نہال ہاشمی کی ذاتی رائے اور مسلم لیگ ن کا مؤقف

نہال ہاشمی کی ذاتی رائے اور مسلم لیگ ن کا مؤقف

جب نہال ہاشمی نے تقریر کرتے ہوئے کہا:''تم جس کا احتساب کر رہے ہو وہ نواز شریف کا بیٹا ہے ، ہم نواز شریف کے کارکن ہیں ۔ جنہوں نے حساب لیا اور جو لے رہے ہیں کان کھول کر سن لو ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔ تم آج حاضر سروس ہو کل ریٹائر ہو جاؤ گے۔ ہم تمہارے بچوں اور خاندان کے لیے پاکستان کی زمین تنگ کر دیں گے۔'' اس وقت وہ مسلم لیگ ن سندھ کے جنرل سیکرٹری تھے۔ کسی پارٹی کا جنرل سیکرٹری (صوبائی ہی سہی ) کوئی یونہی نہیں بن جاتا۔ سالہا سال تک پارٹی کی پالیسی کے مطالعے اور فہم ، پارٹی کے تشخص ، اس کے کردار اور رویے کی سمجھ حاصل کرنے اور مختلف مراحل میں پارٹی کے لیے سیاسی کام انجام دینے کے بعد کسی کو سیاسی پارٹی کے اتنے اہم عہدے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے تاکہ وہ پارٹی کے کردار کی مجسم علامت کے طور پر جانا جائے۔ لیکن وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ نہال ہاشمی نے جو کچھ کہا وہ ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے اس کا نواز شریف کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔ بطور وفاقی وزیر محترمہ مریم اورنگزیب پاکستان مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں۔ لیکن ان کے پاس مسلم لیگ ن کا کون سا عہدہ ہے یہ واضح نہیں ہے۔ ان کا بھی نواز شریف خاندان سے کوئی تعلق نہیں ۔ بطور جنرل سیکرٹری سندھ نہال ہاشمی کے پاس مسلم لیگ ن کا اہم عہدہ تھا۔ اس تقریر کے بعد نہال ہاشمی نے کہا کہ:'' میری تقریر غیر جمہوری افراد کے خلاف تھی۔ مسلم لیگ ن کا ہر دور میں احتساب ہوتا رہا ہے ۔ اگر مجھے جے آئی ٹی کے خلاف بولنا ہوتا تو نام لیتا۔ احتساب کے نام پر انتقام نہیں ہونا چاہیے۔ جب پاکستان ترقی کرتا ہے ایسا مائنڈ سیٹ آ جاتا ہے جو پاکستان کو پیچھے لے جانا چاہتا ہے۔ ان کی تقریر اور وضاحتی بیان میں قارئین کیا فرق دیکھتے ہیں اور خود نہال ہاشمی عدالت میں اس حوالے سے کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں یہ ان کا عدالتی بیان آنے کے بعد ہی معلوم ہوگا۔ جنرل سیکرٹری سندھ کے علاوہ بھی نہال ہاشمی کی حیثیت سینیٹر کی تھی۔ سینیٹ کی رکنیت قومی اسمبلی کے ارکان کے نمائندے ایسی سمجھی جانی چاہیے کیونکہ انہی کی عددی قوت کی بنا پر سینیٹر بنتے ہیں۔ کہنا یہ مقصود ہے کہ نہال ہاشمی کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں ،آزمودہ کار سیاسی ورکر اور ذمہ دار پارٹی عہدیدار تھے۔ جن کے دو بیان سطور بالا میں درج کیے گئے ہیں۔ سینیٹر نہال ہاشمی کی تقریر کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں زیر غور ہے اس لیے اس پر رائے زنی سے گریز ہی بہتر ہے۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے نہال ہاشمی کے اس بیان سے مطلع ہونے کے بعد ان کی پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل کر دی ہے۔ (رکنیت کے بارے میں مسلم لیگ ن کے کیا قواعد ہیں دستیاب نہیں ہیں)۔انہوں نے نہال ہاشمی کو وزیرا عظم ہاؤس طلب کیا، پھر ان سے ملنے سے انکار کیا۔ اور اپنے سٹاف کے ذریعے کہلوا دیا کہ وہ سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیں جو انہوں نے بہت فرمانبرداری سے دے دیا۔ کیا انہوں نے پارٹی کے ڈسپلن سے متعلق پارٹی کی کسی تنظیم سے رائے لی؟ بادی النظر میں انہوں نے اپنی پارٹی کے ذمہ دار عہدیدار کی زیر ِ نظر تقریرٹی وی پر نشر ہوتے ہی عہدے دار کے خلاف ایکشن لے لیا ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے سینئر پارٹی سربراہ نہال ہاشمی کو وہ وضاحت کرنے کا موقع بھی نہیں دیا جو انہوں نے تقریر کے متعلق بیان میں کی تھی۔ کیا خبر نہال ہاشمی کے پاس اس وضاحت کے علاوہ بھی کچھ کہنے کو ہو جو اپنی پارٹی کے لیڈر سے کہنا کا موقع انہیں نہیں ملا۔ اس فوری فیصلے کے باوجود مسلم لیگ ن سے اختلاف رکھنے والے بعض سیاسی لیڈر کہہ رہے ہیں کہ نہال ہاشمی کی تقریر کے ذریعے جو پیغام پہنچانا مقصود تھا وہ پہنچ گیا ہے۔ یہ بھی بداعتمادی کی بات ہے۔ تاحال نہال ہاشی کے خلاف پارٹی ڈسپلن کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف نے اقدام کیا ہے۔ یقینا اس اقدام سے ان کی نہال ہاشمی کی تقریر پر ناپسندیدگی ظاہر ہے لیکن انہوں نے اس بارے میں تاحال کہا کچھ نہیں۔ وزیر مملکت مریم اورنگزیب اور گورنر محمد زبیر نے کہا ہے کہ یہ نہال ہاشمی کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے ۔ یعنی یہ رائے نہ مسلم لیگ ن کی ہے ، نہ حکومت کی ہے اور نہ نواز شریف خاندان سے اس کا تعلق ہے ۔ لیکن ذمہ دار عہدے دار ہونے کے حوالے سے ان سے یہ توقع ہونی چاہیے کہ وہ نہال ہاشمی کی ذاتی رائے جو ان کی پارٹی کے صوبائی سیکرٹری جنرل اور سینیٹر کی ذاتی رائے ہے اس پر تبصرہ ضرور کریں کہ بطور ذاتی رائے کیا اسے قبول کیا جاسکتا ہے ۔ نہال ہاشمی تو خیر ''غیر جمہوری لوگوں'' کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ ان کے بچوں اور ان کے اہل خانہ پر پاکستان کی زمین تنگ کر دی جائے گی تو کیا یہ ذاتی رائے شخصی آزادی کے طور پر قابل قبول ہو سکتی ہے؟ نہال ہاشمی کی تقریر کا مسلم لیگ ن کی کسی بھی سطح کی تنظیم نے نوٹس نہیں لیا ۔ حتیٰ کہ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی نہال ہاشمی سے جو اظہار ناراضگی کیا وہ صرف نہال ہاشمی تک محدود کیا حالانکہ یہ نہال ہاشمی ایک رویے کا اظہار کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے نہال ہاشمی کو سینیٹر شپ سے الگ کر دیا لیکن مسلم لیگ ن کو نہال ہاشمی کے رویے سے الگ کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ یا نہال ہاشمی کی مسلم لیگ (ن) پارٹی کی رکنیت معطل کی گئی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ پارٹی کی کسی سطح کی تنظیم ان کے مؤقف کی سماعت کرے گی۔ نہال ہاشمی چونکہ ایک سینئر عہدیدار رہے ہیں اس لیے پارٹی کی کوئی اعلیٰ سطح تنظیم ہی ان کے مقدمے کی سماعت کی مجاز ہو سکتی ہے۔ اس تنظیم کا جو بھی فیصلہ ہو گا وہ مسلم لیگ ن کے تمام ورکروں کے لیے رہنمائی تصور کیا جائے گا۔ چونکہ وزیراعظم نواز شریف بطور پارٹی سربراہ کے نہال ہاشمی کے بارے میں فیصلہ کر چکے ہیں اس لیے خود انہیں اپنے فیصلے کی سرعام وضاحت کرنی چاہیے تاکہ پارٹی ورکروں کے لیے مسلم لیگ ن کے مؤقف اور نہال ہاشمی کی ذاتی رائے کے درمیان فرق واضح ہو اور پاکستان کے ووٹر یہ سمجھ سکیں کہ مسلم لیگ ن کا اصلی سرکاری مؤقف کیا ہے۔

متعلقہ خبریں