سی پیک اور غیر ضروری جوش و خروش

سی پیک اور غیر ضروری جوش و خروش

چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے حوالے سے پائے جانے والے بچگانہ جوش و خروش کو حقائق کی روشنی میں کم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ سی پیک ایک نہایت شاندار منصوبہ ہے لیکن لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس کے فوائد و ثمرات چند سالوںمیںسامنے نہیں آئیں گے۔ گزشتہ دنوں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ روس نے پاکستان سے سی پیک کا حصہ بننے کی درخواست کی ہے اور پاکستانی حکومت نے روس کو اس منصوبے میں شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ کیا یہ عجیب نہیں لگتا کہ روس گودار کی بندرگاہ استعمال کرنا چاہتا ہے ؟ معاشی فوائد کے لحاظ سے دیکھا جائے تو گوادر کے راستے تجارت طویل فاصلے کی وجہ سے روس کے لئے بالکل بھی سود مند نہیں ہے۔ مذکورہ خبر کے مطابق 'رشین انٹیلی جنس ایجنسی ' کے ایک سینئر آفیسر نے اپنے پاکستان کے دورے کے دوران 'عسکری اعلیٰ قیادت' سے 'خفیہ مذاکرات' کئے ہیں جس میں انہوں نے سی پیک منصوبے میں اپنے ملک کی دلچسپی ظاہر کی ہے ۔اگر ان خبروں کا بغور جائزہ لیا جائے تو بہت سی باتیں ایسی سامنے آتی ہیں جو کافی عجیب ہیں۔کسی بھی خبر کا کوئی قابلِ شناخت ذریعہ نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی غیر سرکاری بیان سامنے آیا ہے ۔اس کے علاوہ خبر کے متن میں بھی کافی ابہام پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر 'سی پیک میں شمولیت' کا کیا مطلب ہے ؟ کیا اس کا مطلب بندرگاہ اور سڑکوں تک رسائی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو کسی ملک کا انٹیلی جنس آفیسر ایسی کسی درخواست کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ کیا اس کا مطلب روسی بحری جہازوں کی ری فیولنگ اور سپلائی کے لئے گوادر پورٹ کا استعمال ہے؟ کیا بحری جہاز سویلین ہوں گے یا ملٹری ؟ اگر واقعی ایسا ہے تو انفراسٹرکچر کی دستیابی کی وجہ سے گودار کی بجائے کراچی کی بندرگاہ اس کام کے لئے زیادہ موزوں ہے ۔دوسری طرف اگرپروٹوکول کی بات کی جائے تو اس قسم کے مذاکرات خفیہ نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی ملک کی فوج اور 'انٹیلی جنس ایجنسی' کے درمیان ہوتے ہیں۔ ایسے مذاکرات کے لئے روایتی چینل موجود ہیں۔ مذکورہ خبر کے سامنے آنے کے بعد سارے ٹی وی چینلز پر دھواں دھار تجزیوں اور تبصروں کا آغاز ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ ہمارے نام نہاد تجزیہ کاروں اور مبصرین کی پارٹی اپنے عروج پر پہنچتی ، روس کی وزارتِ خارجہ نے اپنے ٹویٹ میں ایسے کسی خفیہ مذاکرات کی نفی کرتے ہوئے روس کے سی پیک کا حصہ بننے کی پاکستانی میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کو غلط قرار دے دیا۔اس تردید کے آنے سے پہلے ہی مذکورہ خبر کو پر لگ چکے تھے جس کی وجہ سے یہ خبریں سامنے آنے لگیں کہ فرانس اور ترکمانستان کے ساتھ ساتھ برطانیہ بھی سی پیک کا حصہ بننے کے لئے بے تاب ہے جس کا اظہار بورس جانسن نے اپنے دورے کے دوران کیا ہے۔ یہاں پر ہم خود سے ایک سادہ سا سوال پوچھتے ہیں، سی پیک میں شمولیت کا اصل مطلب کیا ہے ؟ بندرگاہ کا استعمال ؟ بندرگاہ کی طرف جانے والی سڑکوں کا استعمال ؟ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے کئے جانے والے معاہدے ؟ گوادر پورٹ پر بحری جہازوں کی ری فیولنگ کے حقوق ؟ کسی بھی رپورٹ میں ایسی تفصیلات جاننے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی بس صرف ان ممالک کی فہرست پیش کی گئی جو سی پیک کا حصہ بننے کے لئے بے تاب ہیں۔ سی پیک ایک اچھا منصوبہ ہے جو پاکستان کے لئے کافی منافع بخش بھی ہے لیکن طویل فاصلے کی تجارت کے لئے یہ منصوبہ بالکل بھی موزوں نہیں۔سی پیک پاکستان کی معیشت کو پورے چین کی معیشت کی بجائے صرف ایک صوبے، ژنگ جیانگ، کی معیشت سے جوڑے گا کیونکہ چین کی معیشت کا ایک بڑا حصہ مشرقی چین میں ہے جہاں پر پہلے کئی سمندری بندرگاہیں موجود ہیں۔اس کے علاوہ گوادر کے ذریعے چین کو تیل کی ترسیل کے دعوے میں بھی کوئی صداقت نظر نہیں آتی کیونکہ ژنگ جیانگ صوبے میں پہلے ہی تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں اور گوادر کے ذریعے چین کو تیل کی فراہمی لاگت کے حساب سے چین کے لئے ایک نہایت مہنگا سودا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 16000 فٹ سے اونچے پہاڑی سلسلے کے ذریعے تیل کی ترسیل نہ صرف خطرناک ہے بلکہ لاگت میں اضافے کا باعث بھی ہے۔ سٹریٹجک منصوبے کے لحاظ سے سی پیک اہمیت کا حامل ضرور ہے لیکن اگر تجارت کی بات کی جائے تو کسی بھی منافع بخش اور بڑے پیمانے کی تجارت کے آغاز اور اس کے ثمرات کے حصول کے لئے ابھی کئی دہائیاں درکار ہیں۔ سی پیک منصوبے پر عمل درآمد ضرور کیا جائے لیکن اس سے غیر ضروری توقعات رکھنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق نے جب چین کو سی پیک منصوبے میں بلٹ ٹرین کی شمولیت کا کہا تو چین کے آفیشل ان پر ہنسنے لگ گئے۔سی پیک میںشمولیت کی خواہش کی خبریں سن کر ایسا ہی کچھ ماسکو ، لندن اور پیرس میں ہوا ہوگا۔ بطورِ قوم ہم اس وقت سی پیک کو ایک ایسے گاہک کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو اپنی جیب میں کریڈٹ کارڈ رکھ کر شاپنگ کے لئے بازار جاتا ہے۔ ہمیں ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے سی پیک جیسے بڑے منصوبے کو مربوط پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کے ذریعے کامیاب بنانا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ اگلے 25 سال میں اس منصوبے کے ذریعے ہمارے ملک میں کتنی ترقی ہوگی۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں