معیاری ابتدائی تعلیم کے بہتر انتظامات

معیاری ابتدائی تعلیم کے بہتر انتظامات


خیبر پختونخوا حکومت ایک جانب اساتذہ کی جدید تربیت کرکے سرکاری سکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی احسن سعی میں مصروف ہے تو دوسری جانب کچھ ایسی انہو نیاں بھی سامنے آئی ہیں جو حکومتی مساعی اور دعوئوں پر پانی پھیرنے کا باعث بن رہی ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سرکاری سکولوں میں انگریز ی کے مضمون کو درست انداز میں پڑھا نے کیلئے برٹش کونسل سے اساتذہ کی تربیت اور معیاری ابتدائی تعلیم کیلئے چھ ہزار اساتذہ کی خصوصی تربیت کر کے ابتدائی کلاسوں میں جدید اور معیاری تعلیم دینے کو یقینی بنانے کے اقدامات ناقابل یقین ہیں۔ اس امر کی توقع ہی نہ تھی کہ سرکاری سکولوں میں اس طرح کے اقدامات بھی ممکن ہو سکتے ہیں کہ بچوں کی تعلیم میں خصوصی طور پر دلچسپی کے حامل والد ین بھی سرکاری سکولوں کی طرف متوجہ ہو سکیں گے ۔ ہماری تجویز ہوگی کہ محکمہ تعلیم صوبے میں ان چھ ہزار اساتذہ کو جاری تعلیمی اداروں میں بھجوانے کی بجائے سرکاری سطح پر جدید سہولیات سے آراستہ پلے گروپ سے لیکر ابتدائی کلاسوں اور اگر پرائمری کی سطح تک ہو توبہت مناسب ہوگامیں بھجیں یا کوئی الگ نام سے سرکاری شعبے میں پرائیویٹ سکولز کی طرز کے ادارے کھولے جائیں اور ان کی معقول فیس بھی رکھی جائے جو بہر حال معیاری تعلیمی اداروں کی فیس کے نصف سے بھی کم ہو مگر معیار ان سے بڑ ھ کر ہوتا کہ والدین کو ایک متبادل تعلیمی سہولت میسر آئے اور سرکاری خزانے پر بھی بوجھ نہ پڑے۔ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت کو چارسدہ میں سرکاری سکول کو نتائج کے اعلان کے روزکرائے کی عدم ادائیگی پر مالک جائیداد کی طرف سے تالہ لگا کر طالبات کو واپس گھر بھجوانے جیسی صورتحال کی نوبت نہ آنے دینے پر بھی توجہ دینی چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں