د چا خو بہ منو

د چا خو بہ منو

عیدین اور رمضان کا چاند نظر آنے یا نہ آنے کا تنازعہ کوئی نیا نہیں۔ اسلامی تاریخ میں یہ صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ ہمارے ایک گزشتہ کالم د چا اومنو پر کچھ معزز قارئین نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ہم سے پوچھا ہے کیا آپ نے ہفتے کی شام کو تادیر روشن اور چمکتا دمکتا چاند نہیں دیکھا؟ جی ضرور دیکھا ہے ہم چاند کے شیدائی ہیں اور چاند چہروں کا ذکر بھی اپنی شاعری میں کرتے رہتے ہیں۔ ہم نے صرف یہ عرض کیا تھا کہ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام رسول نے جمعہ کی شام کو چاند نظر نہ آنے کی جو توجیہہ پیش کی تھی اس کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری تھا۔ ہمیں اس بات سے صد فیصد اتفاق ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کے موجودہ تا حیات چیئر مین ہمیشہ نہ جانے کیوں پشاور کی غیر سرکاری زونل کمیٹی کی شہادتوں کو قبول نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ بھئی ہم تو اپنی دکان بند کرچکے فیصلہ ہوچکا' قصہ خلاص۔ ان کے رویت ہلال جیسے نازک اور حساس معاملات میں یکطرفہ فیصلے ہمیشہ متنازعہ بن جاتے ہیں جیسے کہ وطن عزیز میں ایک مدت سے یہی کچھ ہو رہا ہے۔ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام رسول نے پرائیویٹ ٹی وی چینل کے ایک ٹی وی ٹاک شو میں بتایا کہ سائنسی مشاہدات کے تحت جمعہ کی شام کو چاند کی پیدائش کے باوجود چاند اور زمین کا زاویہ 10.5 ڈگری نہ ہونے کی وجہ سے اس کا نظر آنا ممکن نہیں تھا۔ مجھے مگر کہا گیا کہ رویت ہلال کمیٹی کے کام میں مداخلت نہ کریں۔ گزشتہ سال قارئین کو یاد ہوگا جب رمضان یا پھر عیدالفطر کے موقع پر اجلاس میں محکمہ موسمیات کے کسی نمائندے نے اپنی رائے ظاہر کی تو چیئر مین صاحب نے ان کے سامنے پڑے ٹیلی فون کے تار کھینچ لئے بلکہ اس شریف آدمی کو پورے توہین آمیز پروٹوکول کے ساتھ اجلاس سے نکال دیا۔ اس بار بھی یہی کچھ صورتحال پیش آئی۔ محکمہ موسمیات نے اگرچہ چاند نظر نہ آنے کا کہا لیکن چاند نظر نہ آنے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا۔ لگتا ہے وہ کراچی سے چاند نہ دیکھنے کا مصمم ارادہ کرکے اسلام آباد تشریف لائے تھے جبھی تو انہوں نے پشاور کی غیر سرکاری زونل کمیٹی کی شہادتوں پر غور کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ ہفتے کی شام کو ایک روشن ہلال دیکھ کر عوام کو غیر سرکاری زونل کمیٹی کے فیصلے پر اطمینان ہوگیا۔ ہم ابتداء میں عرض کرچکے ہیں کہ پاکستان میں سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں کو عوام نے کبھی پسند نہیں کیا۔ اور تو اور ایک دفعہ تو 1967ء میں جنرل ایوب خان نے خود بھی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو رد کرکے نصف شب کے بعد اعلان کرکے عید کو اگلے روز منانے کا فیصلہ صادر کردیا تھا۔ ایوب خان کے اس فیصلے کو اس وقت ملک کے جید علما نے یکسر مسترد کردیا جس کی پاداش میں مولانا ابو الاعلیٰ مودودی' مولانا احتشام الحق تھانوی اور لاہور کے محمد حسن نعیمی کو تین ماہ کے لئے جیل میں بند کردیاگیا۔ عید کو اگلے روز ٹالنے کی وجہ کمیٹی کی جانب سے جمعے کے روز عید کرنے کا اعلان تھا۔ ایوب خان کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی تھی کہ جمعے کی عید حکومت کے لئے بد شگونی کا باعث بن سکتی ہے۔ یاد رہے کہ رویت ہلال کمیٹی پہلی بار 1948ء میںبنائی گئی تھی۔ کمیٹی کے فیصلے کی پہلی مخالفت 1958ء میں ہوئی۔ 1960ء میں بھی کراچی کے عوام نے مرکزی کمیٹی کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔ 17مارچ 1961ء کو بھی ایوب خان کی حکومت نے عیدالفطر منانے کا اعلان کیا تھا لیکن رات گئے کمیٹی کے چیئر مین مولانا احتشام الحق کو اعتماد میں لئے بغیر کمیٹی کا فیصلہ تبدیل کردیا۔ 18مارچ کو بیشتر لوگ روزے سے رہے۔ پشاور کے عوام نے سرکار کا ترمیم شدہ فیصلہ تسلیم نہیں کیا اور 17مارچ کو ہی عید منائی اور اس طرح 1961ء میں ملک میں تین عیدیں منانے کا ریکارڈ قائم ہوا۔ اس تنازعے کے مستقل حل کے لئے ذوالفقار علی بھٹو شہید کی پہلی حکومت میں 1974ء میں اسمبلی کی ایک قرار داد کے ذریعے ایک بار پھر رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل ہوئی۔ صوبوں میں اس کی معاونت کے لئے زونل کمیٹیاں بھی بنائی گئیں۔ کمیٹی کے کام کے لئے کوئی قواعد و ضوابط نہیں بنائے گئے۔ عیدین اور رمضان کے چاند کے دیکھنے یا نہ دیکھنے کے اعلانات کے لئے کمیٹی کو 120 رصد گاہوں (Observatries)کی معاونت حاصل ہے جو اسے سائنسی بنیادوں پر معلومات فراہم کرتی ہے۔ کمیٹی چونکہ رویت ہلال کے معاملے میں خود مختار ہے اور وہ ہمیشہ خیبر پختونخوا کی شہادتوں کو مسترد کردیتی ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ کئی سالوں سے وطن عزیز میں عوام کو ایک ہی روز روزہ رکھنے یا عیدین منانے کا موقع نصیب نہیں ہوا اور کمیٹی کے فیصلے ہمیشہ متنازعہ رہے۔ عالم اسلام پر رویت ہلال کا مسئلہ ہمیشہ بحث و تمحیث کا باعث رہا۔ ایک مسلم دانشور اور عالم محی الدین یحییٰ النواسی نے تیرہویں صدی میں المجموع کے نام سے رویت ہلال کے کچھ قواعد مرتب کئے تھے جو ابتداء ہی میں مسترد کردئیے گئے۔ اس ضمن میں بعض علماء نے یہ رائے بھی دی کہ اسلامی دنیا میں جہاں بھی چاند نظر آجائے تمام مسلمانوں کو اسے تسلیم کرلینا چاہئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ ادوار میں یہ سب فیصلے' آراء اور کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں تو پھر؟ ہم ذاتی طور پر علم فلکیات کے ماہرین ہی کے فیصلے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن جب ہم نے ہفتے کی شام کو ماہ رمضان کا چاند' روشن' واضح اور عشاء کی نماز تک آسمان پر موجود دیکھا تو ہماری نظر میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر کا جمعے کو چاند نظر نہ آنے کا فیصلہ بھی مشکوک ہوگیا۔ ڈاکٹر غلام رسول نے وہی کہا جو ان کے آلات نے انہیں بتایا بس ذرا اپنے فیصلے کو مصدقہ بنانے کے لئے ان کو محکمہ موسمیات کے ازکار رفتہ ' زنگ آلود اور پرانے آلات کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ورنہ ان کا آئندہ کے لئے بھی کوئی اعلان قابل اعتبار نہیں رہے گا اور عوام کو پشاور یا مرکزی کمیٹی میں سے کسی ایک کے فیصلے کو ماننا پڑے گا کیونکہ د چا خو بہ منو کنہ۔