کیا خیر خوا ہ ہیں؟

کیا خیر خوا ہ ہیں؟

پاکستان میں ایک عمل کو دوام حاصل ہے کہ حکمر ان اپنا اقتدار مضبوط کر نے پر اپنی تما م توانائیاںصرف کر تے ہیں جب کہ ان کے مخالف اقتدار کی کر سی کھسکا نے میں وقت برباد کرتے ہیں۔ کسی میں یہ شعور نہیں کہ وطن عزیز کے بھی کچھ تقاضے ہیں قو م کی جانب سے کچھ حقوق وفرائض کی ذمہ داری بھی کند ھو ںپر پڑ ی ہو ئی ہے ۔مئی 2013ء میں جو انتخابات ہوئے تب سے قوم کے کا نو ں میں ایک بے ہنگم غوں غاں کی آوازیں آرہی ہیںکہ چور چور ، احتساب ، احتساب ، بدکلا می ، بد جذباتی وغیر ہ کا ہی وتیر ہ گونج رہا ہے ۔ حکومت کے ساتھ ہی اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے کہ ملک کے استحکا م ، عوام کی خوشحالی کے لیے اپنا کر دار اد اکر ے۔ یہ کیا تک ہے کہ اقتدار کی کر سی کھینچنے اور اس کوکھسکنے سے بچانے میں قوم کے چار سال برباد کردئیے گئے۔ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ توانا ئی کا بحران ہے۔ مر حوم ایو ب خان کے دور کے سوا کسی بھی آنے والے حکمر ان نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں کا لا باغ ڈیم بنا نے کی سعی کی گئی جس کو بھارتی لا بی نے قوم پر ستی کے روپ میں سبو تا ژ کر دیا۔ ایک سیا سی جما عت نے اس تکنیکی معاملے کو سیاسی رنگ میںبدل کر پو ری قوم کو ایک عظیم تر قیا تی منصوبے سے محروم کر دیا ۔ کا لا باغ ڈیم کے بارے میں کسی ماہر نے آج تک رائے نہیں دی کہ یہ ملک کے لیے یا ملک کے کسی حصے کے لیے تباہی کا باعث بنے گا۔ جو مخالفت کر رہے ہیں انہو ں نے بھی کسی ما ہر کو پیش نہیں کیا کہ وہ قوم کو اس کی تباہ کا ریو ں کے بارے میں رائے دے سکے۔ خیر اس وقت کا لا با غ ڈیم مو ضو ع نہیں ہے بلکہ توانا ئی کے بحران سے پید ا ہو نے والے حالا ت کا جائزہ لینا ہے ۔ صوبہ کے پی کے میںگزشتہ کئی دنو ں سے تحریک انصاف کے لیڈرو ں کی سرپر ستی میں لوڈشیڈنگ کے خلا ف زبردست احتجا جی مہم چل رہی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کھل کر احتجا ج ہو رہا ہے ۔ توانائی قومی مسئلہ ہے جس میںہر سیاسی جما عت کو چاہیے کہ وہ اس کے حل کے لیے اپنا کر دا ر ادا کر ے نہ کہ امن وامان کا ساما ن پید ا کر ے اور عوام سے ہمدر دی کے اظہا ر کے لیے اپنی جدوجہد کے پھریر ے لہر ائے۔ جنرل ضیاء الحق ، بے نظیر بھٹو ، نواز شریف ، پرویز مشرف اور پھر آصف زرداری تک کسی نے بھی اگر جتنی بیا ن بازی اس بارے میں کی اگر اس کے مقابلے میں پچاس فی صد عملی قدم اٹھا یا ہوتا تو نہ صر ف بجلی کا بحران نا پید ہو جا تا بلکہ ملک ترقی کی راہ میں کا فی آگے تک نکل جا تا ۔ حقائق کہتے ہیں کہ پاکستان کو تقریباً چو بیس ہزار میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے گزشتہ سال سے پاکستان کو آٹھ ہز ار میگا وٹ کی کمی ہے ۔اس وقت پاکستان میںتیس سے پینتیس فی صد بجلی پانی سے بنا ئی جا تی ہے ، باقی پچیس سے ستائیس فی صد گیس اور فیو ل جلا کر بنا ئی جا تی ہے ، باقی نیوکلیئر اور دوسری ٹیکنا لو جی سے بجلی پید ا کی جا تی ہے ، ان حالات میں جا ئزہ لیا جائے کہ پا کستان میں بجلی پید ا کر نے کی کیا صلا حیت ہے اور کیا ذرائع ہیں تو افسو س سے کہنا پڑتا ہے کہ گلگت بلتستا ن میں جو پانی ہے اس سے دولاکھ میگا وٹ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے گویا صرف گلگت بلتستان سے پاکستان جتنے دس ملکو ں کو بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔ صرف گلگت بلتستان ہی منبع نہیں ہے بلکہ اور علا قے بھی ہیں جہا ں سے مستفید ہو ا جا سکتا ہے ۔ اس سے ہٹ کر بھی پا کستان کے پا س ایک شاند ار ذریعہ ہے جس کو ٹیکنا لو جی کی زبان میں ونڈ کاریڈور کہا جا تا ہے یعنی آندھی کا راستہ۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تیز ہو ا کا دباؤ ۔ یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے ۔ سائنسی اصول کے مطا بق گرم ہو ا اوپر کو اٹھتی ہے اور اس سے پید ا ہو نے والے خلا کو پر کر نے کے لیے ٹھنڈ ی ہو ا جگہ لیتی ہے چنا نچہ کر اچی کے جنو ب میں سمند ر ہے جس کی ہو ا ٹھنڈی ہو تی ہے اور کر اچی سے کوئی دو اڑھائی سو کلو میٹر پر ایک صحرا واقع ہے جس کی ہو اگر م ہو تی ہے۔ جب وہ اوپر کو اٹھتی ہے تو اس سے جو خلا ء پید ا ہو تا اس کو پر کرنے کے لیے اڑھائی سے تین سو کلو میٹر کی رفتا ر سے سمند رکی ہو ا صحرا میں داخل ہوتی ہے ۔ یہ نظام جاری و ساری رہتا ہے کیوں کہ سمند ر ٹھنڈا رہتا ہے اور صحرا گر م۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے یہ صحرا ونڈ ٹربائن لگا نے کے لیے مو زوںترین ہے اگر تیز ہو اؤں سے چلنے والے ٹربائن لگائے جا ئیں تو یہا ں سے ہمیشہ بجلی ملے گی ،پاکستان میں اس ذریعے سے پچا س ہزار میگا واٹ بجلی بہ آ سانی میسر ہو سکتی ہے۔ چنا نچہ پاکستان کو صرف گلگت بلتستان اور سند ھ وبلو چستان کے ونڈ کارریڈوز سے اڑھائی لاکھ بجلی حاصل ہو سکتی ہے جبکہ پاکستان کو صرف چوبیس ہزار میگا واٹ کی ضرورت ہے مگر اس کا کیا جا ئے کہ عوام کے غم خوار رہنما ہمہ وقت یا تو اقتدار کو بچانے میں تو انائیاں صرف کرتے رہتے ہیں یا اقتدارچھیننے میں قوت لگائے رکھتے ہیں۔ اس سے بھی حیران کن امریہ ہے کہ ما ہر ین کی رائے ہے کہ اگر سورج سال میں ایک سو ساٹھ دن نکلے تو سولر انر جی میسر ہے صرف کر اچی میں تین سو دن سو رج نکلتا ہے جس سے اند ازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ سولر انرجی کی دولت سے پاکستان کس قدر مالا مال ہے۔ کر اچی کے علا وہ دوسرے علا قے بھی ہیں جہا ں سے مستفیدہو ا جا سکتا ہے ۔ چین نے حال ہی میں سمندر کے اندر سولر انرجی کا مر کز قائم کر کے سمند ری حدو د سے فائدہ اٹھایا ہے اور اپنی زمین کو بچایا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ پا کستان کے لیڈر اپنی ناک سے آگے دیکھناہی نہیں چاہتے۔ ان کو تو حرص اقتدار کے جر ثومے چاٹ رہے ہیں حکمر انی کے نشے سے ہٹیں تو ان کو ملک کی فکر ہو گی ۔

متعلقہ خبریں