افغانستان داخلی استحکام پر توجہ دے

افغانستان داخلی استحکام پر توجہ دے

کابل کے انتہائی محفوظ سفارتی زون میں واٹر ٹینکر میں رکھے گئے بارودی مواد کے شدید ترین دھماکہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بہت بڑی تعداد میں افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ سنگین اور دل ہلا دینے والا ہے۔ طالبان ترجمان نے فوری طور پر اس واقعے سے یکسر لا تعلقی کا اظہار کیا ہے جبکہ داعش کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول کرلی گئی ہے۔ اس واقعے کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبول کئے جانے کے بعد افغانستان کی جانب سے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے طے شدہ میچ کھیلنے سے انکار سے اس امر کا تاثر ملتا ہے کہ افغان حکام کو حسب عادت اس سنگین واقعے میں بھی شاید پڑوسیوں پر شک ہے باوجود اس کے کہ پاکستان نے کابل میں امن کانفرنس میں شرکت کا عندیہ دیا ہوا ہے جو اس رویے کے برعکس ہے جو مختلف فورمز میں شرکت کے حوالے سے افغان حکمران اپناتے رہے ہیں۔ بہر حال افغانستان کے دارالحکومت کابل کے انتہائی حساس اور ہر وقت تہہ در تہہ حفاظتی حصار اور حفاظتی نگاہوں کا مرکز رہنے والے علاقے میں اس قسم کے حملے کی منصوبہ بندی اور اس میں کامیابی ناقابل یقین ہے۔ اس حملے سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ افغانستان میں داعش منظم تنظیم بن چکی ہے۔ قبل ازیں یہ اطلاعات تسلسل سے مل رہی تھیں کہ عراق اور شام سے فرار ہونے والے داعش کے کارندے افغانستان میں قدم جما رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سے یہ تاثر بے جا نہ ہوگا کہ داعش عراق اور شام سے افغانستان منتقل ہوچکی ہے جس کو روکنے کی بروقت اور سنجیدہ سعی نہ کرنے کی غلطی کی گئی۔ اگر اس ضمن میں افغان حکومت' امریکہ اور اتحادی ممالک بروقت منصوبہ بندی اور اقدامات کرتے تو افغانستان میں داعش اتنی قوت نہ پکڑ پاتی کہ محفوظ ترین زون میں دھماکے کی منصوبہ بندی پر عمل کر پاتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس دھماکے کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو افغانستان میں امن کے خواہاں نہیں۔ گوکہ بیرونی قوتیں افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں امن کے قیام کے ایجنڈے کے تحت آئی تھیں لیکن ان کی آمد کے بعد افغانستان میں کس قدر امن بحال ہوا ہے اور لوگوں کی زندگیاں کس قدر محفوظ ہوگئی ہیں اس بارے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ افغانستان میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی واقعہ رونما نہ ہوتا ہو۔ گو کہ ہر بڑے واقعے کے بعد افغان حکام آنکھیں بند کرکے ایک ہی راگ الاپتے ہیں اور ان کو اس سے آگے دیکھنے کی توفیق نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود پاکستان نے بار ہا مختلف فورمز اور مواقع پر ان کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ افغانستان میں را کا وسیع نیٹ ورک نہ صرف پاکستان کے لئے خطرات کا باعث ہے بلکہ یہی نیٹ ورک افغانستان کے اندر عدم استحکام لا کر افغانستان کو پاکستان سے بد ظن کرانے کی سعی میں ہے۔ بھارت کا ایسا کرنے کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ وہ ان غلط فہمیوں کو مہمیز دے کر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف آسانی سے استعمال کرتا رہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان چمن بارڈر کے کھلنے کے اگلے ہی دنوں اس کارروائی سے اس امر کا مزید اظہار ہوتا ہے کہ بھارت کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان ضروری تعلقات بھی گوارا نہیں۔ ہمیں مل کر اس امر کا جائزہ لینا چاہئے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی سے کن ممالک کا مفاد وابستہ ہے اور اس کی آڑ میں کون اپنا الو سیدھا کرتا ہے۔ یہ حقیقت کوئی ایسی پوشیدہ اور پیچیدہ نہیں کہ اس کو جانچنے کے لئے کسی بڑے فلسفے اور دانش کی ضرورت ہو لیکن اس کے باوجود چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ملک ہی کے بارے میں عدم اعتماد کا اظہار سامنے آتا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی اور دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا ادراک نہ کیاگیا تو خدا نخواستہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان معمول کے پڑوسیوں کے تعلقات بھی شاید نہ رہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر دو جانب سے غلط فہمیوں کے ازالے اور اعتماد سازی کے اقدامات کرنا دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں پاکستانی حکومت اور وزارت خارجہ کو گوکہ مطعون کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حال ہی میں سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر افغانستان کو قائل کرنے کی سعی کی لیکن دوسری جانب سے درشت لب و لہجہ تبدیل نہیں ہوا۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ دونوں ممالک جغرافیائی اور علاقائی طور پر ا س قدر پیوست ہیں کہ ایک دوسرے پر ان کا دار و مدار بڑھ جانا فطری امر ہے۔ افغانستان کو اس ضرورت اور اہمیت کا احساس ہوتے ہوئے بھی وہ مشکل فیصلے کرکے پاکستا ن پر انحصار کم سے کم کرنے کی سعی میں ہے۔ یہ اتنی بڑی غلطی ہے جس کا افغانستان کو بعد میں احساس ہوگا۔ افغانستان میں داعش اور را کی ممکنہ ملی بھگت اور حالیہ کارروائی کے بعد تو افغانستان کی حکومت کا امن اور بقاء ہی خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔ اس نازک ترین موڑ پر افغانستان کو اس امر کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا کہ افغانستان میں موجود امریکہ اور اتحادی افواج پر انحصار اور بھروسہ کیا جائے یا پھر افغانستان کی داخلی قوتوں کو مضبوط اور یکجا کرکے بیرونی اثرات کا مقابلہ کیا جائے۔ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار سے افغان حکام کی معاملت ایک مثبت کاوش متصور ہوتی ہے لیکن افغانستان میں قیام امن کے لئے یہ کافی نہیں۔ افغانستان میں داخلی انتشار کے خاتمے کے لئے افغانستان کو ان تمام افغان قوتوں سے معاملات طے کرنے ہوں گے جس کے بعد ہی افغانستان کی حکومت اس پوزیشن میں آئے گی کہ وہ غیروں کی بیساکھیوں کو اتار پھینکے۔ افغانستان میں داعش کا پیر جمانا افغان حکومت اور طالبان دونوں کے لئے ناقابل قبول ہونا چاہئے جس کا تقاضا یہ ہے کہ سارے ہم وطن کسی ایسے فارمولے پر اتفاق پیدا کر لیں کہ افغانستان میں ایک نمائندہ حکومت وجود میں آئے۔ جب تک افغانستان میں ایک مستحکم حکومت کا قیام عمل میں نہیں آتا اور وہ داخلی کشاکش سے یکسو نہیں ہوتی تب تک اس طرح کے خطرات کی روک تھام اور مقابلہ مشکل ہوگا۔

متعلقہ خبریں