیم قبائلی نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع سے مستفید کرانے کی ایک سنجیدہ سعی ہے ۔ٹیکنیکل اور ووکیشنل سیکٹر میں عالمی معیار کے اداروں کے قیام کا خواب تو ہر ایک کا خواب ہے مگر اس کے شر مندہ تعبیر ہونے کا یقین اس لئے نہیںکیا جا سکتا کہ فاٹاسیکرٹریٹ کے زیر اہتمام خواتین کے ووکیشنل اداروں سے لیکر دیگر مختلف نوعیت کے اس قسم کے تربیتی ادارے سکول اور سماجی بہبود کے دیگر ادارے کا غذات و ستا ویزات اور عملے کی تنخواہوں کی وصولی کی حد تک تو موجود ہیں مگر درحقیقت ان کا کوئی وجود نہیں دیکھنے کو تو یہ کہانی ہی لگتی ہے لیکن اس کہانی کی اگر حقیقت معلوم کی جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آئے گی کہ قبائلی علاقوں میں اس بنیادی اساس کا کوئی وجود نہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ یہ کوئی پوشیدہ امرنہیں بلکہ گورنر خیبر پختونخوا اور متعلقہ حکام کو بھی اس کا علم ہوگا۔ میڈیا میں بار بار اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے مگر بجائے اس کے کہ اس پر توجہ دے کر سرکاری وسائل کو یوں ضائع کرنے والوں اور حکومت کی آنکھوں میں دھول جھو نکنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے الٹا اس طرح کے دل خوش کن اعلانات کیئے جاتے ہیں گویا کہ فاٹا میں درحقیقت وہ سب کچھ ہے جس کا حکام دعویٰ کر رہے ہیں۔ قبل ازیں گورنر خیبر پختونخوا کبھی کبھار کسی ایجنسی ہیڈ کوارٹر کا دورہ کر کے کسی ترقیاتی منصوبے کی رسم افتتاح کی ادائیگی کیا کرتے تھے اب حالات کے باعث اس طرح کے منصوبوں کی رسم افتتاح گورنر ہائو س ہی میں ہونے لگی ہے۔ جس کے باعث گورنر کا قبائلی علاقوں سے کوئی رابطہ نہیں ۔فاٹاسیکر ٹریٹ کے حکام کی کارکردگی کی اگر کسی آزاد ذریعے سے معلومات لی جائیں اور ان کے کا غذوں میں موجود منصوبوں سے لیکر ملازمین تک کی تفصیل معلوم کی جائے تو چشم کشاحقائق سامنے آئیںگے۔ محولہ صورتحال میں عالمی معیار کے ٹیکنیکل اور ووکیشنل سنٹروں کا قیام اصل مسئلہ نہیں بلکہ ان کے قیام کے بعد طالب علموں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام زیادہ مشکل امر ہے ۔توقع کی جانی چاہیئے کہ گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا فاٹاسیکر ٹریٹ میں اس طرح کی بے قاعد گیوں کا نوٹس لیں گے اور سرکاری وسائل کا عوام کی بہبود میں استعمال کو یقینی بنائیں گے ۔ بہتر ہوگا کہ ان اداروں میں چینی زبان سکھانے کا بھی اہتمام ہوتا کہ سی پیک کے منصوبوں کیلئے تربیت یا فتہ ہنر مند نوجوانوں کے ساتھ ساتھ چینی زبان سے شناسا عملہ میسر آئے ۔

متعلقہ خبریں