اس دور ناگوار میں جینا کمال ہے

اس دور ناگوار میں جینا کمال ہے

اپنے 22دسمبر 2016ء کے کالم میں رونا روتے ہوئے میں نے فنکاروں کی حالت زار کی جانب توجہ دلائی تھی ۔ اور خاص طور پر ان فنکاروں کا تذکرہ کیا تھا جن کو محکمہ ثقافت نے مالی امداد کے طور پر تیس ہزار روپے ماہوار دیکر ان کی تھوڑی بہت داد رسی کی تھی ۔مگر اس میں بھی آخری یعنی آٹھویں مہینے کی قسط کی ادائیگی تا حا ل نہیں ہو سکی ، جس کی وضاحت گزشتہ روز ڈائریکٹر کلچر نے یوں کی کہ یہ رقم ابھی تک جاری نہیں ہو سکی اور جیسے ہی محکمہ ثقافت کو یہ رقم مو صول ہوگی متعلقہ افراد تک پہنچا دی جائے گی جو یقینا ایک اچھی خبر ہے ، تاہم اس حوالے سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا صرف آٹھ مہینے تک کچھ افراد کو رقم دے کر ان کے مسائل کو حل کر لیا گیا ہے اور اب جبکہ یہ امدادی رقم بند ہوگئی ہے ان افراد میں خصوصا ً وہ لوگ جو حقیقتاً مالی امداد کے مستحق ہیں اور ان کی امداد مستقل طور پر جاری رکھی جانی چاہیئے ان کا اب کیا بنے گا ؟

اس کالم کی بناء در اصل گزشتہ کچھ دنوں سے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر صدارتی ایوارڈ یافتہ فنکار افتخار قیصر کی حالت زار کے حوالے سے سامنے آنے والی خبریں ہیں جن پر صوبائی حکومت نے تو کوئی توجہ نہیں دی البتہ گزشتہ روز وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے افتخار قیصر کو ٹیلیفون کر کے ا ن کی خیریت دریافت کی اور ان کے علاج معالجے کے لئے فی الفور اقدامات اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا فرض ہے اور حکومت کی اولین ترجیح ، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت افتخار قیصر کے بہترین علاج معالجے کے تمام اخراجات برداشت کرے گی ، اور بروز ہفتہ جب یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں افتخار قیصر کو علاج معالجے کے لئے اسلام آباد منتقل کیا جا چکا ہوگا ۔
اللہ کرے کہ افتخار قیصر جلد تندرست ہو کر ایک بار پھر اپنے فن سے عوام کو محظو کریں ۔ تاہم کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ ذمہ داری صوبائی حکومت اٹھاتی اور افتخار قیصر کو ادھر پشاور ہی میں سرکاری طور پر بہترین طبی سہو لہتیں فراہم کر کے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرتی ۔ مگر بد قسمتی سے صوبائی سطح پر اہل فن اور اہل قلم کے لئے مستقل بنیادوں پر ایسی کوئی سہولت موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر اس قسم کے مسائل کا سامنا کرنے کی صورت میں اہل کمال کو کسی مشکل سے دوچار نہ ہو نا پڑے ، اگر صوبائی حکومت محکمہ ثقافت ہی کے ذریعے ایک مستقل فنڈ کے قیام کی بنیاد رکھ دے جس کے لئے ہر سال رقوم کی فراہمی جاری رکھی جائے ، اس انڈومنٹ فنڈ سے اہل ہنر جن میں ادباء ، شعرا ء ، فنکار ، موسیقار ، پینٹر آرٹسٹ وغیرہ وغیرہ شامل ہوں اور ان کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے تاکہ کسی بھی بیماری کی صورت میں ان کے لئے فور ی ضروری فنڈز اور ازاں بعد دوائوں کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے ، تو یقینا ان لوگوں کو بار بار میڈیا کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے اہل قلم اور فنکار وں کی یہ حالت کیوں ہوگئی ہے اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے ، ایک تو یہ بات ہے کہ خیبر پختونخوا کے اہل قلم کی کتابیں شائع کرنے کے لیئے کوئی پبلشنگ ادارہ سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا اور عام طور پر ادباء وشعراء اپنی کتابیں رقم اپنے پلے سے خرچ کر کے چھپواتے رہتے ہیں ۔ مگر کتابیں چھپنے کے بعد ان کا کوئی خریدار ہی نہیں ہوتا کہ کم از کم متعلقہ ادیب یا شاعر کو زیادہ نہ تو اپنی ہی رقم واپس مل سکے ۔
یہ تو چند جملہ ہائے معتر فہ تھے ۔ اصل بات تو خیبرپختونخوا کے اہل قلم اور فنکاروں کی کسمپرسی پر تبصرہ کرنا تھا اور اس حوالے سے اگر اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے وفاقی وزیر مملکت مریم اورنگزیب ہی کی توجہ اصل صورتحال کی جانب دلائی جائے تو شاید غلط نہ ہوگا اور وہ یہ ہے کہ لاہور ،کراچی ،ملتان ، فیصل آباد، وغیرہ میں تو فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے ساتھ ساتھ کئی میڈیا چینلز پر مزاحیہ شوز میں بھی وہاں کے فنکار حصہ لیکر بھاری معاوضے وصول کر کے اپنے گھروں کے اخراجات خوش اسلوبی سے چلاتے رہتے ہیں ۔ مگر یہاں خیبر پختونخوا میں نہ تو سٹیج ڈرامے ہوتے ہیں ، نہ ہی میڈیا چینلز ایسے موجود ہیں جن سے فنکار وں کو معقول آمدن ہوتی ہو لے دے کر یا تو پی ٹی وی ہے یا پھر پشتو اور ہندکو زبان میں اسلام آباد بیسڈ ایک چینل تھوڑا بہت کام معمولی معاوضے پر دے دیتا ہے ، جبکہ پی ٹی وی پشاور سے تو اب علاقائی ڈراموں کی وہ تعداد بھی نہیں ہے کہ فنکار وں کو فنی سر گرمیوں کی وجہ سے معقول اور مستقل آمدن ہو رہی ہو ، اکا دکا پشتو اور ہندکو پروگراموں کی وجہ سے بھلا کتنے فنکاران پروگراموں کا حصہ بن سکتے ہیں ۔
پی ٹی وی پشاور سے عرصہ ہوا کوئی اردو ڈرامہ سیریل یا کوئی مزاحیہ پروگرام نشر نہیں ہوا ۔ اور جو علاقائی پروگرام نشر ہو بھی رہے ہیں ان کے معاوضو ں کی ادائیگی کیلئے بھی فنکاروں کو کئی کئی ماہ تک انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑتا ہے اس لئے محترم مریم اورنگزیب پی ٹی وی پشاور پر علاقائی پروگراموں کے ساتھ ساتھ اردو پروگراموں کی تعد اد بڑھانے کے لئے اقدام اٹھانے کے ساتھ ساتھ فنکاروں کے معاوضوں کی بھی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے پر اگر توجہ دیں تو یہاں کے اہل قلم اور فنکار وں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ وہ اپنی صلاحیتوں کے بل پر ہی رزق حلا ل کمانے اور گھر کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو سکیں گے ۔ تو بیماری بھی ان کے قریب نہیں بھٹکے گی ۔ بقول ن۔م ۔راشد
مرنا اس جہاں میں کوئی حادثہ نہیں
اس دور ناگوار میںجینا کمال ہے

متعلقہ خبریں