پٹرولیم قیمتوں کا فارمولا

پٹرولیم قیمتوں کا فارمولا

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں رد و بدل کا فیصلہ 15روز بعد ہوگا۔ قیمتیں برقرار رکھنے کی مد میں حکومت 4ارب روپے کا بوجھ برداشت کرے گی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایک دور وہ تھا جب ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر سال بجٹ کے موقع پر کیا جاتا تھا اور بجٹ میں قیمتوں کا تعین ہونے کے بعد یہ قیمتیں ایک سال تک برقرار رہتی تھیں تاہم اس دور میں پوری دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ٹھہرائو تھا اور عالمی سطح پر اس حوالے سے قیمتوں میں رد و بدل کے حوالے سے مارکیٹ میں اتار چڑھائو کی یہ صورتحال نہیں تھی مگر جب خلیجی ممالک نے بڑے ممالک کی لوٹ کھسوٹ اور ان کے پٹرولیم ذخائر کو سستے داموں خریدنے کی حکمت عملی کے خلاف یک جہتی کا مظاہرہ کیا تو اوپیک کے تحت قیمتوں کے تعین کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں عالمی سطح پر استحکام کبھی نہیں آیا۔ باوجود اس کے بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کے تحت اوپیک کو کنٹرول کرنے کی پالیسی اختیار کی جس کا توڑ عرب دنیا نے خام تیل کی پیداوار کو اپنے مفادات کے تحت کنٹرول کرنا شروع کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین پہلے ہر تین ماہ بعد اور پھر ہر مہینے کیاجانے لگا مگر اس ضمن میں بھی حکومت نے عالمی منڈی میں مسلسل کمی کے باوجود عوام کو ریلیف دینے سے احتراز کی پالیسی اختیار کئے رکھی اور عوامی سطح کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے دبائو میں قیمتیں کم کرنے پر عمل ضرور کیا مگر یہ شرح اصل کمی سے کہیں کم رکھ کر پھربھی بوجھ عوام پر ہی ڈالا جاتا رہا۔ اب جبکہ چند روز پہلے سی این جی کی قیمتوں کے تعین کا اختیار سٹیشن مالکان کی صوابدید پر چھوڑ دیاگیا ہے جنہوں نے عوامی خدشات کے عین مطابق ایکا کرکے قیمتیں زیادہ کردی ہیں اور اب عوام اسے ایک بار پھر حکومتی کنٹرول میں لینے کے مطالبات کر رہے ہیں تو خدشہ ہے کہ کہیں ایک ماہ بعد پٹرولیم قیمتوں کے تعین کو پندرہ روز پر لانے کے بعد کہیں یہ فیصلہ نہ کردے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی پٹرول پمپ مالکان کریں گے جس کے بعد عوام کی زندگی اجیرن ہونے میں کوئی کسر نہیں رہے گی۔
پشاور کی عظمت رفتہ کی بحالی
خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ نے کہا ہے کہ پشاور کی تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دی ہے اور پشاور بیوٹی فیکیشن پراجیکٹ کے لئے 20ارب روپے مختص کئے ہیں جس میں زیادہ تر سکیمیں مکمل ہو چکی ہیں۔ جہاں تک پشاور کی تعمیر و ترقی کا تعلق ہے اس حوالے سے صرف موجودہ صوبائی حکومت ہی نہیں ماضی میں حکومت کرنے والی دیگر جماعتوں نے بھی بلند بانگ دعوے کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی مگر ان کے ادوار گزرنے کے بعد تبدیلی اور تعمیر و ترقی کے یہ دعوے خال خال ہی دکھائی دیتے رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اس شہر کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ آج تک صوبے میں کبھی پشاور سے تعلق رکھنے والا وزیر اعلیٰ تعینات نہیںہوا اور ماضی میں جس ضلع سے وزیر اعلیٰ صوبے کے تخت پر براجمان ہوا اس نے فنڈزکا پائپ لائن عمومی طور پر اپنے ہی ضلع کی جانب موڑے رکھا۔ موجودہ حالات بھی زیادہ تر ایسی ہی صورتحال کی نشاندہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ حیرت زاء امر یہ ہے کہ شہر میں تعمیر شدہ تین فلائی اوورز یعنی ارباب سکندر فلائی اوور ' ملک سعد فلائی اوور اور مفتی محمود فلائی اوور کی دیواروں کے ساتھ بیوٹی فیکیشن کے نام پر شاید کروڑوں روپے خرچ کرکے جو گملے لٹکائے گئے ہیں ان میں اصلی پھولوں کی جگہ مصنوعی پھول لگائے گئے ہیں جن سے نہ تو شہر خوبصورت ہوتا ہے نہ ہی وہ فضائی آلودگی میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ ان پر ٹریفک گزرنے کی وجہ سے جوگرد جم جاتی ہے اس سے فضا گرد آلود ہی ہوتی ہے ۔ اب جبکہ یہ عندیہ دیاگیا ہے کہ جی ٹی روڈ پر پودے لگا کر گرین بیلٹس بنائی جارہی ہیں تو امید کی جانی چاہئے کہ جب یہ پودے نمو پائیں گے تو ان سے واقعی نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ تازہ ہوا کا باعث بھی بنیںگے۔ جہاں تک صفائی مہم کا تعلق ہے ایک تو مسلمان ہونے کے ناتے ہمارے مذہب نے ہمیں سکھایا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے اور ہم میں سے اگر ہر شخص اپنے اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھے تو اجتماعی طور پر معاشرہ مثالی صفائی کا مکمل نمونہ بن کر سامنے آسکتا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ پلاسٹک شاپنگ بیگز کاہے جس پر پابندی لگانی بہت ضروری ہے اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے صفائی مہم کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرکے عوام میں حقیقی شعور بیدار کرنے کی بھی اشدضرورت ہے تاکہ نہ صرف پشاور بلکہ پورے صوبے کو صاف ستھرا رکھنے میں عوامی سطح پر مدد سے اس مقصد کی تکمیل کی جاسکے۔

متعلقہ خبریں