میثاق جمہوریت ایک غیر متعلق دستاویز

میثاق جمہوریت ایک غیر متعلق دستاویز

وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے مظفر آباد میں آزادجموں وکشمیر کونسل کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب بھی میثاق جمہوریت پر قائم ہیں مگرمیں نہ مانوں کا کوئی علاج نہیں ۔یہ کہتے ہوئے ان کا اشارہ پیپلزپارٹی کی طرف تھاجو کچھ توفرینڈلی اپوزیشن کے طعنے سہتے ہوئے اور کچھ عام انتخابات کے قدموں کی چاپ سن کر حکومت کے خلاف سخت لائن لیتی ہوئی نظر آتی ہے ۔میاں محمد نوازشریف آزادکشمیر کی سرزمین پر میثاق جمہوریت کی بات کر رہے تھے تو وہ میثاق جمہوریت کے آزادکشمیر تک پہنچنے والے اثرات کی جانب بھی توجہ دلا رہے تھے جہاں قانون ساز اسمبلی کی ایک خاتون نشست اور قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب میثاق جمہوریت کے باعث ہی پیپلزپارٹی کے حصے میں آئے۔میثاق جمہوریت اسی اور نوے کی دہائیوں میں ملک کی دوبڑی جماعتوں کے درمیان سیاسی کشمکش اور رسہ کشی کے مضر اثرات سے حاصل ہونے والے سبق کا نام ہے۔ ضیا ء الحق کے بعد تشکیل پانے والے قومی منظر نامے میں ایک طرف پیپلزپارٹی طاقت کے کھیل کی سب سے بڑی کھلاڑی بن کر سامنے آتی چلی گئی وہیں پیپلزپارٹی مخالف جماعتیں اسلامی جمہوری اتحاد کی صورت میں ایک پرچم تلے جمع ہونے لگیں ۔اس تشکیل پاتے ہوئے منظر میں تیسرے فریق کی صورت میں مولانا شاہ احمد نورانی اورائیر مارشل اصغر خان کی تیزی سے کمزور ہوتی ہوئی سیاسی جماعتوں نے عوامی جمہوری اتحاد کے نام سے اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی جو بری طرح ناکام ہوگئی اور ملک میں اصل مقابلہ پیپلزپارٹی اور اینٹی پیپلزپارٹی فورسز میں ہی رہا ۔پہلے انتخابات میں مرکز پیپلزپارٹی کے حصے میں آیا اور پنجاب میں اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت قائم ہوئی ۔اس کے ساتھ ہی مرکز اور پنجاب کے درمیان مستقل آویزش بھی چلتی رہی۔اسلامی جمہوری اتحاد کے پہلے لیڈر غلام مصطفی جتوئی تھے مگر جلد ہی ملکی منظر پر پیپلزپارٹی مخالف شخصیت کے طور پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمدنوازشریف مرکز نگاہ بنتے چلے گئے یہاں تک وہ اینٹی پیپلزپارٹی سیاست کا محور بن کر رہ گئے۔اس کے بعد ملکی سیاست میں معمولی نشیب وفراز تو اُبھرتے رہے مگر ملک کی سیاست دو جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ اور بے نظیر بھٹو و میاں نوازشریف کے درمیان تقسیم ہوکر رہ گئی ۔اس منظر نامے کو بدل کر تیسری قوت کے طور پر اُبھرنے کی ہر کوشش ناکام ہو کررہ گئی ۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں طاقت کا کھیل یوں چلتا چلا گیا کہ دونوں کی حکومتیں دو بار اپنی آئینی مدت پوری کئے بغیر ہی غتر بود ہوتی رہیں۔اس دوران صدر کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار آئین کی دفعہ 58/2Bکی صورت میں موجود رہا۔ جونہی سیاسی کشمکش اُبھرتی صدر اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے کر اسمبلی برخواست کرنے میں لمحوں کی تاخیر نہ کرتا اس سے ملکی نظام میں فوج کو اپنی موجودگی کا احساس ہوتا اور وہ براہ راست مداخلت سے گریز کرتے رہے ۔اس دفعہ کے خاتمے کے بعد فوج کو یوں لگا کہ وہ ملک کے سیاسی نظام سے مکمل طور پر بے دخل ہو گئی ہے ۔سیاسی جماعتوں نے تابع مہمل صدر لانے کا تجربہ کر کے فوج کو ایوان صدر کے اہم مورچے سے محروم کر دیا اور یوں فوج نے براہ راست مداخلت کا راستہ اختیار کیا ۔یہاں تک نوے کی دہائی کا آخر آن پہنچا اور میاں نوازشریف اور فوج کے درمیان کرگل اور اعلان لاہور جیسی کشمکش شروع ہوئی جو براہ راست فوجی مداخلت پر منتج ہوئی ۔میاں نوازشریف پہلے جیل اور پھر جدہ چلے گئے ۔بے نظیر بھٹو بھی جلاوطن کر دی گئیں ۔جلاوطنی کے مشترکہ رشتے اور احساس نے دونوں لیڈروں کو اشتراک وتعاون بارے سوچنے پر مجبور کیا ۔اس سوچ کے ساتھ ساتھ میثاق جمہوریت کو امریکہ اور برطانیہ کی حمایت اور تائید بھی حاصل تھی جو پاکستان کی سول ملٹری کشمکش میں اب سولینز کا ساتھ دینے کا اصول اپنا رہی تھیں۔ملک کے دوطاقتور اور جلاوطن سیاسی لیڈر دریائے ٹیمز کے کنارے مل بیٹھے اور میثاق جمہوریت کے مسودے پر دستخط ہوگئے۔اس معاہدے کا مرکزی خیال یہ تھا کہ اب کوئی بھی فریق ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش کرے گا اور نہ اس کام کے لئے فوج کی مدد یا آلہ ٔ کار بنے گا ۔جب بھی کسی ایک حکومت کو خطرہ ہوگا تو دوسرافریق ثانوی اختلافات کو بھلا کر اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔اس میثاق نے اس حد تک تو جمہوریت کو بچانے میں کچھ کردار ادا کیا اب پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے ایک دوسرے کی حکومتوں کے لئے اس قدر بحران پیدا نہیں کیا جس سے فوج کو براہ راست مداخلت کا موقع میسر آتا۔اس بدلتی ہوئی فضاء نے میثاق جمہوریت کو غیر متعلق بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔اس کا دوسراسبب ملک کی سیاسی حرکیات میں در آنے والی تبدیلی ہے ۔تحریک انصاف کی آمد نے دو جماعتی سیاست کی دیوار میں پہلا شگاف ڈال دیا ہے ۔ اس جماعت نے پنجاب میں پیپلزپارٹی کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے اور یہ نیا کھلاڑی میثاق جمہوریت کا حامی ہے نہ اس کا شریک اور فریق ۔پیپلزپارٹی کو اس حال تک پہنچانے میں میثاق جمہوریت کا حصہ کچھ اس طرح ہے کہ اس معاہدے کی بنا پر دونوں بڑی جماعتیں ''من وتو '' کی تمیز ختم کر بیٹھیں اور یوں منظر پر ایک تیسرے فریق کی راہ ہموار ہو تی چلی گئی ۔آمدہ انتخابات میں تحریک انصاف پنجاب اور خیبر پختون خواہ کی کامیابیوں کا دائرہ بڑھا کر دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو میثاق جمہوریت کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی حیثیت اس قدر گھٹ جائے گی کہ یہ ماضی کی ایک یاد اور کاغذ کا ایک پرزہ ہو کر رہ جائے گا۔ اب جبکہ یہ بات طے ہو چکی ہے کہ ملک میں فوج دوبارہ مداخلت نہیں کر ے گی مارشل لاء نہیں آئے گا تو اب یہ بات اہمیت اختیا ر کر گئی کہ سیاسی جماعتیں عوام کا معیار زندگی کس طرح بلند کرتی ہیں اور کس حد تک ڈلیور کر تی ہیں ۔بدلتے حالات اور آنے والے وقت میں جمہوریت تو رہے گی مگر میثاق جمہوریت کی فقط یاد ہی باقی رہے گی۔ 

متعلقہ خبریں