مشرقیات

مشرقیات

پیر 3ربیع الثانی 699ھ کو مقام نبک میںاہل دمشق کے نمائندہ اور اسلام کے سفیر علامہ ابن تیمیہ اور تاتاریوں کے جبار بادشاہ قازان کی ملاقات ہوئی ، شیخ الدین بن الا نجا جو دمشق سے ابن تیمیہ کے ساتھ گئے تھے اور اس مجلس میں شریک تھے ، اس ملاقات کا حال بیان کرتے ہیں ۔ میں شیخ کے ساتھ اس مجلس میں موجود تھا ، وہ سلطان (قازان ) کو عدل و انصاف کی آیات و احا دیث اور خدا اور رسول ۖ کے ارشا دات و احکامات سناتے تھے۔ سلطان کو اس سے کچھ نا گواری نہیں ہوئی ، وہ بڑی توجہ سے کان لگائے ان کی گفتگو سن رہا تھا اور ہمہ تن متوجہ تھا ، اس پر ان کا رعب ایسا طاری تھا اور وہ ان سے ایسا متا ثر تھا کہ اس نے ان لوگوں سے پوچھا کہ یہ عالم کون ہے ؟ لوگوں نے ان کا تعارف کرایا اور ان کے علمی اور عملی کمالات کا تذکرہ کیا ۔ علامہ ابن تیمیہ نے قازان سے کہا کہ تمہارا دعویٰ ہے کہ تم مسلمان ہو اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے ساتھ قاضی ، امام ، شیخ اور مئو ذن بھی رہا کرتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود تم نے ہم مسلما نوں پر حملہ کیا ، حالا نکہ تمہارے باپ اور دادا کافر ہونے کے با وجود ایسے اعمال سے محترز رہے ، انہوں نے جو کچھ عہد کیا تھا ، وہ پورا کیا اور تم نے جو عہد کیا ، وہ توڑ دیا اور جو کچھ کہا تھا ، اس کو پورا نہیں کیا اور بند گان خدا پر ظلم کیا ۔
شیخ کمال الدین کہتے ہیں کہ ایسی گفتگو کرنے کے با وجود شیخ بڑے اعزا ز و اکرام کے ساتھ واپس آئے ، تا تاریوں کے ہاتھ میں مسلمان قید تھے ان کی بڑی تعداد ان کی حسن سفارش سے چھوڑ دی گئی ، شیخ کہا کرتے تھے کہ خدا کے علاوہ کسی سے وہ ڈرے گا جس کے دل میں کوئی بیماری ہے۔ ، امام احمد ابن حنبل سے کسی نے حکام سے اپنے اندیشہ اور خوف کا اظہار کیا ،فرمایا کہ اگر تم تند رست ہوتے تو کسی سے نہ ڈرتے ۔
ایک دوسرے ہمراہی قاضی القضاء ابوالعباس اتنا اور اضافہ فرماتے ہیں۔اس مجلس میں ابن تیمیہ اور ان کے رفقا ء کے سامنے کھانا رکھا گیا اور سب شریک ہوگئے ، لیکن اب تیمیہ دست کش رہے ، دریافت کیا گیا کہ آپ کیوں نہیں شرکت کرتے ؟ فرمایا کہ یہ کھانا کب جائز ہے ؟ یہ تو غریب مسلمانوں کی بھیڑ بکریوں کے گوشت سے تیار کیا گیا ہے اور لوگوں کے درختوں کی لکٹری کے ایندھن سے پکایا گیا ہے۔ قازان نے ان سے دعا کی درخواست کی ، شیخ نے ان الفاظ کے ساتھ دعا کی کہ خدا یا اگر آپ کے نزدیک قازان کا اس جنگ سے مقصد تیرے کلمے کی بلند ی اور تیرے راستے میں جہاد ہے تو اس کی مدد فرما اوراگر سلطنت دنیا اور حرص و ہوس ہے ، اس سے تو سمجھ لے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شیخ دعا کر رہے تھے اور قازان آمین کہہ رہا تھا ، ہمارا حال یہ تھا کہ ہم اپنے کپڑے سمیٹ رہے تھے کہ اب جلاد کو ان کی گردن مارنے کا حکم ہوگا ، ان کے خون کے چھینٹے ہمارے دامن پر نہ آئیں ۔ جب مجلس بر خاست ہوئی اور ہم دربار کے باہر آئے تو ہم نے کہا کہ آپ نے تو ہماری ہلاکت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی ۔

متعلقہ خبریں