ٹرمپ کی یقین دہانی

ٹرمپ کی یقین دہانی

نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف کو پاکستان کے تصفیہ طلب مسائل اور تنا زعات کے حل کی پیشکش میں کردار ادا کرنے کی یقین دہانی اور اسے اپنے لئے اعزاز قرار دینا خوشگوار حیرت کا باعث امر ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران جن خیالات کا اظہار کر تے آئے ہیں اور خاص طور پر مسلمانوں اور پاکستان کے حوالے سے وہ جو کچھ کہہ چکے تھے اس سے واضح طور پر تاثر راسخ ہوگیا تھا کہ ٹرمپ کی جیت مسلمانوں اور پاکستانیوں کے لئے خوشگوار نہ ہوگی۔ ان کی کامیابی کے بعد خود امریکہ میں ان کی مخالفت اور نفرت پر مبنی بعض واقعات تشویش کا باعث امر ضرور تھے لیکن جس طرح ٹرمپ نے الیکشن میں کامیابی کیلئے ڈرامائی انداز و اطوار اختیار کر کے سارے اندازوں کو غلط ثابت کردیا اسی طرح وزیر اعظم نواز شریف سے اس قدر کھل کر بات چیت مدد اور تعاون کی پیشکش خاصا متحرکن ہے لیکن محولہ حالات کے تناظر میں اور الیکشن کے دوران ان کے سامنے آنے والے خیالات کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی بڑی امید لگانا۔ حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا ۔ ریاست نیو جرسی میں ری پبلکن ہندو کولیشن کے زیرِ اہتمام منعقد کی جانے والی ایک ریلی میں پانچ ہزار کے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'ہم انڈیا کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور آپس میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کر کے اپنے عوام کو محفوظ رکھیں گے۔'انہوں نے مزید کہا 'میں اقتدار میں آنے کے بعد انڈیا کے ساتھ سفارتی اور فوجی تعلقات کو مزید تقویت دوں گا۔'ٹرمپ کو انڈین نژاد امریکیوں کے ووٹ حاصل کرنے میں اس قدر دلچسپی تھی کہ انہوں نے ایک اشتہار بھی جاری کیا، جس میں ہندی زبان میں 'اب کی بار، ٹرمپ سرکاردرج تھا۔یہی وجہ ہے کہ انڈیا کے مندروں میں ٹرمپ کی کامیابی کی دعائیں مانگی جاتی رہیں اور وہاں کی کٹر مذہبی تنظیموں کو امیدتھی کہ ٹرمپ اقتدار میں آنے کے بعد اسلامی شدت پسندی کو شکست دینے میں زیادہ اہم کردار ادا کریں گے۔ٹرمپ کے یہ خیالات انتخابی مہم کا حصہ ضرور ہوں گے لیکن قصر ابیض میں منتقلی سے قبل ان کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف کو گئی یقین دہانیاں بھی اپنے الفاظ کی کاٹ کو کم کرنے اور ان سے رجوع کرنے کا حربہ بھی تو ہو سکتا ہے ۔بہر حال حالات وواقعات جو بھی ہوں نومنتخب امریکی صدر نے واضح الفاظ میں پاکستان کو اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہمارے تصفیہ طلب اور حل طلب مسائل میں دلچسپی ضرور لیں گے ۔ اس موقع پر ہمیں امریکہ بھارت تعلقات کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا اور سفارتی دنیا میں کبھی ایسا ممکن نہیں کہ امریکہ جیسا ملک اپنا سار اوزن ہمارے پلڑے میں ڈال دے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ اگر سنجید گی کے ساتھ پاک بھارت تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرے اور مقبوضہ کشمیر سمیت چند دیگر راہم نوعیت کے معاملات میں پاک بھارت سنجید گی سے مذاکرات کرا کر کسی تصفیے تک پہنچنے اور ضامن کا کردار ادا کرنے کی حامی بھر لے تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آسکتی ہے جو خطے میں حالات کو ساز گار بنانے میں مدد گار ثابت ہوگا ۔سی پیک کی کامیابی کیلئے خطے میں ساز گار حالات اور امن و امان کی اہمیت سے صرف نظر ممکن نہیں اور پاکستان اقتصادی راہداری کو ہر قیمت پر کامیاب دیکھنے کا متمنی ہے۔ ایسے میں خطے میں صلح جوئی اور قیام امن کی ہر کوشش کا پہلے سے بڑھ کر خیر مقد م فطری امر ہوگا۔ جہاں تک دیگر معاملات کا تعلق ہے پاک امریکہ تعلقات میں بھی کئی ایسے اتار چڑھائو موجود ہیں جس میں بہتری لانے میں امریکی صدر کا کردار اہم ہوگا ۔ امر واقع یہ ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ازل سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے آئے ہیں اس وقت بھی یہ خاص طور پر اتار کا شکار ہیں۔اس بات کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال اپریل میں امریکہ پاکستان کو رعایتی نرخوں پر ایف16 طیاروں کی مد میں امداد دینے سے انکار کر چکاہے۔اس کے علاوہ امریکہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے پر بھی سیخ پا ہے جبکہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں''ڈومور'' کا دائمی مطالبہ بھی بیچ میں حائل ہوتا رہتا ہے۔ ان پرانی رنجشوں کے ساتھ ساتھ گزشتہ چند سالوں میں امریکہ کی جانب سے جنوبی ایشیائی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی بھی دیکھی گئی ہے۔چاہے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے یا پھر بھارتی منڈیوں تک رسائی کے لیے، جس بھی وجہ سے امریکہ نے اپنی پالیسی تبدیل کی ہو، یہ بات واضح ہے کہ امریکہ اور انڈیا کے روابط میں واضح بہتری آ رہی ہے۔پاکستان اسے امریکہ کا سٹر یٹجک شفٹ سمجھے یا بے وفائی، امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ایک سرد دور سے گزر رہے ہیں۔ان تمام امور میں کسی انقلابی تبدیلی کی توقع نہیں لیکن اگر حالات و تعلقات معمول پر آتے ہیں تو یہ بھی غنیمت ہوگی ۔ دیکھنا یہ ہے کہ نو منتخب امریکی صدر کی وزیر اعظم پاکستان کو کی گئی یقین دہانی محض گرمجوشی پر مبنی کا ل ثابت ہوتی ہے یا پھر انتخابی نعروں کی طرح کا کوئی نعرہ ۔

متعلقہ خبریں