سوشل میڈیا اور ہڑتال ۔۔۔

سوشل میڈیا اور ہڑتال ۔۔۔

سوشل میڈیا کو یونہی تو میڈیا کے زمرے میں نہیں ڈالا جاتا بلکہ اس کی نئی طرز کی صحافتی حقیقت کو روز بہ روز تسلیم کیا جارہاہے ۔ بات بڑی سامنے کی ہے کہ سمارٹ فونز اور انٹر نیٹ کی سہولت نے عام آدمی کو بھی سوشلائز کردیا ہے ۔ کیا چیز نہیں جو سوشل میڈیا پرد یکھی نہیں جاسکتی ۔ اب تو حال یہ ہے کہ خود الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اپنی صحافت کا بہت سا مواد سوشل میڈیا سے حاصل کرتا ہے ۔ کسی بھی چینل کا کوئی نیوزبلیٹن سوشل میڈیا سے لی گئی خبروں سے خالی نہیں ہوتا ۔ سوشل میڈیا کا کمال یہ ہے کہ اس پر کوئی نئی بات یا ویڈیو منٹوں میں سفر کر کے کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے ۔ گزشتہ رو ز مسلم لیگ نون کے سینیٹر نہال ہاشمی کی ایک ویڈیو ایسی وائرل ہوئی کہ محترم کو سینیٹ سے استعفیٰ دینا پڑا اور ان کی تقریر کا سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے انہیں عدالت میں خود پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے ۔نہال ہاشمی کی اس ویڈیو سے لگتا ہے کہ وہ کسی عام سی تقریب سے خطاب کررہے تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ میاں صاحب اور ان کے خاندان کی محبت میں ''نہال'' ہوکروہ جو کچھ فرما رہے ہیں اس پر کتنا شدید ردعمل آئے گا ۔ لیکن صاحب یہ زمانہ سوشل میڈیا کا ہے اور بقول شاعر 

