یہ ریڈیو پاکستان پشاور ہے

یہ ریڈیو پاکستان پشاور ہے

ہمارے گزشتہ کالم آواز سے آہنگ تک پر بے شمار دوستوں نے اپنی گرانقدر آراء سے نوازا۔ ہمیں خوشی ہوئی اس کالم کی فیڈ بیک سے قارئین کی پسند وناپسند کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور ہمیں اُس کی روشنی میں اپنی تحریروں کے لئے موضوع کے چنائو میں بھی سہولت رہتی ہے ۔ ہم نے اس کالم میں پشاور ریڈیو کے قیام کا سال 1936ء بتا یا تھا ۔ پشاور ریڈیو کے ایک سابقہ ڈائریکٹر ڈاکٹر نورالبصر نے ہماری غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے برقی پیغام میں کہا کہ یہ 1935ء کا سال تھا ۔ کچھ قارئین نے اس ضمن میں مزید معلومات فراہم کرنے کے لئے کہا ہے ، پروفیسرخاطر غزنوی جو درس و تدریس کے شعبے میں آنے سے پہلے ، پشاور ریڈیو سے بطور پیش کار وابستہ تھے اُن کا ایک نہایت ہی معلوماتی تحقیقی مضمون ''ریڈ یوپاکستان پشاور''مطبوعہ آہنگ جولائی 1994 ہمارے پاس محفوظ ہے ۔یہ تحریر ہمارے دوست مشتاق شباب نے ہمیں فراہم کی تھی ۔ جس میں پشاور ریڈیو کے بارے میں نہایت ہی بنیادی اور بیش قیمت معلومات موجود ہیں ۔ خاطر غزنوی کی تحریر کے کچھ اقتباسات بالیقین قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں گے ہم پیش کر رہے ہیں ۔ ہمیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ پشاور ریڈیو کا تعلق براہ راست ریڈیو کے موجد مارکونی سے بنتا ہے ۔ جس نے 5کلو واٹ کا ایک ٹرانسمیٹر بلا معاوضہ اس وقت کی حکومت سرحد کو تحفے میں دیا تھا ۔ اس تحفہ کا پس منظر کچھ یوں بیان کیا گیا ہے کہ بیسویں صدی کی تیسری دہائی کی بات ہے ۔ جب لندن میں برصغیر کی خود مختاری کے سلسلے میں حکومت برطانیہ نے گو ل میز کانفرنسوں کا آغاز کیا ۔ اُ ن میں برصغیر کے زعماء نے بھی شرکت کی اُن ہی میں سے پختونخوا کے بطل جلیل سر سید سرحد صاحبزادہ عبدالقیوم بھی شامل تھے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ریڈیو ایجاد ہو کر برطانیہ میں عام ہو چکا تھا۔ گول میز کانفرنس کے زمانے میں اُن کے اجلاسوں کی رودادیں خبروں کی صورت میں روزانہ نشر ہوتیں ۔ بر صغیر کے زعمایہ خبریں سنتے ۔ سرصاحبزادہ عبدالقیوم خان کے بارے میں یہ روایت سامنے آتی ہے کہ وہ ا س دور میں ریڈیو کے موجد مارکونی سے ملے اور اُنہیں اپنے خطے کی پسماندگی لیکن پہلی عالمی جنگ میں یہاں کے جیالوں کی بہادری کے قصے سنائے ۔مارکونی اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے اور پہلی جنگ عظیم میں اس علاقے سے تعلق رکھنے والے وکٹوریہ کراس ہولڈر ز کی داستانوں کا علم بھی رکھتے تھے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی اس ایجاد کو ہمیں دینے کی کوئی صورت نکا لیںگے۔ برصغیر میں پہلی مرتبہ ریڈیو نشریات کا آغاز انڈین براڈ کاسٹنگ کمپنی نے 1928ء میں کیا ۔ جسے حکومت نے 1930ئمیں اپنی تحویل میں لے لیا اس ضمن میں جو پہلا ترقیاتی قدم تھا اُس کے تحت یکم جنوری 1936ء کو دہلی میں 20کلو واٹ کا ٹرانسمیٹر نصب کیا گیا لیکن دہلی میں ٹرانسمیٹر نصب ہونے سے پہلے مارکونی نے صاحبزادہ عبد القیوم سے کیا ہوا وعدہ ایفا کر دیا اور 5کلو واٹ کا ٹرانسمیٹر عطیے کے طور پر پشاور بھجوا دیا ۔ 6مارچ 1935ء کو اُس وقت صوبہ سرحد کے گورنر سرالف گرفتھ نے اس ٹرانسمیٹر کا افتتاح کیا اورپشتومیں تقریر کی۔ ریڈیو کی نشریات کو مفید بنانے کے لئے 25سے 30اہم مرکزی حیثیت کے دیہات میں بڑے بڑے خوانین کے حجروں میں ریسیونگ سیٹ نصب کئے گئے۔ جہاں شام کو دھقانوں کا ہجوم ہوتا تھا ۔ پشتو اوراردو موسیقی کے ساتھ ساتھ اُن کے لئے زرعی موضوعات پر ماہرین کی تقریر یں نشر کی جاتیں ۔ اُس زمانے میں پختونخوا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان محمد اسلم خان خٹک کو پشاور ریڈیو کا سربراہ مقرر کیا گیا وہ ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشنز کے عہدے پر فائز تھے ۔ اور صوبائی محکمہ تعلیم کے نگران بھی تھے ۔ اُس دور میں پشاور ریڈیو سے ڈرامے بھی نشر ہونے لگے ۔ سب سے پہلے محمد اسلم خان خٹک کا مشہور ڈرامہ د وینو جام ( جام خونی ) قسطو ں میں نشر ہوتا رہا پھر امیر حمزہ خان شنواری محمد عمر سیماب ، خاطر غزنوی اور ریڈیو ہی کے ایک اکائونٹنٹ علائوالدین کے ڈرامے نشر ہوئے ۔ پشاور ریڈیوکی پہلی نشر گاہ موجودہ سیکر ٹریٹ کے مغربی دروازے کے اندر قائم ہوئی جو تین کمروں پر مشتمل تھی۔ دوسری عمارت ریس کورس کے بالمقابل کچہریوں کی مشرقی جانب 1942ء میں قائم ہوئی اور 16جولائی 1942ء کو اس کاافتتاح سید احمد شاہ پطرس بخاری نے کیا جو اس زمانے میں آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکڑ جنرل تھے ۔ اس موقع پر انہوں نے خطبہ پڑھا جس کے فوراً بعد گورنر سرحد جارج کنگھم نے پشتو زبان میں افتتاحی تقریر کی اور اس طرح پختونخوا میں نشریات کا ایک نیا دور شروع ہوا ۔ ایس ملک پشاور ریڈیو کے سربراہ مقرر ہو ئے۔ 13اور 14اگست کی درمیانی رات 12بجکر ایک سیکنڈ پر آفتاب احمد نے یہ ریڈ یو پاکستان پشاور ہے کے الفاظ سے سامعین کو قیام پاکستان کی نوید سنائی اور اس کے بعد احمد ندیم قاسمی کا تحریر کردہ پاکستان کا پہلا قومی نغمہ پاکستان بنانے والے پاکستان مبارک ہو براہ راست نشر ہوا ۔ اُس رات پشتو میں جو پہلا ترانہ نشر ہو اوہ پشتو کے لیجنڈ شاعر اجمل خٹک نے لکھا تھا ۔ پشاور ریڈیو کے عروج و زوال کے درمیان بے شمار کہانیاں ہیں جن پر کسی دوسری نشست میں بات ہوگی پشاور ریڈیو کو بر صغیر کی قدیم ترین نشرگاہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ 

متعلقہ خبریں