آرمی چیف کا عزم…اندرونی اور سرحدی سلامتی

آرمی چیف کا عزم…اندرونی اور سرحدی سلامتی

پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے اگلے ہی روز نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پشاور کور کے ہیڈ کوارٹر اور شمالی وزیرستان کا دورہ کیا ہے جو چند ماہ پہلے آپریشن ضرب عضب کے دوران گھمسان کی لڑائی کا مرکز تھا۔ انہوں نے فاٹا میں صورت حال کے بارے میں بریفنگ لی ہے اور اگلے مورچوں پر افسروں اور جوانوں سے ملاقات کی۔ ان کے پیش رو جنرل راحیل شریف بھی آپریشن کے دوران اگلے مورچوں پر افسروں اور جوانوں سے ملاقات کیا کرتے تھے۔ نئے آرمی چیف کے اگلے مورچوں پر افسروں اور جوانوں سے ملاقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگلے مورچوں سے قیادت پاک فوج کے افسروں کی روایت ہے۔ انہوں نے ان موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف میں جو کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں انہیں آگے بڑھایا جائے گا اور اس جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ اس آپریشن میں فوج کے افسروں اور جوانوں کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں ' خفیہ کار اداروں کے ارکان اور علاقے کے عوام نے شہادتوں کے نذرانے پیش کیے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے پہلا حکم یہ جاری کیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے باعث جو قبائل عارضی طور پر بے گھر ہوئے تھے ان کی اپنے گھروں کو باعزت واپسی کا کام بروقت مکمل کیا جائے اور ان سے ہر ممکن تعاون کیا جائے۔جنرل باجوہ کا سب سے پہلے فاٹا کا دورہ اس بات کا مظہر ہے کہ وہ فاٹاکے علاقے کی سرحد کو محفوظ بنانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا بھی ہے کہ کسی دہشت گرد کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شدید سردی کے موسم میں راستے دشوار اور نگرانی مشکل ہو جاتی ہے لیکن پاک فوج جس مستعدی اور مہارت سے علاقے کے امن کی حفاظت کر رہی ہے اس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ کوئی دہشت گرد واپس آنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ تاہم فوج کو آخر کسی وقت واپس جانا ہے اور علاقے کے لوگوں اور سرحدی محافظوں کو نگرانی کی ذمہ داریاں نبھانی ہیں جس کے لیے جنرل باجوہ نے عارضی طور پر بے گھر ہونے والوں کی واپسی کے لیے لیویز کے ونگز قائم کرنے کی واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔ جنرل قمر باجوہ نے کہا ہے کہ ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی ان کی اولین ترجیح ہے۔ پاک فوج کی مہارت' شجاعت اور لگن زمانے بھر میں مشہور ہے۔ دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے سو بار سوچے گا۔ بھارت لائن آف کنٹرول پر اور ورکنگ باؤنڈری پر جو اشتعال انگیز کارروائیاں کر رہا ہے ان کے مقاصد بادی النظر میں یہ ہیں کہ(١)۔ پاکستان کو کسی بڑی جوابی کارروائی پر اکسائے تاکہ بین الاقوامی کمیونٹی کے سامنے مظلومیت اور پاکستان کی جارحیت کا ڈھنڈورا پیٹ سکے۔ (٢)۔ کشمیریوں کی چار ماہ سے جاری جدوجہد اور ان پر بھارتی فوج کے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانا۔ (٣)۔اور بھارت کے بی جے پی سمیت پاکستان دشمن عناصر کو یہ باور کرانا کہ بھارت پاکستان کو سزا دے رہا ہے۔ لیکن بھارت تادیر یہ پالیسی جاری رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا اس کے لیے وزیر اعظم مودی نے ساری قوم کو بڑے نوٹ بدلوانے پر لگا دیا ہے تاکہ عوامی غیظ و غضب کا رخ پاکستان دشمنی کی بجائے اور طرف موڑا جا سکے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول کی صورت حال سے آگاہی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کمان سنبھالنے کے فوراً بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر حالات جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔ پاک بھارت کشیدگی دور کرنے کے لیے سفارتی سطح پر بھی کوشش ہو رہی ہے۔ اور بھارت کے عسکری ماہرین بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے خلاف بھرپور جنگ کامیاب نہیں ہو سکتی اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا اندازہ کہ حالات جلدی ٹھیک ہو جائیں گے جلد ہی صحیح ثابت ہو گا۔ آج کے زمانے میں جنگ میدان جنگ تک محدود نہیں رہی ۔ اس کے لیے خفیہ کاری کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جو پاکستان کے دشمن اس کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے باقی مراحل میں کومبنگ آپریشن (خصوصاً پنجاب اور بلوچستان میں) اور کراچی آپریشن کو تکمیل تک پہنچانا ہے۔ بلوچستان میں یہ آپریشن فراریوں کو واپس پرامن زندگی گزارنے کی ترغیب کے ساتھ جاری ہے۔ اس آپریشن کا جلد مکمل ہونا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ البتہ پنجاب میں کومبنگ آپریشن ابھی تک اس سطح پر جاری نہیں ہو سکا ہے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں (حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی تحریک طالبان کی تنظیم ) جماعت الاحرار کی بڑی تعداد میں کمین گاہوں ہیں ' دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خفیہ سیل بھی ہیں۔ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز بھی چند ماہ ہوئے انتباہ کے انداز میں اس طرف واضح اشارے کر چکے ہیں۔ کراچی آپریشن کے نتیجے میں اگرچہ بھتہ خوری' دہشت گردی' ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں کمی آ چکی ہے تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان وارداتوں کے کتنے کارندے گرفتار ہوئے اور کتنے فرار ہو کر فراموش ہوئے ۔ جو ملزم گرفتار ہوئے ان کے خلاف عدالتی کارروائی سست روی کا شکار ہے۔ جو بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا تھا اس کی تفتیش آگے نہیں بڑھ سکی اور مقدمہ داخل دفتر کر دیا گیا ہے۔دہشت گردی پیسے کا کھیل ہے۔ پیسہ میگا کرپشن سے آتا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دہشت گردی اور کرپشن کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ضروری ہے۔ یہ ایک صبر آزما اور مسلسل عمل ہے اور اس کی کامیابی کے لیے پراسیکیوشن اور عدالتی نظام کی بہتری بھی ضروری ہے۔ اس کے بغیر ملک کی اندرونی اور بیرون سلامتی کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ جنرل قمر باوجوہ نے کہا ہے کہ ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی ان کی اولین ترجیح رہے گی۔ امید ہے کہ اندرونی سلامتی کی راہ میں درپیش مسائل ان کے سامنے رہیں گے اور جلد مکمل کیے جائیںگے۔

متعلقہ خبریں