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
سو برے پھنسے نہال میاں جی کی محبت میں ۔گرمجوشی اور جوش خطابت میں بہت کہہ گئے ۔سیاست میں کیا کہنا ہے سے زیادہ کیا نہیں کہنا اہم ہوتا ہے۔ سو نہال ہاشمی اس فرق کو سمجھ نہ پائے اور ''زمین تنگ ''کرنے کی دھمکی دے بیٹھے ۔سوشل میڈیا کا کمال ہی یہی ہے کہ اس کی نظر صحافیانہ نہیں ہے بلکہ یہ چیزوں کو اس کی اورجنیلیٹی کے ساتھ دیکھتا ہے بلکہ یوں کہیے کہ ایک عام مگر ناقد انسان کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ سوشل میڈیاکسی بھی ٹرینڈ یا کسی بھی وائرل ویڈیو پر اپنا بے لاگ تبصرہ بھی کرتا ہے ، کیونکہ سوشل میڈیا میں کسی کو بھی کسی بھی حوالے پر بات کرنے کا پورا حق حاصل ہے سو سوشل میڈیا سے جڑے لوگ یہ حق اپنی اپنی زبان اور اپنی اپنی سوچ کے مطابق ادا کردیتے ہیں ۔ سوشل میڈیا کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ اس نے ہماری سماجی زندگی کو ہڑپ لیا ہے اور فرد اس کے ذریعے ایک مصنوعی سماجی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگیا ہے ۔ میرا موقف یہ ہے کہ ہمارے ناسٹیلجیا میں جو سماجی زندگی رچی بسی ہے اس کو واپس تو لایا نہیں جاسکتا اور ہم موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کے دور میں زندہ ہیں ۔ یہاں گیجڈز ہمارے اعصاب پر سوار ہوچکے ہیں ۔جبکہ سوشلائزیشن ایک نئے طرز کا سماج ہے ۔جو جغرافیہ سے ماوراء ہے اور لگتا ہے ہمیں اسی کے ساتھ اگلی زندگی گزارنی ہے ۔ اب مزید اس میں کیا کیا اضافے ہوتے ہیں اس پر ابھی کوئی رائے تو نہیں دی جاسکتی لیکن یہ طے ہے کہ باوجود اس کے کہ سوشلائزیشن فی الوقت اپنے لیے کو ئی واضح ضابطہ اخلاق وضع نہ کرسکا لیکن رفتہ رفتہ اس کا ایک خود کار ضابطہ اخلاق مرتب ہو بھی رہا ہے کیونکہ یہاں جھوٹ بہرحال پکڑ لیا جاتا ہے اور جہاں سچ کے واضح ہونے کے امکانات موجود ہوں وہ شے پائیدار ہی ہوتی ہے ۔ شروع میں سوشل میڈیا کی لت نوجوانوں تک محدود تھی لیکن اب بڑی عمر کے لوگ بھی ''سوشل '' ہورہے ہیں ۔ سوشل میڈیا کی دنیا بظاہر مصنوعی سی لگتی ہے لیکن جتنی یہ مصنوعی لگتی ہے اتنی ہی حقیقت سے قریب تر بھی ہے کہ یہاں فیک چیزوں کے ساتھ ساتھ حقیقتیں بھی بڑی واضح دکھائی دیتی ہے ۔ سوشل میڈیا ایک بہت بڑی عالمی تحریک بن کر ابھر رہا ہے ۔ جس میں مقامیت بھی موجود ہے اور عالمگیریت بھی۔یہاں نظریا ت کا ایک ٹکراؤبھی دیکھا جاسکتا ہے ۔گالم گلوچ بھی موجود ہے اور اصلاح کی درمیانی صورتیں بھی اس میں شامل ہیں ۔ وہ مباحث جو عام طور پر ہم نہیں کرتے وہ مباحث بھی اس سوشل میڈیا پر دیکھے جاسکتے ہیں۔عالمی سیاست اپنے مقاصد رکھتی ہے لیکن سوشل میڈیا سیاست سے بچ کر نئے انسان کو کچھ اور سبق بھی پڑھا رہا ہے ۔ جیسے کراچی شہر سے ایک تحریک اٹھی ہے اور کم از کم سوشل میڈیا کی حد تک پورے ملک کے شہروں میں پھیلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے ۔ رمضان میں فروٹ کی مصنوعی گرانی کے خلاف کراچی شہر سے تعلق رکھنے والوں نے ایک تحریک چلائی ہے کہ 2جون سے 4جون تک یعنی جمعہ ،ہفتہ اور اتوار کوکوئی بھی افطاری کے لیے فروٹ نہیں خریدے گا تاکہ گران فروشوں تک عوام کا احتجاج پہنچے ۔ یہ تحریک میرے نزدیک پاکستان کی حد تک بڑی اہم تحریک ہے ۔اس تحریک کا نہ تو کوئی لیڈر ہے نہ ہی کوئی سیاسی پارٹی اس ہڑتال کو لِیڈ کررہی ہے لیکن ارادے اور عزم کے حوالے سے سوشل میڈیا کی حد تک کافی کامیاب دکھائی دیتی ہے ۔ اگر اس تحریک میں عوام نے بھرپور حصہ لے لیا تو میں سمجھتا ہوں کہ اس تحریک سے مزید تحریکیں جنم لیں گے ۔ جو آنے والے دنوں میں بہت سے فیکٹرز کو ٹَف ٹائم دے سکتی ہیں ۔ مہنگائی ایک مشترک مسئلہ ہے امید ہے کہ لوگ اس تحریک ساتھ دیں گے ۔ اگر یہ تحریک مکمل طور ناکام بھی ہوجاتی ہے تو کم از کم سوشل میڈیا کے صارفوں کو کچھ راستے ضرور دکھاسکتی جو آئندہ دنوں میں نئے رجحانات کو جنم دے سکے ۔ہمارے ہاں ٹریڈیونین ا زم کی تو بہت سی ہڑتالیں کامیاب ہوئی ہیں لیکن یہ صارف کی ہڑتال کامیاب ہوگی یا نہیں اس کا فیصلہ توآنے والے تین دن ہی کریں گے۔ ہوسکتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم یہاں بھی ناکام ہوجائیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم کبھی ناکام نہ ہوں ۔۔۔

متعلقہ خبریں