صحت کارڈوں کی تقسیم کا نا منا سب طریقہ

صحت کارڈوں کی تقسیم کا نا منا سب طریقہ

صحت کارڈ کی تقسیم کے لئے یونین کونسلوں میں پی ٹی آئی کے نمائندوں کی نامز دگی کے بعد اس امر کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے کہ صحت کارڈ ز کی تقسیم حق اور حقدار کے اصول کے تحت ہوگی ۔ اگرچہ پست سطح تک اختیارات کی منتقلی ایک دل خوش کن نعرہ ضرورہے لیکن عملی طور پر اس کے نتائج منفی اور مایوس کن نکلتے ہیں ۔تحریک انصاف کی حکومت میرٹ کی سب سے بڑی داعی رہی ہے اس دعوے کاتقاضا تھا کہ صحت کارڈ کی تقسیم کو ہر قسم کی جماعتی وابستگی اور سیاست سے پاک رکھا جاتا جس کا تقاضا یہ تھا کہ یا تو اس عمل میں سر ے سے سیاسی کارکنوں اور بلدیاتی نمائندوں کو شامل ہی نہ کیا جاتا یا پھر ہر ویلج کونسل اور نیبر ہوڈ کونسل کے سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ عمائدین علاقہ اور آئمہ حضرات کی کمیٹی تشکیل دے کر اس کی سفارشات کے مطابق حقدار افراد میں صحت کارڈ ز کی تقسیم کی جاتی تاکہ کسی کے معترض ہونے کی نوبت نہ آتی۔ تحریک انصاف کے نمائندوں کے ذریعے صحت کارڈز کی تقسیم سے انصاف کی توقع کم ہی کی جا سکتی ہے اور اگر کہیں میرٹ کی بنیاد پر بھی تقسیم ہو تب بھی اس پر سیاسی قلعی ضرور چڑھی ہوگی۔ چونکہ یہ گائوں اور مقامی سطح پر ہونے والا کام ہوگا اس لئے اسے پوشیدہ رکھنا مشکل ہوگا جس کا ایک نقصان یہ ہوگا کہ محروم رہ جانے والے افراد اس نا انصافی پر حکومت سے خواہ مخواہ نالا ں ہوں گے جس کا تحریک انصاف کو سیا سی طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تحریک انصاف اگر انصاف کے مطابق صحت کارڈ وں کی تقسیم میں کامیاب نہیں ہوتی تو اس سے عوام کی مایوسی میں اضافہ ہوگا بنابریں کوشش اس امر کی ہونی چاہیئے کہ صحت کارڈ وں کی ایسی شفا فیت سے تقسیم یقینی بنائی جائے کہ کسی کو اعتراض کا موقع نہ ملے اور حق حقدار کو ملتا ہوا نظر آئے ۔
پی ٹی وی پشاور ، علاقائی زبانوں کابلیٹن شروع کیا جائے
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات میں صوبے کے لئے مختص دورانیہ بڑھانے کے مطا لبے کو منوانے کے لئے دبائو ڈالنے کا حربہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان ٹیلی ویژن قومی اور سرکاری ٹی وی ہے صوبے کے عوام ماہانہ بنیادوں پر بجلی بلوں کے ساتھ فی کس کم سے کم پینتیس روپے سے لیکر ستر روپے تک ٹی وی فیس ادا کرتے ہیں ۔ اس بنا ء پر بھی سرکاری ٹیلی ویژن کی نشریات کے دورانیہ میں صوبائی اور علاقائی زبانوں کی نمائندگی میں اضافہ کرنا ہمارا حق بنتا ہے ۔ جس طرح ریڈ یو پاکستان پشاور سے پشتو ، ہند کو ، چترالی اور گوجری زبانوں کا نیوز بلیٹن نشر ہوتا ہے پی ٹی وی پشاور مرکز کو بھی علاقائی زبانوں میں نیوز اور پروگرام پیش کرنے کا پابند بنایا جائے ۔ کم از کم پانچ سے دس منٹ دورانیہ کا علاقائی زبانوں کا نیوز بلیٹن با آسانی شروع کیا جا سکتا ہے جو زبانوں کی ترویج اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان زبانوں کے بولنے والوں کا حق ہے ۔ پی ٹی وی پشاور مرکز کے منتظمین کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ علاقائی زبانوں میں نیوز بلیٹن شروع کرنے کی تجویز ہیڈ کوارٹر کو ارسال کرے۔ صوبائی حکومت کو اس ضمن میں وفاقی حکومت اور وزارت اطلاعات ونشریات سے رابطہ کرنے میں تاخیر کا مظاہر ہ نہیں کرنا چاہیئے ۔علاقائی زبانوں کی ترقی وتر ویج کے لئے کام کرنے والی تنظیموں اور عوام کو بھی اس کے لئے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے ۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال یا ہائیڈ پارک
لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں نوجوان ڈاکٹروں کی جانب سے کھلے میدان میں سٹیج بنا کر کنونشن کا انعقاد اگر ناگزیر تھا تو اونچی آواز میں گانے لگا کرہلٹر بازی کا کوئی جواز نہ تھا ۔ اسے ڈاکٹروں کی سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ ہسپتالوں اور شفا خانوں میں آرام وسکون کے لئے کس قدر خاموشی اور بلند آواز وں سے گریز کی ضرورت ہے ۔ جہاں ہسپتال اور شفا خانے ہوں وہاں اس کے سامنے گزرنے والی سڑک پر ہارن بجانا قانونی طور پر ممنوع ہوتا ہے کجا کہ ہسپتال کے اندر پنڈال سجا کر ہنگامہ برپا کیا جائے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہسپتال انتظامیہ کے کمزور انتظام اور بے بسی کا مظاہرہ ہے جس کی وجہ سے بروقت اقدام نہ کیا جا سکا بعد میں تحقیقات اور کارروائی کا عندیہ لکیر پیٹنے کے مترادف ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ لیکن انتظامیہ کو صرف نظر کا مشورہ اس لئے نہیںدیا جاسکتا کہ اس طرح سے تو یہ روایت بن جائے گی ۔آئندہ اس طرح کے عمل کے اعادے کی روک تھا م کے لئے ذمہ دار عناصر کے خلاف انضباطی اور تا دیبی کارروائی کی جانی چاہیے اور آئندہ کے لئے اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد کے مواقع کو سختی سے ممنوع قرار دیا جائے ۔

متعلقہ خبریں