پارہ چنار دھماکہ

پارہ چنار دھماکہ

مباد ا ہم بھول گئے ہوں پاڑہ چنار کا کار بم دھماکہ ایک بار پھر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں ۔ اس چھپے ہوئے دشمن کے خلاف جنگ جاری ہے جو ہم میں کہیں موجود ہے۔ یہ کار بم دھماکہ محض نور مارکیٹ میں شیعہ امام بارگاہ کے باہر حملہ نہیں ہے ۔ یہ سارے پاکستان پر حملہ ہے۔ یہ محض شیعہ کمیونٹی پر حملہ نہیں ہے۔ یہ ہر اس شخص پر حملہ ہے جس کا مسلک ' فرقہ ' عقیدہ کوئی بھی ہو ' اس کا قصور یہ ہے کہ وہ پاکستانی ہے۔ ہم گزشتہ ایک عشرے کے دوران ان پچاس ہزار فوجیوں اور سویلین شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں ۔ آج کے جاں بحق ہونے والے بھی ان شہیدوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ انا للہ و اناالیہ راجعون۔ اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے عزیزوں اور اقرباء ' ان کے سارے ہموطن پاکستانیوںکو صبرجمیل عطا فرمائے۔ صبر کے معنی ظلم برداشت کرنا نہیں بلکہ ظلم کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ظلم کا یہ سلسلہ بند ہو جائے۔ لیکن یہ خود بخود ختم نہیں ہوگا۔ اس کے خلاف مختلف سطحوں پر پاک فوج اور امن و امان قائم رکھنے کے ذمہ دار ادارے تندہی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ہر کامیاب کارروائی کے بعد ہم عام شہری یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب دہشت گردی ختم ہو جائے گی ۔ اور دشمن کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ پاکستان کے شہریوں کو امید و یاس کی کیفیت میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کیفیت کے سبب پاکستانیوں کا پاکستان پر اور پاکستان کے اداروں پر اعتماد کم ہو جائے۔ ہم کم کوشی کی دلدل میں اترتے جائیں۔ اور ہمارے رہنما ہمارے دلوں میں اُٹھنے والی احتجاج کی آگ کو سرد رکھنے کے لیے ہمیں تسلیاں دیتے رہیں کیونکہ یہ صورت حال انہیں ایسے مواقع فراہم کرتی ہے جس میں وہ دہشت گردی کو روکنے کے لیے ایسے انتظامی اقدامات پر غور کرتے رہیں جن میں عوام کا عمل دخل نہ ہو۔ کیوں کہ عوام جہاں قربانیاں دیتے ہیں وہاں سوال بھی کرتے ہیں۔ ہمارے لیڈر ہم سے وعدے کرتے ہیں اور ہماری امید بندھاتے رہتے ہیں۔ دشمن کی یہی حکمت عملی ہے کہ ہمارے عام لوگوںکا ہمارے رہنماؤں پر اعتماد کم ہو جائے۔ ہم ناامید ہو جائیں۔ہمارے رہنماؤں کو سوچنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائیوں کا کریڈٹ لینا اور ان کامیابیوں کو دیرپا بنانے میں کم کوشی کا رویہ خود ان کے لیے نقصان دہ ہے اور پاکستانیوں کو ایک بے بس قوم بنانے کی کوشش کو تقویت دیتا ہے۔ دہشت گردی کی وارداتوں کے درمیان جو خاموشی کا وقفہ ہوتا ہے اس میں ہمارے حکمران نئی نئی فکری تاویلوں کا سہارا لیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر یہ کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی 'دہشت گردی ہے یا نہیں۔ جب کہ دہشت گردوں کے حملوں میں کسی فرقے ' کسی عقیدے ' کسی ملک ' کسی قومیت ' کسی لسانی گروپ کے لوگ محفوظ نہیں رہتے۔ دہشت گردوں کے مقاصد کے حوالے سے دیکھا جائے تو فرقہ وارانہ دہشت گردی محض دہشت گردی نہیں بلکہ دو آتشہ ہے۔ دہشت گردی کا مقصد بے گناہ لیکن عام لوگوں بچوں ' بوڑھوں ' عورتوں کو نشانہ بنا کر عوام میں خوف و ہراس اور بے بسی کا احساس پیدا کرنا ہوتا ہے جب کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی ایک طرف دہشت گردی ہے دوسری طرف یہ فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرتی ہے ۔ کسی فرقے کو خصوصی ہدف ہونے کا احساس دیتی ہے اور اس فرقے کو ردِ عمل پر اُکساتی ہے۔ اگر ہم حالتِ جنگ میں ہیں تو کیا یہ بحث ہمیں زیب دیتی ہے۔ کیا ہم کسی خود کش حملہ آور سے پہلے پوچھیں گے کہ اس کا مقصد فرقہ وارانہ تھا یا سیاسی اور اس کے بعد اس کے محرکین اور منصوبہ سازوں کے بارے میں فیصلہ کریں گے کہ ان پر کون سی فردِ جرم عائد کی جائے۔ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف حالت جنگ میں ہیں دوسری طرف ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ یہ بم دھماکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ دہشت گردوں نے افغانستان میں کمین گاہیں بنالی ہیں۔ اسلحہ کے گوداموں کی برآمدگی یہ بتاتی ہے کہ ابھی دہشت گردوں کے سرپرستوں اور سہولت کاروں اور مالی معاونوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکا ہے۔ دہشت گردی سرمائے کے بغیر نہیں ہوتی ۔ یہ سرمایہ وہ آخر کالی دولت ہی سے وصول کرتے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ طویل سرحد سے وہ لوگ بلاروک ٹوک آتے جاتے ہیں۔ یہ سرحد بند کر دی گئی تو شور مچ گیا کہ تاجروں کا نقصان ہورہا ہے۔ تقریباً اسی روز کے بعد یہ سرحد امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز اور افغانستان کے مشیر قومی سلامتی حنیف اتمار کے درمیان لندن میں مارک لائل گرانٹ کی میزبانی میں مذاکرات کے بعد کھول دی گئی۔ ان مذاکرات میں کیا طے پایا ۔ حنیف اتمار نے افغانستان میں کمین گاہوںمیں مقیم دہشت گردوں کی پاکستان مخالف کارروائیاں بند کروانے کے لیے کیا وعدے وعید کیے۔ پاک افغان سرحد کے انتظام میں کس حد تک شرکت کا وعدہ کیا؟ پاکستانی حکومت اور میڈیا اس بارے میں خاموش ہے۔ پاک افغان سرحد کو ' باقاعدہ بین الاقوامی سرحد بنانے سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اس سرحد پر باڑھ لگانے یا دیوار تعمیر کرنے کی ضرورت سے بھی کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ اس حوالے سے کیا پیش رفت ہو رہی ہے حکومت پاکستان اس سرحد بندی یا دیوار کی تعمیر کے لیے کتنے فنڈز فراہم کر رہی ہے یہ کسی کو معلوم نہیں۔ یہ البتہ بڑے طمطراق سے بتایا جاتا ہے کہ سڑکوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں اور ایئرکنڈیشنڈ بسیں چلائی جا رہی ہیں۔ اگر کوئی ایئرکنڈیشنڈبس کے کسی مسافر سے کہے کہ بم دھماکہ ہونے والا ہے تو کیا وہ مسافر ایئرکنڈیشنڈ درجہ حرارت کے مزے لیتا رہے گا یا اپنی جان بچائے گا۔ جان کی سلامتی پہلے یا ایئرکنڈیشنڈ کا درجہ حرارت زیادہ عزیز ہو گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردی روکنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑھ یا دیوار کی تعمیر کا کام جنگی بنیادوں پر کیا جائے۔ لیکن ترقیاتی کاموں کی دھوم ہے اور تحفظ و سلامتی کی طرف دھیان کم ہے۔

متعلقہ خبریں