مشرقیات

مشرقیات

وہ اپنے چھوٹے سے کمرے میں ایک پرانی سی چارپائی کی ادوائن پر بیٹھ کر پاٹ میں رفع حاجت سے فارغ ہوا تو اس کے بیٹے نے آگے بڑھ کر وہ برتن اٹھا یا اسے گلی کے نلکے پر لے جا کر دھویا اور واپس کمرے میں لا کر رکھ دیا۔ کتنا سعادت مند نوجوان ہے ۔ آج کے دور میں کون بزرگوں کی خدمت کرتا ہے۔میاں جی ایسے موقعوں پر کب چپ رہتے ہیں۔ آپ کے والد صاحب بیمار ہیں؟ بڑھاپا سب سے بڑی بیماری ہے۔جوانی میں ان کی بڑی اچھی صحت ہو ا کرتی تھی لیکن انسان کمزور ہے اور پھر بڑھاپا !یہ تو وہ عمر ہے کہ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس عمر میں والدین کو اف تک نہ کہو۔ جس طرح بچپن میں انہوں نے ہمیں پیار سے پالا پوسا اب ہمارا یہ فرض ہے کہ ان کی خدمت کریں ان کے آرام کا خیال رکھیں۔ ان کو کسی بات پر نہ جھڑکیں۔ بڑھاپے میں انسان چڑ چڑا ہوجاتا ہے اس کی تند و تیز باتوں کو صبر و حوصلے سے برداشت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔میاں جی نے ہماری طرف دیکھا اور سر ہلا کر رہ گئے۔ یہ دونوں باپ بیٹا ایک چھوٹے سے کمرے میں رہائش پزیر ہیں۔ بیٹا چھوٹا تھا جب اس کی ماں فوت ہوگئی باپ نے دوسری شادی نہیں کی اور بیٹے کو ساری توجہ دینے لگا۔ باپ مزدور تھا دن بھر مزدوری کرتا اور رات کو دونوں باپ بیٹے روکھی سوکھی کھا کر سو جاتے۔بیٹا ایک موچی کی دکان پر شاگرد ہوگیا اور پشاوری چپلیاں بنانے کا ہنر سیکھنے لگا۔ اب بیٹا جوان ہے اور باپ بیمار۔ ایک چھوٹی سی گلی میں ایک کمرا کرائے پر لے رکھا ہے۔ باپ سارا دن چارپائی پر لیٹ کر کھانستا رہتا ہے اور بیٹا چپلیاں بناتا رہتا ہے۔ میاں جی نے چپلی کا ناپ دیا اور ہمیں چلنے کا اشارہ کیا۔خوش نصیب ہے یہ باپ جس کا اتنا فرمانبردار بیٹا ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ بڑھاپا کتنا بڑا امتحان ہے۔ اعضاء کمزور ہوجاتے ہیں انسان دو قدم چلے تو سانس پھول جاتا ہے۔ بلڈ پریشر ، شوگر اور دوسرے موذی امراض اس عمر میں انسان کو گھیر لیتے ہیں۔جوانی میں ہمیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ تھکاوٹ کسے کہتے ہیں۔ویسے ہمیں اس موچی نے بڑا متاثر کیا۔بوڑھے اور بیمار باپ کی خدمت کرنا یقینا بہت بڑی خوش نصیبی ہے۔ آج ہی کے دور میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جنہوں نے اپنے بوڑھے والدین کو لاوارث قرار دے کر کسی اولڈ ایج ہائوس میں رکھا ہوا ہے۔ایدھی صاحب کے سنٹر میں ایسی کئی بزرگ خواتین ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کے بچے ہیں لیکن وہ انہیںاپنے پاس نہیں رکھنا چاہتے۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ لوگ اپنے بزرگوں کے ساتھ اس قسم کا رویہ کیوں اختیا ر کرتے ہیں۔ جہاں اس کی اور بہت سی وجوہات ہیں وہاں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم قرآنی احکامات سے بے خبر ہیں اور اگر کبھی ہمارے کان تک کوئی آواز پہنچ بھی جاتی ہے تو ہم اس پر سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے۔جب قرآن پاک نے کہہ دیا کہ والدین کا احترام کرو ۔ انہیں بڑھاپے میں اف تک نہ کہو تو بات واضح ہو گئی جہاں تک اس پر عمل کرنے کا تعلق ہے تو یہ اسی وقت ہوگا جب ایمان مضبوط ہوگا دل میں یہ یقین راسخ ہوگا کہ ایک دن اللہ پاک کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور ہم سے ہمارے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ کچھ عرصہ ہوا ہمارے میڈیا میں ایک بحث چل رہی تھی کہ فحاشی کی کیا تعریف ہے۔ دانش ور حضرات کہتے ہیں کہ فحاشی کی تعریف کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔جتنے منہ اتنی باتیں ۔ سب اپنی اپنی رائے کا اظہار کر تے رہے ۔دور کی کوڑیاں لائی جارہی تھیں ایک سیدھی بات کو بلا وجہ الجھایا جاتا رہا۔دعوے تو مسلمانی کے ہیں لیکن دلائل کے لیے مغرب کی طرف دیکھا جاتا ہے۔ جب قرآن پاک نے یہ کہہ دیا کہ خواتین اپنی زینت کو چھپائیں۔اپنی اوڑھنی سے اپنی زینت کو ڈھانپ لیں۔توپھر بات واضح ہوگئی کیا ہمارے میڈیا پر آنے والی خواتین اپنی زینت کو چھپارہی ہیں؟ سمجھ میں نہ آنے والی تو بات ہی نہیں لیکن جب جان بوجھ کر سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی جائے تو پھر اس کا کیا علاج؟بات چلی تھی بڑھاپے سے۔بڑھاپے کے حوالے سے مغرب میں یہ جملہ بہت مشہور ہے کہ بڑھاپے کی پہچان یہ ہے کہ آپ کو سارے سوالات کے جوابات آجاتے ہیں لیکن ستم ظریفی کی حد یہ ہے کہ آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھتا۔ہمارے یہاں بھی بڑھاپے میں بزرگوں کو کچھ اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حالانکہ اولاد کے لیے بہتر ہوتا ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کے ساتھ مشورہ کرے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائے۔

متعلقہ خبریں