ڈیورنڈ لائن سے مسئلہ کشمیر تک

ڈیورنڈ لائن سے مسئلہ کشمیر تک

ڈیورنڈ لائن اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کچھ گزارشات میں نے اپنے گزشتہ کالم میں کی تھیں۔ یہ معاملہ ایک اہم معاملہ ہے لیکن ہم اس کی اہمیت کو اس وقت سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔ معاملہ یہ نہیں کہ ڈیورنڈ لائن کی حیثیت کے حوالے سے ہمیں غور و خوض کی ضرورت ہے وہ تو ایک Closed and past transaction ہے۔ اس کے حوالے سے افغانستان کااصرار اسی ایک بات پر ختم کیا جاسکتا ہے کہ اگر افغانستان کا خیال یہ ہے کہ 1893ء میں جس وقت یہ سرحد قائم کی گئی اس وقت بھی یہ معاملہ زور زبردستی طے کروایاگیا۔کیونکہ امیر عبدالرحمن کی تعیناتی امریکی خواہشات کا نتیجہ تھی۔ اس دعویٰ میں جہاں تاریخی سچائی موجود ہے وہاں اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ امیر عبدالرحمن نے افغانستان کی شمالی اور جنوبی سرحدوں کے حوالے سے معاہدے کرنے کی خواہش کا اظہار خود کیا تھا کیونکہ امیر عبدالرحمن کو شمال میں روس سے اور جنوب میں برطانوی حکومت سے خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ شمال میں روس کے ساتھ سرحد کے معاملات کے حوالے سے معاہدے کرلینے کے بعد امیر عبدالرحمن نے خود بار بار خط بھیج کر برطانوی حکومت سے وہ کمیشن طلب کیا جس نے اس وقت کے بر صغیر اور افغانستان کی سرحدوں کی نشاندہی کی۔ ایک بار جب اس کمیشن کی تقرری کے دو سال بعد اس سرحد کی نشاندہی کا کام ختم ہوا تو اس حوالے سے امیر عبدالرحمن نے کابل کے سلام خانہ ہال میں لوگوں کو مدعو کیا۔ اس وقت وہاں امیر عبدالرحمن کے دو بڑے بیٹے ہی نہیں بلکہ کئی قبائل کے ملک اور سردار بھی موجود تھے۔ نہ صرف یہ بلکہ سول اور فوجی بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران نے بھی اس جلسے میں شرکت کی۔ امیر عبدالرحمن نے انہیں وہیں اس سرحدی نشاندہی کی تکمیل سے آگاہ کیا اور دیگر تفصیلات بھی بتائیں۔ اس وقت ان میں سے کسی نے اس حوالے سے کوئی اعتراض نہیں کیا۔یہ باتیں سلطان روم کے لکھے ہوئے ایک تفصیلی مضمون ''ڈیورنڈ لائن معاہدہ۔۔۔۔فوائد و نقصانات'' سے بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ یاد رہے کہ سلطان روم لکھاری اور تجزیہ نگار کا نام ہے۔ اس حوالے سے کوئی کسک تو ضرور باقی رہے گی کیونکہ امیر عبدالرحمن کے بعد 1905ء میں یہ معاملہ پھر بحث مباحثے کا شکار رہا۔ امیر حبیب اللہ اس حوالے سے برطانوی حکومت سے مسلسل گفت وشنید میں مصروف رہے۔ 1919ء میں امیر امان اللہ نے دوبارہ اس معاملے کو زندہ کیا لیکن تیسری افغان برطانوی جنگ کے نتیجے میں یہ معاملہ ہمیشہ کے لئے طے پاگیا۔ اس وقت کی نشاندہی میں دونوں ملکوں کے نمائندوں نے حصہ لیا۔ افغانی جنرل غلام نبی بھی اس نشاندہی میں موجود رہے۔ اب ان کی دلی کیفیات کیا تھیں اس حوالے سے تو کیا بحث مباحثہ کیا جائے' اتنا ضرور ہے کہ نشاندہی میں دونوں حریفوں کے لوگ موجود رہے۔ اس حوالے سے مشتاق جدون لکھتے ہیں '' جہاں تک ڈیورنڈ لائن کی صحت اور واجبیت کا سوال ہے تو اس حوالے سے اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ شمالی اور جنوبی دونوں ہی سرحدوں کی نشاندہی برطانیہ کی زیر نگرانی ہوئی تھی۔ افغانستان کے شمال کی جانب روس بھی ٹکڑوں میں بٹ چکا۔ ترکستان اور ازبکستان بھی روس کے ورثان مفاد (Successor-in -interest)ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ پاکستان بھی برطانوی حکومت کا اسی طرح وارث مفاد ہوسکتا ہے۔ اگر افغانستان کو اپنی اس سرحد پر اعتراض نہیں تو وہ اپنی اس جانب کی سرحد پر اعتراض کا اخلاقی جواز بھی کھو دیتا ہے۔ یہ بات بھی دیکھنا اور سمجھنا ضروری ہے کہ افغانستان میں پاکستان مخالف جذبات عروج پر ہیں۔ وہ ہمارے احسانات کو فراموش کر چکے ہیں اور مسلسل بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ بھارت کی افغانستان میں دلچسپی کے جہاں اور پیمانے ہیں وہیں ایک بہت اہم پیمانہ یہ بھی ہے کہ اس وقت بھارت کی اپنی معیشت کا حجم قریباً1.8ٹریلین ڈالر ہے اور افغانستان میں اس کی دلچسپی کے فائدے کا حجم ایک سے تین ٹریلین ڈالر کے درمیان خیال کیا جا رہا ہے۔ بھارت افغانستان کی سوچ پر بھی قابض ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد سے بھارت افغانی طالب علموں کو سکالر شپ اور دیگر قسم کی امداد دے رہا ہے۔ بھارت کے مقاصد بالکل واضح ہیں اگر ان کے حوالے سے ہمیں کسی قسم کا شک محسوس ہوتا ہو تو شاید ہمیں خود اپنی معلومات کو دوبارہ چیک کرلینا چاہئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ہمیں بھارت کی خواہشات اور جذبات کا علم ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ افغانستان کی آنکھوں پر اس سرمایہ کاری کی پٹی بندھی ہے جو بھارت نے افغانستان میں کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود ہم اس خطرے کو پورے طور نہ محسوس کر رہے ہیں اور نہ ہی اس کا کسی قسم کا سدباب کر رہے ہیں۔ میں سمجھ نہیں سکتی کہ آخر ہماری کیا مجبوریاں ہیں۔ ہم یہ سب کیوں دیکھ نہیں پا رہے ہم کسی حادثے جھنجھوڑے جانے کاانتظار کیوں کر رہے ہیں؟ ہم کبھی بھی وقت سے پہلے احتیاطی تدابیر کیوں نہیں کرسکتے۔ اس صورتحال کی تاریخی کیفیت کو سمجھتے ہوئے ایک سوال میرے ذہن میں بار بار پیدا ہوتا ہے کیا ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ کشمیر کی طرح کسی خون بہاتے زخم رسیدہ مسئلے میں تبدیل ہوسکتا ہے جبکہ ہم بھارت کے کردار سے دونوں ہی معاملات میں بخوبی واقف ہیں۔

متعلقہ خبریں