اک ذراپاسپورٹ آفس تک

اک ذراپاسپورٹ آفس تک

کیا یہ حیرت اور تعجب کا مقام نہیں ہے کہ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے پاکستان بھر میں پاسپورٹ دفاتر کے بارے میں منفی تاثر پھیلا ہوا تھا اور جب خاص طور پر کوئی ان پڑھ' سادہ فرد یا افراد پاسپورٹ کے حصول کے لئے ان دفاتر میں جانے کی غلطی کرتے تو پاسپورٹ آفس کے باہر فارم بھرنے' بنک چالان بھرنے والوں کے بھیس میں لا تعداد ٹائوٹس ان کو شیشے میں اتارنے کے لئے موجود ہوتے اور مٹھی گرم کرنے کے عوض ایسے افراد کو پاسپورٹ کے حصول میں حائل دشواریوں کو دور کرنے میں مدد گار ہوتے جبکہ پڑھے لکھے لوگ جو ان ''کمیشن ایجنٹوں'' سے کوئی تعرض نہ رکھتے ہوئے خود ہی سارے مراحل طے کرنے کی کوشش کرتے تو انہیں بہت سے مشکل مراحل کا سامنا کرتے ہوئے کئی عذاب برداشت کرنا پڑتے۔ لیکن گزشتہ روز جب میں اپنی اہلیہ' برخوردار اور بہو کے ساتھ پاسپورٹ کی تجدید کرانے گیا تو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے اس دعوے کی تصدیق ہوتی دکھائی دی کہ پاسپورٹ دفاتر کے اندر بدعنوان عملے کو اب کسی طور برداشت نہیں کیا جائے گا اور یہ کہ اب عوام کو اس ضمن میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہوگی ۔ اور واقعی چوہدری نثار کی بات سو فیصد سچ لگی کیونکہ وہ جو پاسپورٹ آفس کے باہر ''ٹائوٹوں'' کی بھر مار ہوتی تھی نہ صرف ان میں نمایاں کمی واقع ہوچکی تھی بلکہ اب ان کی حیثیت بھی تبدیل ہوچکی تھی کیونکہ اب جو اکا دکا ایسے لوگ تھے بھی تو وہ صرف بنک چالان بھرتے ہوئے سائلوں سے مناسب معاوضہ وصول کرتے نظر آئے اور جب پاسپورٹ آفس کے اندر داخل ہوئے تو ''باری'' کا صاف ستھرا نظام نظر آیا یعنی ہر شخص اپنے نمبر کے لئے لگی ہوئی قطار میں بنچوں پر جا کر بیٹھ جاتا تھا۔ البتہ دوسری جانب جہاں خواتین کی لائن لگی ہوئی تھی وہاں ان کے بنچوں کا انتظام نہیں تھا اس لئے اگر خواتین کا احترام کرتے ہوئے ان کے لئے بھی بیٹھنے کا کوئی معقول بندوبست کر لیا جائے تو سونے پر سہاگہ والی بات ہوجائے گی۔
مرکزی ہال میں جانے کے لئے بعض افراد نے اپنی باری کا انتظار نہ کرتے ہوئے چالاکی کا مظاہرہ کیا اور بغیر نمبر کے اندر جانے لگے تو نہ صرف گیٹ پر تعینات افراد نے انہیں روکا بلکہ اپنی باری کا انتظار کرنے والوں نے بھی اس پر احتجاج کیا۔ ہمارے ساتھ ایک واقف حال نے گیٹ پر تعینات عملے کے ساتھ گفت و شنید کرتے ہوئے بتایا بھی کہ میں مشرق اخبار کے ساتھ وابستہ ہوں مگر اس نے نہایت احترام سے معذرت کرتے ہوئے ہمیں بھی اپنی باری کا انتظار کرنے کو کہا اور سچی بات تو یہ ہے کہ سارا ماحول قاعدے اور قرینے کے تابع دیکھ کر خود مجھے بھی بغیر نمبر کے اندر جانا اچھا نہیں لگا بلکہ اس انتظام کو دیکھ کر دل خوش ہوا اور بخوشی اپنی باری کے لئے لائن میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ شاید زندگی میں پہلی بار اس جائز انتظار کے لمحات سے میں نے بھرپور لطف اٹھایا اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔
کوئی ابہام نہیں ہے کوئی الجھائو نہیں
بس ذرا آنکھ سے پردے کو ہٹا کر دیکھو
تقریباً سات برس پہلے جب اسی طرح پاسپورٹ کی تجدید کے لئے ہم گئے تھے تو مرکزی ہال میں اس قدر جم غفیر ہوتا تھا اور متعلقہ کائونٹرز پر رش کی ایسی صورتحال ہوتی تھی جیسے کسی نئی فلم کے ٹکٹ خریدنے کے لئے کھڑکی توڑ رش کی وجہ سے لوگوں کو ٹکٹوں کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے ۔ اور یہی وجہ تھی کہ اس رش سے بچنے کے لئے لوگ ّآفس سے باہر '' کمیشن خوروں'' کے ہتھے چڑھ جانے کو خود ہی ترجیح دیتے تھے مگر گزشتہ روز جب مرکزی ہال میں داخل ہوئے تو قطار کو پابند کرنے کے لئے لوہے کے جنگلے نصب کئے گئے تھے جس سے ایک اور سلیقے کا اظہار ہو رہا تھا۔ اس دوران میں ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ آفس بارہا اپنے کمرے سے باہر نکل کر آئے اور تمام کاموں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ غیر متعلقہ افراد کو باہر نکالنے کی بھی ہدایات دیتے رہے ۔ جب میری اور میرے برخوردار منصور کی باری آئی تو اے ڈی ٹو کے کمرے میں آخری تصدیق کے لئے ہم پیش ہوئے۔ نہایت ہی خلوص اور احترام سے ہم سے مادری زبان اور رہائش کے علاقے کے بارے میں سوال کئے گئے۔ میں نے ازراہ تفنن کہا کہ گھر میں تو میں پشتو بولتا ہوں مگر لکھتا اردو میں ہوں۔ اس بات پر وہ چونکے' میرا نام دیکھا اور میر ی طرف دیکھ کر کہا' آپ کا کالم تو میں پڑھتا ہوں' پھر کہا آپ براہ راست اندر آکر ہم سے ملتے تو اتنا انتظار نہ کرنا پڑتا۔ میں نے جواب دیا' بس مناسب نہیں سمجھا کہ اصول و ضوابط توڑ کر مراعات حاصل کروں۔ ان سب حالات کے ساتھ ایک اہم بات کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے اور وہ ہے وہاں کے غسلخانے جن کی مناسب صفائی کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ گندا پانی غسلخانوں کے نکاسی آب کے سسٹم کی بندش کی چغلی کھاتا ہے۔ اس پر توجہ ضروری ہے جبکہ مین ہال کے دروازے پر تعینات افراد نے مجھ سے اپنے روئیے پر معذرت بھی کی مگر میں نے جواب دیا کہ انہوں نے بالکل درست کیا۔ یہی ان کا فرض تھا۔ ہاں البتہ اگلے روز ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے ایک ایس ایم ایس پیغام ملا کہ آپ کو دشواری ہوئی یا کسی نے پیسے مانگے۔ اس پر بڑی حیرت ہوئی کہ ہر شخص سے معلومات حاصل کرنے سے یقینا پاسپورٹ آفس کی حسن کارکردگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ گویا بقول سجاد بابر
کرن اترنے کی آہٹ سنائی دیتی ہے
میں کیا کروں مجھے خوشبو دکھائی دیتی ہے