نئے تعلیمی سال کا آغاز اور کمسن مزدور بچے

نئے تعلیمی سال کا آغاز اور کمسن مزدور بچے

ہمارے ہاں مارچ کے مڈ سے ہی نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو جاتاہے ،نئے تعلیمی سال کے شروع ہونے سے جہاں بچے نئی کلاس میں چلے جاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ بہت کچھ نیا ہوتا ہے ،اگلی کلاس کی بکس ،یونیفارم ،بیگز اور بچوں کی بہت سی دیگر ضروریات۔مذکورہ چیزوں کی خریداری میں بچوں کی خصوصی دلچسپی بھی نظر آتی ہے۔ اکثر بچے اس موقع پر والدین سے اصرار کر کے اپنی پسند کی چیزیں خریدنے پر زور دیتے ہیں جسے والدین اپنی استطاعت کے مطابق پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔لیکن کچھ بچے ایسے بھی ہیں جنہیں نئے تعلیمی سال کے آنے اور جانے سے کوئی خوشی نہیں ہوتی نہ ہی وہ بچے اپنے والدین سے نئی کتابوں اور یونیفارم کا تقاضا کرتے ہیں بلکہ ان بچوں کے ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے مزدوری کے آلات ہوتے ہیں ۔بچے جوکسی ملک کامستقبل،سرمایہ اوراثاثہ ہوتے ہیں ،جب حالات سے مجبور ہوکرہنسنے کھیلنے کے دنوں میں کام کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں تویقیناً اس معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پارہاہوتاہے۔ یہ المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زخم کی صورت اختیار کرتاہے اور پھرناسور بن کرسماج کاچہرہ داغ دار اوربدصورت کر دیتاہے۔ پاکستان میںبھی معاشی بدحالی، سہولیات سے محرومی، استحصال، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم نے جگہ جگہ اس المیے کوجنم دے رکھا ہے جو بڑھتے بڑھتے ناسور بنتاچلاجارہاہے۔ ساری دنیا ہی اس لعنت کا سامناکررہی ہے اوراس کے خاتمے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں لیکن پاکستان میں''چائلڈ لیبر''ایک سماجی ضرورت بن چکی ہے۔ امیر کے امیرتر اور غریب کے غریب تر ہونے پرقابو نہ پائے جانے کی وجہ سے اب لوگ اس کے سوا کوئی راہ نہیں پاتے کہ وہ بچوںکوابتدا سے ہی کام پرلگادیں تاکہ ان کے گھر کاچولہا جلتا رہے، ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں۔ سکول جانے کی عمر کے بچے دکانوں ، ہوٹلوں ، بس اڈوں، ورکشاپوں اوردیگر متعدد جگہوں پر ملازمت کرنے کے علاوہ مزدوری کرنے پر بھی مجبور ہیں۔ قوم کے مستقبل کا ایک بڑا حصہ اپنے بچپن سے محروم ہو رہا ہے۔ مملکت خداد اد کے قیام کو ستر سال گزر چکے مگر آج تک کسی بھی حکومت نے ٹھوس بنیادوں پر کوئی حکمت عملی مرتب نہیں کی جس سے چائلڈ لیبر کو روکا جا سکے۔اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کو منشور کاحصہ بنایا۔ معاشرے کے کسی اورطبقے کی طرف سے بھی اس جانب کوئی پیش رفت سامنے نہیںآئی۔ ایسالگتاہے کہ ہم نے بحیثیت مجموعی چائلڈ لیبر کو اپنے لیے ناگزیر مجبوری تسلیم کر لیا ہے۔ بالخصوص ارباب اختیار کواس ضمن میں کوئی پریشانی لاحق نہیں۔سماجی بہبود کے اعداد و شمار کے مطابق باقاعدہ شعبوں میں کام کرنے والے مزدور بچوں کی تعداد چالیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور اس میں سے بیس لاکھ مزدور بچے پنجاب میں ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی مزدوری سے متعلق جو قوانین ہیں ان میں بچے کی تعریف میں ایسے نوعمر لوگ ہیں جن کی عمر ابھی پوری چودہ سال نہیں ہوئی جبکہ عالمی کنونشنز میں یہ عمر پندرہ سال ہے۔ ملک میں پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے دو کروڑ بیس لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور یہ سب بچے کسی وقت بھی نو عمر مزدور بن سکتے ہیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں گاڑیوں کی ورکشاپوں ،فرنیچر کارخانوں اور ہوٹلوں میں مزدور بچوں کی ایک کثیر تعداد کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے بھٹہ خشت پر بھی بچوں سے نہ صرف مزدوری بلکہ جبری مشقت لی جا رہی ہے۔سیالکوٹ میں جراحی کے آلات بنانے کے کارخانوںمیں ہزاروں بچے مزدوری کرتے ہیں اور ملک ان بچوں کی محنت سے اربوں روپے کا زرمبادلہ کماتا ہے یہ بچے ریتی پر دھات کے گھسنے سے نکلنے والی دھاتی دھول کو بھی سانس کے ساتھ اندر لے کر جاتے ہیں جو ان کے کام کا بہت خطرناک پہلو ہے ۔
اسی طرح ڈینٹنگ پینٹنگ اور فرنیچر کی پالش کرنے والے بچوں کے پھیپھڑے بھی رنگ اور پالش میں موجود مختلف کیمیکلز سے متاثر ہوتے ہیں اور ٹی بی کا باعث بنتے ہیں۔کم عمر بچوں کا اپنے والدین سے دور مستریوں کی نگرانی میں کام کرنا بھی بذات خود کئی مشکلات کا باعث بنتا ہے کیونکہ ان ورکشاپوں کے مالکان کا ان بچوں سے کوئی براہ راست رشتہ نہیں ہوتا۔ بچوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک کام چمڑے کی صنعت کا ہے جہاں بڑی تعداد میں کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں۔ قالین بافی میں بچے دس سے بارہ گھنٹے پنجوں کے بل بیٹھ کر کام کرتے ہیں جس سے ان کی ہڈیاں مڑ جاتی ہیں۔ملک بھر میںبچے کوڑا اٹھانے کا کام بھی کرتے ہیں جس میں وہ ہسپتالوں کا کوڑا بھی اٹھاتے ہیں جس میں خطرناک بیماریوں میں استعمال ہونے والی پٹیاں، ٹیکے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔ملک میں بڑھتے ہوئے تعلیمی اخراجات اور دن بدن مہنگائی میں اضافے کے پیش نظر خدشہ ہے کہ مملکت خداداد میں بجائے چائلڈ لیبر کم ہونے کے مزید بڑھے گی۔ لہٰذاچائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے صرف حکومتی سطح پر ہی اقدامات کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ اس کے خاتمہ کیلئے معاشرہ کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناہوگااور غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر مزدوری کرنے والے بچوں کو مفت تعلیم،علاج معالجہ اور انہیں کفالت فراہم کرنے کے ذرائع مہیا کرنا ہوں گے۔تاکہ ہم اپنے بچوں کو باوقار شہری بنا سکیں۔

متعلقہ خبریں