ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے

بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے
غالب صاحب کیا کہہ گئے ،نابغہ تو تھے ہی جانتے ہوں گے کہ آنے وا لے وقتوں میں اُجڑی دلی والوں سے بھی زیادہ اجڑے ہوئے لوگ آئیں گے، ماتم کناں ہوں گے تومیرے شعرو ں سے استفادہ کرلیں گے کیونکہ اب کے زباں بندی کی ایسی ریت چلی ہے کہ کوئی گفتنی و ناگفتنی کا کوئی فرق نہیں رہا ۔بات دکھ کی تو ہے کوئی نہ مانے تو ہم منوائیںکیسے ؟گزشتہ کالموں میں بارہا عرض گزار رہا ہوں کہ ہم من حیث القوم تماش بین ہیں اور تماش بینی کا چسکا ایسا منہ کو لگا ہے کہ اللہ کی پناہ ۔گھر سیلاب میں ڈوب رہا ہو،بجائے کچھ حیل و حجت کے ہم اس گھر کوغرقاب ہونے کی سیلفیاں لے لیتے ہیں کہ کبھی یاد آئے تو اسی سیلفی کے سہارے دو قطرے آنسو تو بہالیں گے ۔ جیسے کوئی بہ امر مجبوری اپنی پیاری گاڑی بیچ کر رسید لکھوالے کہ بوقت ضرورت کام آجاوے گی ۔ یہی رسید کی پرچی یادگار تو رہے گی کہ کبھی ہم صاحب'' کار'' تھے ۔تماشہ کسی اور کا ہو تو بقول ارسطو ناظرکاکیتھارسس ہوجاتا ہے لیکن ہمارا معاملہ شاید ارسطو بھی حل نہ کرپائیں کہ ہم خود اپنے تماشے کی ٹریجیڈی پر اپنا کیتھارسس کرلیتے ہیں ۔
بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ میں بھی ہم آزردہ نہ ہوئے اور واپڈا والو ں پر لطیفے ایک دوسرے کوایس ایم ایس کرکے دل کا بوجھ ہلکا کرلیتے ہیں ۔ شدید سردیوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کے روز شب متبادل ایندھنوں سے خود کو گرما کرزندگی کی گاڑی ہنسی خوشی کھینچ ہی لیتے ہیں ۔بتیس پیسے پٹرول سستا کرنے کی عظیم الشان خیرات دینے پر ٹی وی سے باہر چہرے قوم کو مبارکباد دینے آجاتے ہیں مگر مسلسل تیسری بار اسی پٹرول کو مہنگا کرنے پر کسی کا کوئی تبصرہ تک نہیں آتا اور ہم حکومت کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے خاموش احتجاج کا دروازہ بھی بندکرکے اپنی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی ٹینکیاں بھروالیتے ہیں اور نہیں سوچتے اس اضافے سے اربوں کھربوں کس کے کھاتے میں جائیں گے ۔ہم تو بس اس پر بھی خوش ہیں کہ ہمارا ایک دن اچھا گزر گیا۔ ہم یا ہماراکوئی پیارا کسی بم دھماکے میں اڑا نہیں یا کسی انجانی گولی کا شکا ر نہیں ہوا۔کیونکہ ہم نے خود کو بے بس تصور کرلیا ہے ۔بے بسی ایک ایسی ذہنی غلامی ہے کہ جس میں انسان کی سوچ کے ساتھ ساتھ اعصاب بھی شل ہوجاتے ہیں اور جب ایسا ہوجائے توگھٹن کی ان ساعتوں میںکسی روزن سے آنے والی آکسیجن بھی غنیمت تصور کی جاتی ہے ۔سو ہم نے سدھرنا تو ہے نہیں کیونکہ ہم سدھرنا چاہتے جو نہیں ۔ انہی لٹیروں کو پھر ہم اپنے ہی ووٹوں سے دوبارہ منتخب کرواکے اپنے حاکم بنالیں گے اور اگلے پانچ برسوں کے لیے اپنے جملہ حقوق انہی کے پاس محفوظ کروالیں گے۔ہمارے ایک دوست کو اس کی بے وفائی پراس کی محبوبہ نے چھوڑتے وقت کہا تھا کہ ''تم نے میرے جذبات کے ساتھ فٹ بال کھیلا ہے ''ہمیں اس خاتون کے جذبات کی تو خبر نہ ہوئی لیکن اپنی قوم کو دیکھتا ہوں توان محترمہ کا یہ جملہ حسب حال لگتا ہے ۔ ڈاکٹر عاصم ، ماڈل ایان علی ، شرجیل میمن وغیرہ وغیرہ کے تذکرے اور ان کی کرامات کی کہانیاں مہینوں تک گوش گزار کرتے رہے لیکن پہاڑ کی کھدائی پر جب چوہا نکلاتو سوچا کہ یا تو ان لوگوں کے ساتھ بے انصافی ہوئی کہ انہیں اتنا بدنام کیا گیا یاپھر سسٹم جھوٹا ہے یا وہ لوگ ؟ جواب قطعی کوئی بھی نہیں اس صورتحال کا ۔مگر مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ آخر قوم کو یہ سارا ڈرامہ دکھایا کیوں گیا ۔
جب چوہا ہی نکلنا تھا تو پہاڑ کھودنے کے جوکھم میں قوم کو کیوں شامل کیا گیا خود ہی چور سپاہی کے اس کا کھیل کا ایڈونچر کرلیتے ،جب سونے کے تاج ہی پہنانے تھے تو طوق کیوں چڑھائے گئے ۔کم از کم قوم کے جذبات سے فٹ بال تو نہ کھیلا جاتا ۔کیا واقعی ہم اتنے ہی بے وقوف ہیں کہ جتنا ہمیں سمجھا جارہا ہے ؟ ضرور ہوں گے جو یہ تماشے کھیلے جارہے ہیں ۔ ہماری بدقسمتی یہی ہے کہ ہم نے قوم بن کر سوچا ہی نہیں۔ زبان ، رنگ ، نسل اور سیاسی نعروں کی زندگی جینے والے پاکستانی بن بھی کیسے سکتے ہیں۔ میرے لیے تو میری ذات ہی سب کچھ ہے اور مجھے میری ذات کے آگے کچھ دکھائی بھی نہیں دیتا ۔ میں ایک فرد کی حیثیت سے صرف اپنی املاک کا ضامن ہوں باقی کسی چیز کو میں کبھی ownنہیں کرتا ۔ میری ذات میرے گھر کی چاردیواری تک محدود ہے ۔ میرے گھر کے باہر گلی کو میں اپنا نہیں سمجھتا ۔ایسی خود غرضی کی سوچ جب ہم سب کی ہوگی تو لٹیرے اربوں کھربوںلوٹ جائیں گے ، پکڑے جائیں گے ۔لیکن مدعیت ہی خاموش ہوگی تو سسٹم بیچارا کیا کرے چور چھوٹ ہی جائیں گے اور سروں پر سونے کے تاج سجاکر پھر مغل اعظم کے تخت پر جلوہ افروز ہوجائیں گے ۔ مسئلہ یہاں اس ڈھنڈورے کا ہے جو کئی برسوں سے پیٹاجارہا ہے کہ کرپشن کوختم کریں گے سو اس انجام پہ رویا ہی جاسکتا ہے ۔ اگر وہ کرپٹ نہ تھے تو ان اداروں کو احتساب کے لیے لایا جائے ۔مصیبت یہ بھی ہے کہ کتنے ہوں گے کہ سوچتے ہوں گے کہ کیوں نہ تھوڑی سی کرپشن کرہی لی جائے جب آخر میں ضمانت ہوہی جانی ہے اور بیرون ملک ٹھکانے مل ہی جائیں گے تو دل کتنوں کے نہ چاہیں گے کرپشن کے اس ایڈونچر کو کرہی لیا جائے ۔خداجانے تماشے دکھانے والے کب تک یہ تماشے دکھائیں گے اور ہم کب تک ان کے تماش بین بنے رہیں گے ۔

متعلقہ خبریں