نہال ہاشمی کو معذرت کرنے کی ہدایت کیوں نہ کی گئی؟

نہال ہاشمی کو معذرت کرنے کی ہدایت کیوں نہ کی گئی؟

مسلم لیگ(ن) کے مستعفی سینیٹر نہال ہاشمی نے ایک جذباتی تقریر میں جن خیالات کا اظہار کیا اس کے بعد ان کا استعفیٰ' مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی ان کے خلاف کارروائی اور اس کا عدالت کی طرف سے نوٹس لیا جانا وہ ممکنات تھے جو کئے گئے۔ عدالتی کارروائی اور سزا بھی اگر ہو تب بھی وہ پیغام پوری طرح سے دیا جا چکا اور پہنچایا جا چکا جو مقصود تھا۔ سیاسی جماعتوں میں بعض اوقات کوئی پیغام دینا مقصود ہو تو کوئی ایک قربانی کا بکرا بنتا ہے اور بعد ازاں قیادت اسے مذکورہ شخصیت کے ذاتی خیالات قرار دے کر دامن بچانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس طرح کے معاملات در حقیقت اس طرح کی معصومیت اور سادگی کے ساتھ انجام نہیں پاتے بلکہ اس کے پس پردہ ایک سوچ اور حکمت عملی ضرور کار فرما ہوتی ہوگی۔ اگر دیکھا جائے تو یہ پیغام صاف اور واضح بھی ہے اور بیک وقت مبہم بھی جس کی مختلف وضاحت اور تاویل نا ممکن نہیں۔ اس کے مخاطبین دو تھے یا دو سے زائد یہ اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ایک سینئر سیاستدان جو خود قانون دان بھی ہیں اس طرح کی کھلی دھمکی پر کیوں اتر آئے۔ ان کی دانش اور ذہنی توازن کبھی لڑکھڑا یا نہیں اور نہ ہی نہال ہاشمی جذبات سے اس قدر مغلوب ہونے کی عمر کے ہیں کہ بلا سوچے سمجھے الفاظ کی ادائیگی ہوگئی۔ اگر غلطی اور جذباتیت کے امکان کو رد نہ بھی کیاجائے تو بھی ایک دن سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بیان کو واپس نہ لیا گیااور نہ ہی معذرت کرکے اس کا ازالہ کرنے کی سعی کی گئی بلکہ اس پر قائم رہتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دیا گیا۔ پارٹی کی جانب سے تادیبی کارروائی تو ضرور کی گئی لیکن بیان واپس لینے اور معذرت کرنے کی ہدایت نہ کی گئی۔ اگر ایسا کیا جاتا تو صورتحال ایسی نہ ہوتی جیسی اب ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ احتساب ہر ایک کاہونا چاہئے البتہ اس کے کردار غیر متنازعہ اور قانون کے اندر رہتے ہوئے معاملات کو آگے بڑھانے والے ہوں تاکہ کسی جانب یہ تاثرنہ ابھرے کہ انصاف کے تقاضے ملحوظ خاطر نہیں رکھے گئے یا کسی عناد کا اظہار کیاگیا۔ اس سخت رد عمل کے پس پردہ کچھ ایسے معاملات ضرور دکھائی دیتے ہیں جو براہ راست مخاطبت کا محرک بنے۔ اگر کوشش کی جاتی تو اس کی نوبت نہ آنے دی جا سکتی تھی۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم کے صاحبزادے سے ایسا کیا رویہ روا رکھا گیا جو ایک سفید مو اور تجربہ کار پارلیمنٹرین کے جذبات کی انگیخت کا باعث بنے۔
جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات اتفاقی یا قصداً؟
ایبٹ آباد میں گزشتہ روز اور چترال میں چند روز قبل جنگل میں اچانک آتشزدگی کے باعث کروڑوں روپے مالیت کے درختوں کے جل جانے کے واقعات کو اتفاقیہ قرار دیا جائے یا پھر اس کے پس پردہ ٹمبر مافیا اور محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کا ہاتھ تلاش کیا جائے جو درختوں کی بے دریغ کٹائی کے بعد ثبوت مٹانے کے لئے جنگل ہی کو آگ لگا دیتے ہیں۔ سالانہ تواتر کے ساتھ پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعات ایسی جگہوں ہی پر کیوں پیش آتے ہیں جہاں ٹمبر مافیا اور محکمہ جنگلات کی ملی بھگت سے درختوں کی کٹائی کی بات زبان زد عام و خاص ہو۔ چترال کے جس علاقے میں اس سال جنگ میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے وہ گھنے جنگلات کے علاوہ ٹمبر مافیا کامن پسند علاقہ ہونے کے طور پر شہرت رکھتا ہے۔ بہر حال جب تک حقیقی صورتحال سامنے نہیں آتی وثوق سے کسی عنصر کو الزام نہیں دیا جاسکتا۔ حقیقت حال سے آگاہی کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ چترال اور ایبٹ آباد میں جنگل میں آگ لگنے کی وجوہات اور اس سے ممکنہ طور پر مفاد حاصل کرنے کے شبے کی پوری طرح تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ اصل صورتحال سامنے آئے۔ محکمہ جنگلات کو جنگلات کے تحفظ اور آتشزدگی کے کسی واقعے کی صورت میں مقامی آبادی کے تعاون سے اس پر فوری قابو پانے کے لئے حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ آگ لگانے کی وجوہات کا بھی جائزہ لے کر ان کے سد باب پر بھی توجہ دی جائے۔

متعلقہ خبریں