انانیت کی برف پگھلنے کے آثار؟

انانیت کی برف پگھلنے کے آثار؟

کشمیری نوجوانوں کی تحریک نے بھارتی حکمرانوں کی مضبوط اعصابی کی قلعی کھولنا شروع کر دی ہے ۔کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ جب بھارت کی سیاسی اور عسکری اسٹیبلشمنٹ میں کوئی بھی شخص مسئلہ کشمیر کا نام سننے اور مفاہمت کی تجویز پر بات کرنے کو تیار نہیں تھا ۔نریندر مودی کے زیر اثر یک طرفہ ٹریفک چل رہی تھی جس کے مطابق کشمیر کا مسئلہ صرف پاکستان کی مداخلت اور دہشت گردی کا شاخسانہ تھا ۔ہر گزرتے دن کے ساتھ ہوا کے گھوڑے پر سوار بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی گرفت باگوں پر ڈھیلی پڑتی چلی گئی اور کشمیر کے حالات میں سلجھائو کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہو سکی ۔آخر کار چار مہینے تک غصے اور جھنجلاہٹ کے عالم میں کشمیریوں کے مطالبات اور ان کے وجود سے انکاری بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ'' انڈیا ٹوڈے '' کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ان کی حکومت مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے پر تیا رہے اور اس مسئلے کو کشمیری ،کشمیر اور کشمیریت کی بنیاد پر حل کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لئے وقت مقرر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ستر سال پرانا مسئلہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔اس کے ساتھ ہی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے لہجے کی تلخی بھی کچھ کم ہوتی محسوس ہو نے لگی اور ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ آگے بڑھناچاہتی ہے مگر کچھ طاقتیں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو بہتر نہیں ہونے دیں گی ۔ان کا اشارہ کسی طور بھی امریکہ کی جانب نہیں ہو سکتا ۔اُدھر چین کے وزیر خارجہ وانگ پی نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ماہ پاکستان اور بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن بن جائیں گے جس کے بعد یہ دنیا میںعلاقائی تعاون کا سب سے بڑا فورم بن جائے گا ۔اس سے یہ اندازہ ہورہا ہے کہ چین پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کے لئے پس پردہ کچھ کام کررہا ہے ۔کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ جو روایتی ،تاریخی اور خاندانی لحاظ سے کانگریس سے قریب تر ہیں مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کے خلاف اور کشمیری نوجوانوں کی حمایت میں دھاڑ رہے تھے ۔وہ کھل کر یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان اور بھارت کو بات چیت سے یہ مسئلہ حل کرنا پڑے گا ۔اچانک نریندر مودی کے دفتر سے فاروق عبداللہ کو بلاوا آیا اور وہ دہلی کی یاترا کو چل پڑے جہاں انہوں نے نریندر مودی سے ملاقات کی ان کی سختی اور کرختگی لہجے کی ملائمت میں بدل گئی اور دہلی سے واپسی پرانہوں نے اعلان کیا کہ مودی کشمیر کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں ۔ اس کے بعد فاروق عبداللہ کے لہجے میں دہلی کے لئے پہلی سی تلخی اور گھن گرج باقی نہیں رہی۔ پہلے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی جو باتیں سابق وزرا ء یشونت سنہا اور چدم برم کی صورت بھارت کی حکمران کلاس سے باہر سنائی دیتی تھیں اب یوں لگتا ہے کہ اس سوچ کو سیاسی اسٹیبلشمنٹ تک راہ مل گئی ہے جس کی عکاسی کل تک سختی گیر سوچ کے حامل بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا بیان ہے ۔تاہم بھارت کی حکمران کلاس میں دونوں سوچوں کے درمیان مخاصمت موجود ہے کیونکہ راجناتھ سنگھ کے بیان کے بعد بھارتی وزیر خزانہ اور دفاع ارون جیٹلی میدان میں آدھمکے اور اعلان کیا کہ علیحدگی پسندوں سے امن کی بحالی تک کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے ۔مسٹر جیٹلی کا کہنا تھا کہ وادی میں کچھ لوگوں سے سختی سے نمٹا جائے گا البتہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیںسٹیزن فرینڈلی اقدامات کے ذریعے نیوٹرل کیا جائے گا۔بھارت کی اس سخت گیر سوچ کی مخالفت خود بھارت کے اندر سے سامنے آئی ۔بھارت کے معروف صحافی پریم شنکر جھا نے'' انڈین ایکسپریس'' میں ایک طویل مضمون میں اس سخت گیر سوچ کی دھجیاں بکھیرکر رکھ دی ہیں ۔پریم شنکر جھا نے لکھا یہ تو وہ پالیسی ہے جس پر بی جے پی کی حکومت 2008سے عمل پیرا ہے جب کشمیر کے ایک الیکشن میں غیر متوقع ٹرن آئوٹ سامنے آنے کے بعد حکومت نے کہا تھا کہ بغاوت آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔اس کے بعد سے اب تک فوجی آپریشن جاری ہیں اور یہ آپریشن عوام کے لئے ڈرائونا خواب ہو کر رہ گئے ہیں۔شدت پسندوں میں تفریق کی یہ دوشاخی پالیسی تاریخ میں سفر کرتی رہی ہے۔امریکہ افغانستان میں گڈ اور بیڈ طالبان کی تفریق میں ناکام ہو گیا ۔مغربی اتحاد شام میں اس تفریق میں ناکام ہوگیا ۔ فری سیرین آرمی نامی معتدل سنی گروہ اور داعش میں یہی تفریق کرنے کی کوشش کی گئی مگر اول الذکر گروہ کو نیٹو نے جو ہتھیار دئیے وہ بالآخر داعش کے ہاتھ لگے ۔پریم شنکر جھا نے سوال اُٹھایا ہے کہ کیا یہ تجزیہ سیکورٹی اداروں نے نریندر مودی اور ارون جیٹلی کے سامنے نہیں رکھا ؟یہ ان کی بے جا خود اعتماد ی ہے کہ وہ کشمیر میں وہی کچھ کریں گے جو امریکہ اور نیٹو نہ کر سکے ۔پریم شنکر جھا نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ محض امن قائم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار نہ کرے بلکہ مسئلے کے سیاسی حل کے لئے بات چیت شروع کرے ۔یہ مذاکرات اس توانائی اور شورش کو راہ دے سکتے ہیںجو غصے اور ناامیدی میں ڈھل رہی ہے اور راجناتھ سنگھ کی طرف سے کشمیریت کو تسلیم کرنے کی بات اس عمل کا نقطہ ٔ آغاز بن سکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں